جنازہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، الصلوات خیر من النوم، تراویح ، ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھروں میں رہنے کا حکم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھاپر جھوٹ(مغافیر بولنے کا الزام)
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندچلینج کا منہ توڑ جواب
اہل تشیع روافض کے چند جاہلانہ سوالات اور اہلسنّت کے جوابات اور شیعہ روافض کو چیلنج
اہلسنّت کی جانب سے کُچھ برس پہلے پانچ سوال ملت جعفریہ اہل تشیع سے پُوچھے گئے تھے
جن کے آج تک کسی حلالی رافضی میں جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی اور قیامت تک چلینج ہے نہیں دے سکتے
کُچھ دن ہوئے ایک لمبی چوڑی تحریر احباب نے دی جس میں شیعہ نے اپنے مفروضے تراشے ہوئے ہیں (جو اہلسنّت پر نہ حجت نہ وہ ان پانچ سوالات کے جواب ہیں جو ہم نے کیے تھے) اور جواب دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چند سوال کیے چند احباب نے جواب کی درخواست کی تو لیجیے جوابات
جو اہلسنّت نے سوال پُوچھے تھے وہ ترتیب وار یہ تھے: (جن کا جواب نہیں دیا کوئی غیرت مند شیعہ غیرت کرے چیلنج ہے ہمارے سوالات
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو
سوال۔1 شیعہ کا کلمہ اور اذان جاری کیوں نہیں کروائی؟
سوال۔2 تراویح کیوں ختم نہیں کروائی؟
سوال۔3 مسجدیں بنوائی امام باڑے کیوں نہیں بنوائے؟
سوال۔4 مُتعہ کو جاری کیوں نہیں کیا؟
سوال۔5 باغ فِدک کو فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمینؓ کو واپس کیوں نہیں دیا؟
الحمداللہ شیعہ ان کا جواب تو نہیں دے سکے آگے رافضی قلمکار لکھتا ہے۔
"اگر تم (اہلسنّت ) واقعی حق پر ہو تو میرے سوالوں کے جواب دو۔
میں (شیعہ) بھی تو دیکھوں کہ "شیعہ نے تو چیلنج کا جواب دے دیا"
اب شیعہ کے چیلنج کا جواب کون دے گا!!
نوٹ: (قارئین کرام ذرا شیعہ قلم کار کی اُردو چیک کیجیے کیا یہ پڑھا لکھا لگتا ہے؟)
شیعہ سوال 1 رسوُل اللہ ﷺ کے جنازے میں " بڑے ستارے" کیوں نہیں تھے ؟
جواب الجواب اہلسنّت
اس سوال میں بڑے ستارے سے مراد سیدنا ابوبکر عمر عثمان رضی اللہ علیہم کی طرف اشارہ ہے جبکہ سنی شیعہ دونوں کی کتب میں لکھا تمام صحابہ کرامؓ نے گروہ در گروہ ہو کر جنازہ پڑھا
اس کے علاوہ تاریخ اسلام کی کوئی بھی کتاب چیک کرلیں جنازہ نبی کریم درود و سلام کی صورت میں پڑھا گیا اور وہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا موجود ہونا بیان ہوا ہے۔
اہلسنّت کتب
1.طبقات ابن سعد 14 روایات موجود ہیں
2. تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحہ 171
3.البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 361
شیعہ کتب
4۔ شیعہ کتاب شرح شافی صفحہ 26، 27
5۔ جلاء العیون صفحہ 156
6۔ حیات القلوب جلد 1 صفحہ 1022
7۔ ترجمہ مقبول صفحہ 460 ان کتب میں لکھا تمام صحابہ کرامؓ جنازہ الرسول پڑھا زرا اپنی کتب ہی پڑھ لیتے تو یہ جہالت بھی آپ کی ختم ہو جاتی مگر آپ کے ذاکروں نے ایسا گمراہی کا نشہ دے رکھا ہے کہ کسی کتاب پڑھنے کی آپ کو توفیق ہی نہیں ہوئی
اہل علم جانتے ہیں کہ عدم ذکر سے غیر موجودگی ثابت نہیں ہوتی جب تک غیر موجودگی بیان نہ کی گئی ہو، الحمدللہ ایسی ایک بھی مستند روایت موجود نہیں ہے جس میں جلیل القدر صحابہ کی جنازہ رسول میں عدم شرکت بیان کی گئی ہو۔
شیعہ سوال2
" الصّلوٰۃ خیراً من النوم " رسول اللہ ﷺ کے دور میں جزو اذان نہیں تھا نا ھی خلیفہؑ اوّل کے دور میں تو پھر اس کو اذان کا جزو بنانے کی بدعت کیوں کی گئ ؟؟
جواب الجواب اہلسنّت
کہاں بدلا ثابت کریں کہاں لکھا؟
رہی بات الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ کی تو یہ الفاظ رسولﷺ ثابت ہیں اور کتب احادیث میں موجود ہیں
ابن ماجه، السنن، 1: 237، رقم: 716
أبي داود، السنن،1: 233، رقم: 707، دار الفکر
آپ شیعہ کے عالم شیخ صدوق اہلسنّت کی ساری اذان نقل کر کے کہتے ہیں یہی اذان صحیح ہے اور شیعہ نے جو اذان بڑھائی ان پر لعنت کی انہوں نے،
مبارک ہو شیعو
شیعہ کتب
تحفۃ العوام صفحہ 28
من لایحضرہ الفقیہ صفحہ 188
شرائع اسلام صفحہ 29
میں شیعہ اذان ہی کی تردید ہے اب آپ بتائیں آپ کی اذان کب سے شروع ہوئی؟
دو اہم تحقیقی پوسٹ بمعہ اہلسنت و اہل تشیع کی معتبر کتب کے اسکینز ہماری سائیٹ پر موجود ہیں۔
شیعہ سوال 3
نماز تراویح اگر عہد رسالت ﷺ میں پڑھی گئ وہ بھی تین دن. بعد میں آپ نے سختی دکھائی اور اس کو رد کیا۔ تو یہ خلیفہ اول کے دور میں بھی نہیں پڑھی گی تو پھر یہ بدعت کیوں اپنائی گئ تمہارے نام نہاد مسلمان نما خلیفہ دوم کی طرف سے؟؟
جواب الجواب اہلسنّت
نبی کریم نے تراویح کی پابندی سے جماعت اس لئے نہ کرائی تاکہ یہ فرض نہ ہوجائے، نبی کے بعد یہ امکان ختم ہوگیا تو اسے رمضان میں پابندی سے پڑھانا شروع کیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مختصر دور میں دوسرے کئی اہم مسائل درپیش تھے، جب امن قائم ہوا تو صحابہ کرامؓ نے دوسرے شرعی مسائل پر توجہ دی۔ حضرات خلفائے راشدینؓ کی اطاعت عین سنت ہے، جس کے اتباع کا ہمیں حکم ہے چنانچہ حدیث میں ہے۔
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین تمسکوا بہا و عضوا علیہا بالنواجذ
(رواہ احمد وابو دائود والترمذی و ابن ماجہ)
فضائل تراویح
رمضان المبارک میں نماز عشاء کے بعد یعنی فرض جماعت پڑھ کر دو سنت اور دو نفل پڑھنے کے بعد بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت موکدہ ہے جس کا ثبوت اس حدیث میں ہے۔
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رسول اﷲ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ
(ابن ابی شیبہ والبیہقی جلد 2 صفحہ 496)
یعنی حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ رمضان میں بیس تراویح اور پڑھتے تھے اور افضل یہ ہے کہ دو دو رکعت ایک ایک سلام سے پڑھی جائیں اور تراویح میں ایک مرتبہ قرآن پاک ختم کرنا مسنون ہے
اب آپ شیعہ کے نزدیک یہ خلفاء مسلمان ہی نہیں لہٰذا آپ رافضی شیعہ زرا خود اپنے آپ کو پہلے مسلمان ثابت کریں پھر سنت فرض کی بات کرتے اچھے لگتے ہو،
شیعہ سوال 4
قرآن نے کہا " نبی کی بیویوں گھروں میں قرار پکڑو "
تو پھر نبی کی جو بی بی گھر سے باہر نکلی اور صرف باہر نہیں نکلی بلکہ لشکر کی سربراہ بھی بن کر میدان میں آئی اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟؟
اور اگر وہ ٹھیک تھا تو پھر آج عورت کی حکمرانی پر فتوے کیوں لگاتے ہو ؟
جواب الجواب اہلسنّت
اس آیت سے سفر کرنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی اس لیے قرن کا تو وقر یقر وقارا سے مشتق ہے اور یا قار یقار سے جس کا معنیٰ اجتماع کا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے قریقر قراراً سے ہو، احتمال کی وجہ سے استدلال تام نہیں اگر استقرار کے معنیٰ میں بھی ہو تو بھی ظاہر ہے کہ اس سے مراد تستر اور پردہ کرنا ہے جس کی تاکید تبرج کی نہی سے کی جا رہی ہے تو اس میں سفر کرنے کی نہی نہیں ہے اس لئے کہ پردہ کرتے ہوئے بھی سفر ہو سکتا ہے
دیکھیے ازواج مطہرات رسولﷺ کے ساتھ حج اور غزوات پر ساتھ سفر میں جاتی تھیں اگر اس آیت میں مطلق خروج سے منع ہوتی تو آپ نہ لے جاتے
دوسری بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بصرہ جانا کسی فساد کے لیے نہ تھا بلکہ آپس کی اصلاح کے طور پر تھا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت جو کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے اس لئے کہ یہ دونوں بزرگ جنگ میں شہید ہوئے اگر باغی ہوتے تو حدیث بالا میں شہید کا اطلاق نہ ہوتا
تیسری بات عورت کی حکمرانی سے رسول نے منع فرمایا آپ شیعہ ایسے بد بخت اور بد نسل یہود قوم ہیں جو فرمان رسولﷺ کو جُھٹلا کر مذاق بنا رہے ہیں
شیعہ سوال 5
مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا
خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا
پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زنا سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟؟
کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ہے ہی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلیۓ جو گھر سے دور ہو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔
جواب الجواب اہلسنّت
متعہ تو زنا ہے کیا زنا کو قرآن نے حلال کہا؟ نعوذباللہ
شیعہ رافضی صاحب جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ نکاح کے بارے ہے نا کہ متعہ (زنا) کے بارے ویسے سمجھ آتی آپ پر متعہ (زنا) کا نشہ اتنا کیوں سوار رہتا ہے
ویسے بھی آپ کے شیعہ مذہب میں تو متعہ (زنا) کی بڑی فضیلت ہے تبھی شام غریباں میں اپنی ماں بہن بیٹی کو بھی نہیں معاف کرتے جیسے آپ کے بہت بڑے محدث عالم علامہ نوبختی اپنی کتاب "فرق شیعہ" میں لکھا ہے کہ "ماں بہن بیٹی سے بھی متعہ (زنا) ہو سکتا ہے شاباش شیعہ عالم صاحب
اب آپ بتائیں اپنے عالم کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنی ماں بہن بیٹی سے کتنی بار متعہ (زنا) کا ثواب پا چکے ہو جناب؟ اگر نہیں تو اپنوں کا انکار کیوں؟
شیعہ سوال.6
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے باغ فِدک "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا " کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ"یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ہوئی"
جواب الجواب اہلسنت
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے یہ الفاظ کس اہلسنّت کتاب میں لکھے ہیں؟؟
جھوٹوں پر اللہ کی لعنت
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فدک بلکل نہیں دیا جب رسول اللہ نے ہی نہیں دیا تو خلفاء راشدینؓ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کیسے دیتے؟؟
تفصیل سنی لائبریری ویب سائٹ میں پڑھیں تاکہ آپ کے دجل و فریب کاری کا آپ کو بھی پتا چلے
حضرت عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تو بعد میں پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے ہیں انہوں نے اولادِ فاطمہ کو فدک کیوں نہ دیا؟؟
شیعہ سوال 7
ویسے تو امید نہیں کہ آپ جواب دیں پائیں لیکن پهر بھی کوشش کیجئے گا. ......
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جھوٹ بول کر کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے
حضور صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جهوٹ بولنے کے بعد بھی کیا امی عائشہ صدیقہ ہی ہیں؟
کیا ان کی صداقت کا خود ساختہ محل مسمار نہیں ہو جاتا؟ یا امام بخاری پر توہین اماں عائشہ کا فتوٰی نہیں لگتا؟
جواب الجواب اہلسنّت
حقیقت اس کی یہ ہے کہ رسولﷺ کو شہد بے حد پسند تھا اور حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پینے کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت لگ جاتا تھا، جس کی وجہ سے باقی ازواج خاص طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ جدائی بھی ناگوار گزرتی،
انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ ہم رسولﷺ کے آنے پر انہیں کہیں گی کہ ان سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ ازواج مطہرات کی نیت درحقیقت رسولﷺ کی قربت کو حاصل کرنا تھا، اس کی تائید قرآن کریم کی سورۃ تحریم کی پہلی آیت سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ رسولﷺ نے ازواج مطہرات کے کہنے پر شہد نہ کھانے کا ارادہ کر لیا تھا۔
شیعہ روافض کا اعتراض درست تب ہوتا اگر یہ واقعی بدنیتی والی بات ہوتی تو اللہ عزوجل ازواج مطہرات کی مذمت بیان فرماتے یا رسولﷺ انہیں سزا دیتے، جبکہ ایسا کچھ نہ ہوا۔
اسی واقعہ کو رسولﷺ نے راز رکھنے کو کہا لیکن ازواج مطہرات نے بشریٰ تقاضوں اور عورت کی فطرت سے مجبور ہوکر راز کھول دیا اور ایک دوسرے کو بتادیا۔ جس پر رسولﷺ سخت ناراض ہوئے، ازواج مطہرات سے ایک ماہ کی دوری بھی اختیار کر لی اور ازواج مطہرات کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا لیکن ازواج مطہرات کی عبادت و ریاضت اور عشق رسولﷺ دیکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے رسولﷺ کو طلاق دینے سے منع فرمایا۔
ان واقعات سے ازواج مطہرات پر اعتراض نہیں بنتا بلکہ ان کی حمایت اللہ عزوجل کی طرف سے آنے پر شان و عظمت واضح ہوتی ہے، بیشک ازواج مطہرات معصوم نہیں تھیں لیکن خطائیں لغزشیں ہونے کے باوجود دنیا و آخرت میں ہمیشہ رسولﷺ کی ازواج رہیں گی۔
دوسری بات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہم معصوم نہیں مانتے کہ ان سے خطاب ہو ہی نہ سکے بلکہ صحابہ کرامؓ سے کوئی خطاء ہوئی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان فرما دیا ہے
دوسری بات اگر ان سے خطاء ہوئی تھی تو وہ بھی محبتِ رسولﷺ ہی میں ہوئی اور معافی کے اعلان کے بعد اعتراض نہیں ہو سکتا
شیعہ بکواس
اب مجھے دیکھنا ہے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ہو اور کیا تم اپنا حلالی پن ثابت کرتے ہو نام نہاد مسلمانوں۔
اہلسنّت جواب
الحمدلله آپ کے ایک ایک لفظ کا جواب دلائل و محقق انداز میں دے دیا اب آپ کا کوئی حلالی شیعہ کب ہمت کرے گا؟ یا صرف متعہ (زنا) کے نشہ میں مست رہنا ہے