Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آفتاب ہدایت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

بِسْمِِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَلِكِ الْحَقِ الْمُبِيْنِ رَبُّنَا وَرَبُّ الْأَرْضِ وَالسَّمَآءِ وَالصَّلوٰةُ وَ السَّلَامُ عَلىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَ خَاتَمِ الأَنْبِيَآءِ وَعَلىٰ آلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ ذَوِی الْمَجْدِ وَالْعُلَا وَ أَصْحَابِهِ الْمَهْدِيِّيْنَ نَجُومِ الْحَقِّ وَ ال٘اِهْتِدَاءِ۔

أما بعد! پس واضح رائے اولی الابصار ہو کہ ہر چند اقتضاءِ وقت یہی ہے کہ اسلام کے تمام فرقے متحد ہو کر مخالفینِ اسلام آریہ عیسائی وغیرہ کا مقابلہ کریں جو اس وقت دینِ حق اسلام پاک کے مٹانے کے درپے ہو کر ہر طرف سے پر زور حملے کر رہے ہیں، کہیں شدھی کی تحریک کی گرما گرمی ہے اور کہیں عیسائیت کے مناد لطائف الحیل سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے اسلام کے بیرونی دشمنوں کے علاوہ اندرونی دشمن روافض و مرزائی وغیرہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان سے بڑھ کر جدوجہد کر رہے ہیں اور فرقہ اہل السنۃ والجماعۃ کی خاموشی سے فائدہ اُٹھا کر تحریر کے ذریعہ مرزائیت، رفض وغیرہ کی وبا پھیلائی جارہی ہے اور ڈر ہے کہ یہی رفتار رہی تو کسی وقت اسلام کا اصلی خوبصورت چہرہ بالکل مسخ ہو کر رفض و بدعت، مرزائیت، نیچریت، چکڑالویت وغیرہ کی منحوس شکل اختیار کرلے گا۔ (خدا ایسا نہ کرے) اس لیے علماء اہل السنۃ والجماعۃ کا اولین فرض یہ ہے کہ ان اندرونی دشمنانِ دین کے شر کا انسداد کریں جو اسلام کے دعویدار ہو کر مسلمانوں کو جادہ حق صراطِ مستقیم سے پھسلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ میرے خیال میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ اس وقت رفض کا ہے جو فتنہ ارتداد سے بھی زیادہ خوفناک ہے، اس لیے ہمیں اس کے انسداد کی طرف پہلے متوجہ ہونا چاہیے۔ بناء علیہ خاکسار متوکلاً علی اللہ اس کام کو شروع کرتا ہے۔ خاکسار نے پہلے بھی متعدد مختصر رسالے اس بارے میں تصنیف کر کے شائع کیے اور خدا کے فضل سے وہ مقبول ہوئے ہیں، لیکن بعض خواص احباب کی جن میں سے ایک میرے مکرم دوست حاجی غلام یاسین صاحبؒ تلہ گنگی ہیں۔ دوم برخوردار مولوی محمد فیض الحسن صاحب مرحوم (مولوی فاضل) ابنِ اخی المرحوم مولانا مولوی محمد حسن صاحب فیضیؒ ہیں، مدت سے یہ فرمائش تھی کہ ایسی جامع کتاب اس موضوع میں تصنیف کی جائے جس کے ہوتے ہوئے دوسری کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت باقی نہ رہے، جو تردیدِ عقائدِ شیعہ میں تصنیف ہوئی ہیں اور ایسا طریق اختیار کیا جائے کہ قرآن پاک سے استدلال کے علاوہ کتب مستند مسلمہ خصم کی عبارات بقید صفحہ درج کر کے مسائل کی توضیح کر دی جائے تا کہ موافق و مخالف کو شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ سو اسی التزام سے میں نے یہ کتاب لکھنی شروع کی ہے۔ میری کوشش یہ ہوگی کہ اپنے مدعا کو نصِ صریح آیاتِ قرآن سے ثابت کروں گا۔ پھر خصم کی معتبر اور مسلمہ کتابوں کی عبارات بقید صفحہ درج کر کے استدلال کیا جائے گا اور کوئی عبارت جو اصل کتاب سے بچشم خود نہ دیکھ لوں ہرگز درج نہ کی جائے گی اور میری یہ کتاب اہلِ رفض کے عقائد و مسائل کی تردید کرے گی اور ہر طرح سے تہذیب و متانت کو ملحوظ رکھا جائے گا۔