Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

موت امام کے اختیار میں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

یہ بات علامہ حائری صاحب کے قلم سے نکلنا نہ چاہیے تھی کیونکہ آپ کے اعتقاد میں تو موت وحیات امام کے اختیار میں ہوتی ہے۔ 

چنانچہ اصول کافی: صفحہ 158 پر ایک باب اس مضمون کا باندھا گیا ہے کہ اِنَّ الاَئِمَّةَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ لَيَعْلَمُوْنَ مَتىٰ يمُوْتُوْنَ وَأَنَّهُمْ لَا يَمُوْتُونَ إِلَّا بِاخْتِيَارِ مِنْهُم

یعنی "ائمہ" اپنی موت کا وقت جانتے ہیں اور اپنی موت پر ان کو قابو ہوتا ہے، چاہے مریں یا نہ مریں۔

پھر علامہ حائری نے یہ کیوں لکھا کہ وہ اس لیے ظاہر نہیں ہوتے کہ ان کو جان تلف ہو جانے کا اندیشہ ہے؟ جب مرنا جینا کسی شخص کے اختیار میں ہو پھر اس کو کسی سے کیا ڈر؟ افسوس شیعہ حضرات ایسی بے ٹھکانہ باتیں کہہ کر مفت جگ ہنسائی کرتے ہیں۔