Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلیفہ کا طریقہ انتخاب

  علی محمد الصلابی

آپ نے اہل شوریٰ کو حکم دیا کہ ان میں سے کسی کے گھر میں وہ لوگ اکٹھے ہوں اور باہمی مشورہ کریں، ان کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی صرف مشیر کی حیثیت سے حاضر تھے، انھیں کوئی اور اختیار نہیں تھا، باہمی مشورہ کے موقع پر صہیب رومی رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، آپ نے ان سے کہا: آپ ان تین دنوں میں امامت کے ذمہ دار ہوں گے تاآنکہ آپ چھ میں سے کسی کو امامت کا ذمہ دار بنا دیں اور جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کی ذمہ داری دیں گے اسی کو خلافت کا ذمہ دار بنائیں گے۔

(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون للبہنساوی: صفحہ 213)

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو انتخابی کارروائیوں کا نگراں مقرر کیا۔

(أشہر مشاہیر الاسلام فی الحرب و السیاسۃ: صفحہ 648)