سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اتفاق
علی محمد الصلابیآخری ذی الحجہ 23ھ مطابق 6 نومبر 644ء کی صلاۃِ فجر (جس کے امام صہیب رومی رضی اللہ عنہ تھے) کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ وہی عمامہ پہنے آئے جسے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا تھا، شوریٰ کے لوگ منبر کے پاس موجود تھے، عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے مدینہ میں موجود مہاجرین و انصار اور فوجوں کے قائدین کو بلوایا، ان میں سے امیر شام معاویہ، امیر حمص عمیر بن سعد، امیر مصر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم تھے، یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس حج میں شریک تھے، اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ ہی کے ساتھ مدینہ آئے تھے۔
(شہید الدار: صفحہ 37، بیعت کی تاریخ میں اختلاف ہے+
صحیح بخاری کی روایت میں ہے:
’’جب لوگ صبح کی نماز پڑھ چکے، اور مجلس شوریٰ کے لوگ منبر کے پاس جمع ہوگئے تو مدینہ میں موجود مہاجرین و انصار کو اور فوجوں کے قائدین کو بلوایا، یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس حج میں شریک تھے، جب لوگ جمع ہوگئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے فرمایا:
أَمَّا بَعْدُ! یَا عَلِيُّ إِنِّیْ قَدْ نَظَرْتُ فِیْ أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَرَہُمْ یَعْدِلُوْنَ بِعُثْمَانَ، فَلَا تَجْعَلْنَّ عَلٰی نَفْسِکَ سَبِیْلًا فَقَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ مُخَاطِبًا عُثْمَانَ: أَبَایِعُکَ عَلٰی سُنَّۃِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْخَلِیْفَتَیْنِ مِنْ بَعْدِہٖ فَبَایَعَہُ النَّاسُ الْمُہَاجِرُوْنَ وَ الْأَنْصُارُ وَ أُمَرَائِ الْأَجْنَادِ وَ الْمُسْلِمُوْنَ۔
(صحیح البخاری: کتاب الاحکام: رقم: 7207)
’’حمد و صلاۃ کے بعد، اے علی! میں نے لوگوں کا جائزہ لیا ہے، وہ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنی ملامت کا راستہ نہ کھولیے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد دونوں خلیفہ کے طریقے پر سیدنا عثمان غنیؓ کے لیے بیعت کر رہا ہوں، پھر مہاجرین و انصار، فوجوں کے قائدین اور عام مسلمانوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کی۔‘‘
صاحب ’’التمہید و البیان‘‘ کی روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے پہلے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔
(التمہید و البیان: صفحہ 26