خیال شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کا اس بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ جنگِ احد کے معرکہ میں سارے کا سارا لشکر بھاگ گیا تھا، صرف حضرت علیؓ اور ابو دجانہ انصاریؓ باقی رہ گئے تھے۔ جیسا کہ فروع کافی: جلد 3، صفحہ 149 میں درج ہے: "انهزم الناس يوم احد الا علی وابو دجانة الانصاری"
(احد کے دن بغیر علیؓ اور ابو دجانہؓ انصاری کے سب لوگ بھاگ گئے)
سو اگر شیعہ کا یہ قول مان لیا جائے اور یہ الزام ناقابل عفو جرم ٹھہرایا جائے تو حضرت علیؓ کے علاوہ صرف ابو دجانہؓ مسلمان رہ جاتے ہیں اور شیعہ کے مسلمہ خالص مومنین مقدارؓ، ابوذرؓ، سلمانؓ، عمارؓ وغیرہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ وفاتِ رسولﷺ کے بعد بقول شیعہ صرف یہی معدودے چند اشخاص مسلمان رہ گئے تھے۔ باقی سب مرتد ہو گئے تھے اور اس سے ابو دوجانہؓ الانصاری بھی مستثنیٰ نہیں رکھے گئے۔ (سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ)
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب فسانے یار لوگوں کے گھڑے ہوئے اور بالکل خرافات ہیں جن کی کوئی اصلیت نہیں۔ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ جنگِ احد میں اصحابِ ثلاثہؓ حضرت علیؓ کی طرح ثابت قدم رہے تھے البتہ جن لوگوں کے پاؤں بوجہ ان کی غلطی کے لغزش کھا گئے تھے اور ریٹائرڈ ہو گئے تھے وہ بھی دوبارہ آ کر جم گئے اور دشمن سے سینہ سپر ہو کر لڑے اور اس وجہ سے ان کے غلطی معاف ہو گئی اور (وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ) کا سرٹیفیکیٹ عطا ہوا۔
17: وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞
(سورۃالحشر: آیت 2)
ترجمہ: اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔
اس آیت میں جن مسلمانوں نے رسولِ پاکﷺ کے حکم سے یہود کے گھروں کو برباد کیا تھا، خدا ان کے ایمان کی گواہی دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ ان مومنوں کے سرگروہ اور قافلہ کے سردار تھے اور انہی کی شمولیت اور تدبیر سے یہود کے گھر تباہ کیے گئے تھے، افسوس کے قرآن جا بجا ان پاک نفوس کے فضائل بیان کرتا ہے مگر شیعہ کے دلوں میں ایسی مہر لگ گئی ہے کہ سمجھنے سے رہے۔
18: وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞
(سورۃآل عمران: آیت 104)
ترجمہ: اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
اب بتاؤ کہ کیا اصحابِ ثلاثہؓ میں یہ اوصاف نہ تھے؟ جبکہ انہوں نے اپنی زندگی اس کام میں وقف کر دی اور ملک کے ملک فتح کر کے ان میں توحید کی روح پھونک دی تھی تو وہ بمنطوق اس آیت کے مفلحون ماننے پڑیں گے۔
19: فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙاَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞
(سورۃالمائدة: آیت 54)
ترجمہ: اللہ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔
بتاؤ یہ قوم کون تھی؟ جو نبی کریمﷺ کے سچے دل سے محب اور نبی کریمﷺ ان سے محبت رکھتے تھے۔ کیا اصحابِ ثلاثہؓ اس کے مصداق نہیں؟ کیا اصحابِ رسولﷺ اور یارانِ غار کا نام دنیا میں یوں ہی مشہور ہو گیا؟ سوچو اور پھر سوچو۔
20: وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَمَا كَانُوۡۤا اَوۡلِيَآءَهٗ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۞
(سورۃالأنفال: آیت 34)
ترجمہ: اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہیں۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اس کے متولی نہیں ہو سکتے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔
بتائیے! مزید الحرام کے متولی کون لوگ تھے؟ جن کے متقی ہونے کی الٰہی شہادت مل رہی ہے۔ مسجد الحرام کے متولی بعد وفات نبویﷺ وہی آپﷺ کے خلفائے راشدینؓ تھے جن کو شیعہ نا فہمی سے منافقوں کا خطاب دیتے ہیں، حالانکہ رب العزت ان کو مُتَّقُوۡنَ کا لقب عطا فرما چکا ہے۔ یہی لوگ مسجد کے متولی رہے اور خدا کے گھر (کعبہ شریف) کی کنجیاں بھی انہی کے ہاتھ میں رہیں اور بشہادتِ الٰہی مسجد الحرام کعبۃ اللہ کے متولی متقین ہی ہو سکتے ہیں۔ (وَلٰكِنَّ الشِّيْعَةَ لَا يَعْلَمُوْنَ)
21: وَمِنۡهُمُ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِىَّ وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۞
(سورۃالتوبۃ: آیت 61)
ترجمہ: اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبیﷺ کو دکھ پہنچاتے ہیں اور ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ: وہ تو سراپا کان ہیں۔ کہہ دو کہ: وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔
اس آیت میں حق تعالیٰ نے صاف بتلا دیا ہے کہ رسول اللہﷺ مخلص مومنین کی باتیں سنتے اور ان کی تصدیق فرماتے تھے اور آپﷺ کی نظرِ رحمت بھی مخلص مومنین پر ہوتی تھی اور یہ مُسلَّمہ بات ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ آنحضرتﷺ کی مجلسِ شوریٰ کے اعلیٰ ممبران تھے۔ آپﷺ جملہ امور میں بحکم "وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ" جملہ امور میں ان سے مشورہ لیتے اور بہت باتوں میں انہی کی اصلاح و مشورے پر کام کرتے تھے اور خدائے کریم فرماتا ہے کہ نبی کریمﷺ کو اجازت ہی نہیں ہے کہ غیر مومن لوگوں کی باتیں سن کر ان کی تصدیق کریں چہ جائیکہ ان کو اپنا مشیر یا صاحب گردانیں اور نیز جس قدر آپﷺ کی نظرِ عاطفت ثلاثہؓ پر تھی اس سے انکار ہو نہیں سکتا کیونکہ آپﷺ نے ان کے گھر سے ناطے لیے اور اپنے گھر سے دیے اور آیت سے ثابت ہے کہ یہ آپﷺ کی نگاہِ عاطفت مومنوں پر ہی ہوا کرتی تھی پھر شیعہ صاحبان کا آپﷺ کے مصاحبوں، آپﷺ کے مخلص دوستوں، آپﷺ کے قرابت داروں کے ایمان میں شک کرنا سخت ناانصافی اور صریح بے ایمانی ہے۔
22: وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا۞
(سورۃآل عمران: آیت 103)
ترجمہ: اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔
اس آیت میں حق تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اسلام سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہم پشتنی عداوتیں چلی آتی تھیں جن کو اسلام کی روشنی نے بالکل مٹا دیا اور آپس میں ایسی اخوت قائم کر دی کہ اس بھائی بندی کا رشتہ ہمیشہ رہنے والا تھا۔
مندرجہ بالا آیت اس امر کی گواہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اسلام لانے کے بعد ایسی دوستی و اخوت پیدا ہو گئی تھی کہ عداوت کا احتمال ہی جاتا رہا لیکن شیعہ برخلاف اس کے یہ کہتے ہیں کہ اسلام لا کر بھی ان میں عداوت بدستور رہی اور وہ ایک دوسرے کے دشمن بنے رہے۔ خدا کو سچا مانیں یا شیعہ کے مزعوماتِ فاسدہ کو؟ صاحبان اگر قرآن سچا ہے اور کوئی مسلمان قرآن کی تکذیب نہیں کر سکتا تو ماننا پڑے گا کہ اصحابِ ثلاثہؓ اور علی المرتضیٰؓ باہم بھائی بھائی اور شیر و شکر تھے۔ ایک دوسرے کے مفاد پر جان قربان کرتے اور باہم مل کر اسلام کی خدمات بجا لاتے اور کفار سے قتال و جدال کرتے تھے۔ نیز آیت سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسلام لانے سے پیشتر یہ لوگ دوزخ کے کنارے پر تھے لیکن اسلام کی نعمت حاصل ہونے کے بعد آتشِ دوزخ ان پر حرام ہو گئی اور یہ بالکل نجات یافتہ ہو گئے لیکن شیعہ کا قول مانا جائے تو وفاتِ نبویﷺ کے بعد سوائے معدود چند اشخاص (تین چار) کہ سب کے سب مسلمان مرتد و کافر ہو گئے اور جہنم کے گڑھے میں گر گئے تو پھر "فَاَنۡقَذَكُمۡ" کا مضمون غلط ہو گیا اور مخبر صادق کی شہادت جھوٹی ہو گئی۔
23: لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ۞
(سورۃآل عمران: آیت 164)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
اس آیت اور اس قسم کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی پاک تعلیم کا یہ اثر تھا کہ آپﷺ کے شاگردان رشید سب کے سب جملہ امراض ظاہری و باطنی سے بالکل پاک و صاف ہو گئے تھے اور نورِ اسلام کی چمک کے بعد ناممکن تھا کہ پھر ظلمت کفران قلوب پاک میں عود کرتی اور واقعی نبی آخر الزمانﷺ کی قوت تاثیر ایک معجزہ تھی جس پر غیر اقوام کو آج تک رشک ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک کسی نبی کی تعلیم میں یہ اثر نہیں پایا گیا کہ تھوڑی سی مدت میں شرق اور غرب تک نور اسلام پھیل گیا اور ایسے کامل و مکمل مسلمان پیدا ہو گئے جنہوں نے دنیا سے بت پرستی کا نام و نشان مٹا دیا لیکن شیعہ کا قول مانا جائے تو معاملہ برعکس ہو جاتا ہے، کیونکہ بقول شیعہ بہت بڑے مسلمان اصحابِ اربعہؓ جو آپﷺ کی کونسل کے اعلیٰ ممبران، آپﷺ کے صبح و شام کے مشیر با تدبیر تھے، ان کا تزکیہ بھی آپﷺ سے نہ ہو سکا بلکہ ان کے دل باہمی عداوت و کینہ سے نبیﷺ کی زندگی میں بھی مکدر رہے اور آپﷺ کی وفات کے بعد تو سب کے سب مسلمان سوائے تین چار اشخاص کے دل سے پھر گئے اور کفر و نفاق اختیار کر لیا تو پھر وہ تزکیہ کہاں گیا اور وہ تعلیم کتاب و حکمت کیا ہوئی؟ کیا بعثتِ نبیﷺ سے غرض صرف دو تین اشخاص تھی؟ اور نبیﷺ آخر الزمان کی قوت اعجاز کا یہی کرشمہ تھا کہ آپﷺ کی آنکھ بند کرنے کی دیر تھی کہ تمام نقشہ ہی بدل گیا۔
بھائیو غور کرو کس قدر اسلام اور ہادی اسلام پر دھبہ آتا ہے اور مخالفینِ اسلام کو طعن کا موقع ملتا ہے اگر شیعہ کا اعتقاد درست مانا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ بیہودہ گوئی اور لغویات ہیں جو کسی یہودی کے بہکانے پر روافض کے دلوں میں یہ شیطانی وساوس پیدا ہو گئے ہیں۔ الحق ہادی اسلام کی تعلیم پاک میں یہ قوت اعجاز تھی کہ آپﷺ کی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ایسے فاضل پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کو سبق توحید سکھا کر ہمیشہ کے لیے اوہام پرستی سے نجات دلا دی۔ اقطاع الارض میں نور اسلام کی کرنیں پہنچ کر باعث رفع ظلمات و شرک ہو گئیں۔ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ
24: وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ۞
(سورۃالحجرات: آیت 7، 8)
ترجمہ: اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں خدا نے ایمان راسخ اور مضبوط کر دیا ہے اور ایمان کے ساتھ ان کو محبت طبعی ہو گئی ہے اور کفر و فسق سے ان کو ہمیشہ کے لیے نفرت ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایمان کے خلاف کوئی بات ان سے سرزد ہونا محال تھی، پھر ان پاک نفوس پر یہ الزام کہ ان کی ایمانی حالت ایسی متزلزل تھی کہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں بھی ان کا ایمان صرف رسمی اور ظاہری تھا۔ ظاہر میں نبی کریمﷺ کے دوست اور اندر سے دشمن بنے رہے اور آپﷺ کی وفات کے بعد خاندانِ رسالتﷺ پر اعلانیہ ظلم کرنے شروع کر دیے، کیا یہ آیت کریمہ مذکورہ کی صریح تکذیب نہیں ہے؟ عبرت، عبرت، عبرت!!!
25: فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا۞
(سورۃالفتح: آیت 26)
ترجمہ: اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
یہ سورہ فتح کی آیت ہے جس میں مجاہدینِ حدیبیہ کے فضائل ومناقب کا بیان ہے۔ ان کو تسکین و تسلی دی گئی ہے اور آئندہ فتوحات وغنائم کی بشارت سنائی گئی ہے اور اسی سلسلے میں یہ آیت بھی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ کریم کی طرف سے اصحابِؓ حدیبیہ پر سکینہ نازل ہوا اور صفتِ تقویٰ ان کے لیے ایسی وصف لازم ہو گئی جو کبھی منفک نہیں ہو سکتی اور یہ بھی فرمایا گیا کہ یہ سچے جاں نثارانِ رسولﷺ فی الواقع اس انعام عظیم کے سب سے زیادہ مستحق اور سزاوار تھے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جن لوگوں کے لیے وصف تقویٰ لازم کی گئی ہو، کیا وہ منافق ہو سکتے ہیں؟ یا پھر ان کے ارتداد کا احتمال ہو سکتا ہے؟
26: اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ ۞
(سورۃالتوبۃ: آیت 40)
ترجمہ: اگر تم ان کی (یعنی نبی کریمﷺ کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں کیونکہ) اللہ ان کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔