Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی دوسری دلیل

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلافت بلا فصل کے متعلق دوسری دلیل شیعہ کی یہ آیت ہے

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞

(سورۃالمائدة: آیت نمبر 55)

(وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ يا تو يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ سے حال واقع ہوا ہے یا یہاں رکوع بمعنیٰ خشوع ہے)

ترجمہ: تمہارے مددگار خدا اور رسول اللہﷺ ہیں اور مؤمن لوگ جو نماز روزہ قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ رکوع و سجدہ کرنے کے عادی ہیں۔

اس آیت سے شیعہ ولایت علی رضی اللہ عنہ کا استدلال کرتے ہیں۔ حالانکہ آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے ولایت امیرؓ ثابت ہو۔ اگر لفظ ولی سے استدلال ہے تو یہاں خدا اور رسول اور ان مؤمنوں پر اس کا اطلاق کیا گیا ہے جو نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ کے پابند ہیں۔ تمام صیغے جمع کے ہیں پھر ان سے ایک فرد حضرت علی رضی اللہ عنہ مراد لینا انصاف کا خون کرتا ہے۔

شیعہ نے اس موقعہ پر ایک عجیب روایت وضع کی ہے جیسا کہ اصول کافی کتاب الحج: صفحہ 177 میں ہے:

كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی صَلَوةِ الظُّهْرِ وَقَدْ صَلَّى رَكَعْتَيْنِ وَهُوَ رَاكِعٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ قِيمَتُهَا الْفُ دِينَارٍ فَكَانَ النبیﷺ كَسَاهُ إِيَّاهَا وَكَانَ النَّجَاشِی أَهْدَاهَا فَجَاء سَائِلٌ وَقَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا وَلِی اللَّهِ وَأُولی باالمؤمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ عَلَى مِسْكِينٍ فَطَرَحَ الْحُلَّةَ إِلَيْهِ وَأُومَی بِيَدِهِ إِنِ احْمِلُهَا فَانزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيْهِ هَذِهِ الْآيَة

 ترجمہ: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے چنانچہ دو رکعت نماز ادا کر چکے تھے۔ آپؓ ایک قیمتی شال اوڑھے ہوئے تھے جس کی قیمت ایک ہزار دینار تھی اور رسولﷺ نے آپ کو دی تھی جو آنحضرتﷺ کو نجاشی نے بطور ہدیہ بھیجی تھی۔ پس ایک سائل آیا اس نے کہا کہ اے ولی اللہ اور مؤمنوں کے سردار مسکین کو کچھ خیرات دیجیے آپ نے وہ شال سائل کی طرف پھنک دی اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کو لے جا۔ تب خدا نے یہ آیت اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ اتار دی۔

ہمارا جواب:

ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ آیت کا کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور خلافت پر دلالت کرے اگر اس سے ولایت کا ثبوت ملتا ہے تو پھر ہر ایک نمازی اور زکوٰۃ دینے والا صاحب ولایت اور خلیفہ ہو سکتا ہے۔ قاموس میں لکھا ہے: الْوَلِی الْقُرُبُ وَالذِكرُ والوَلَى الْاِسْمُ مِنْهُ وَالمُحِبُّ والصَّدِيقُ والناصر ولی کا مصدر کا معنیٰ قرب اور نزدیکی کا ہے۔ ولی اس کا اسم ہے جس کا معنیٰ محبت اور دوست اور مددگار ہے۔

اب بتائیے کہ لفظ ولی سے خلافت اور ولایت پر کس طرح دلیل لی جا سکتی اور روایت جو وضع کی گئی ہے عقلاً و نقلاً قابل تسلیم نہیں ہے؟