دوسری دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام فراقِ یوسف علیہ السلام میں بہت روئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَابۡيَـضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُـزۡنِ فَهُوَ كَظِيۡمٌ
(سورۃ یوسف: آیت 84)
ترجمہ: یعقوب علیہ السلام کی دونوں آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں اور ان کو بہت رنج تھا۔ معلوم نہیں اس آیت میں رونے پیٹنے کا کسی لفظ سے استدلال کیا جاتا ہے اور کسی لفظ کا معنیٰ رونا پیٹنا لیا جاتا ہے؟ یہ آیت اُن کی دلیل نہیں بلکہ اُن کی صریح تردید ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام کے فراق کا اس قدر رنج و غم تھا کہ غم کی وجہ سے ان کا دماغ کمزور ہو کر بصارت جاتی رہتی تھی اگر شیعہ کا خیال صحیح ہو تو مِنَ الْحُزْنِ کی جگہ من الْبُكَاءِ وَالصَّرَاخِ ہونا چاہیے تھا حالانکہ آیت میں ایسا نہیں ہے اگر رونا پیٹنا بصارت کے زوال کا باعث ہوتا تو آج دنیا کے کل ماتمی شیعہ جو زیادہ نہیں تو سال میں ایک دفعہ اس قدر پیٹا کرتے ہیں کہ نمونیہ محشر برپا ہو جاتا ہے، تمام اندھے نظر آتے حالانکہ ہم نے کوئی ماتمی ماتم کی وجہ سے اندھا ہوا نہیں دیکھا یہ اس امر کا صریح ثبوت ہے کہ ماتمی لوگوں کے دلوں میں رنج وغم کا ذرہ بھی وجود نہیں ہے ان کا یہ گریہ و بکا ،ان کی سینہ کوبی و طمانچہ زنی صرف چاول پلاؤ ٹرخانے کی خاطر ہے اور بس اگر شیعہ لوگ اس موقعہ پر دیگ نہ پکایا کریں تو مجلس کریں تو حسن ماتم میں اُلو بولا کریں صرف پلائو زردہ کی خاطر میراثی قلندر، اور مصلی وغیرہ ماتمِ حسینؓ کے بہانہ سے جمع ہو جاتے ہیں سے جمع ہو جاتے ہیں اور مجلس کی رونق ہو جاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ کارنامہ یزید کو اس شان و شوکت سے ہمیشہ تازہ کیا جاتا ہے کہ روح یزید کو اس سے کمال خوشی ہوتی ہوگی اور یوں تو ذاکروں، مرثیہ خوانوں پر یزید علیہ ما علیہ کا ایسا احسان عظیم ہے کہ اس کا شکر یہ ان سے ادا ہونا محال ہے اگر یزید لعین یہ کرتوت نہ کرتا تو ان ٹکر گداؤں کو کون پوچھتا ماہِ محرم ان لوگوں کے لیے گویا ماہِ عید ہوتا ہے، پہلے سے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں بیاضیں لیے رات بھر مرثیے یاد کیا کرتے ہیں خلق سنوارتے، منہ بناتے اور تال سر کرتے رہتے ہیں ادھر ماہ محرم نمودار ہوا، ادھر ان پر چاندی برسنے لگی جابجا اُن کی آؤ بھگت ہونے لگتی ہے روٹیاں مفت کی ملتی ہیں اورںروپے پیسے الگ ان کو تو یزید کے نام کی ماہ بماہ شیرینی دینی چاہیے اور اس کے نام کا سجدہ کرنا چاہیے۔
غرض کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ماتم کی رسم کس پیغمبر یا کسی امام یا ولی کی ایجاد ہے؟ اگر یہ ماتم باعث ثواب ہوتا تو ائمہ معصومین اس سے محروم نہ رہتے جب کسی امام نے ایسا نہیں کیا تو اس کو شیطانی ایجاد سمجھنا چاہیے خدا کرے شیعہ حضرات اس بدعت سیئہ سے باز آجائیں اور سال بسال سوانگ بنا کر توہین اہلبیت کرنے سے اجتناب کریں۔
ماتم حسینؓ کے متعلق مفصل بحث ہو چکی، اب ہم شہدائے کربلا کی مکمل فہرست ہدیہ ناظرین کرتے ہیں، جس سے یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ میدانِ کربلا میں حضرت حسینؓ کے ساتھ حضرت علیؓ کے دوسرے صاحبزادگان مسمیٰ بہ ابوبکرؓ، عثمانؓ اور حضرت حسنؓ کے صاحبزادہ عمرؓ نے بھی جام شہادت نوش فرمایا حالانکہ مدعیان محبت اہلِ بیتؓ نے اپنی مجلسوں میں کبھی ان کا نام تک نہیں لیا اصحابِ ثلاثہؓ کے مبارک ناموں پر اولاد کے نام رکھنے سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت علیؓ حضرات حسنینؓ کو اصحابِ ثلاثہؓ سے غایت درجہ کی محبت و عقیدت تھی:
رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ الخ۔
(سورۃ الفتح: آیت 29)