Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

لغت کی مشہور کتاب المنجد میں مولیٰ کے 22 معنیٰ لکھے ہیں، مگر اس کے معنیٰ حاکم نہیں لکھے یعنی لغت عرب میں مولیٰ کا لفظ حاکم کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے ان معنوں میں آتا ہے۔

سبع معلقات میں طرفہ کے معلقہ میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:

فلو کان مولای امرأ ھو غیرہ لفرج کربی اولا نظرنی عدی ولکن امرأ ھو خانقی علی الشکر او التساؤل او انا مفتدی

ترجمہ: اگر میرا ابن عم کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ضرور میری تکلیف دور کرتا یا دوسرے دن تک مہلت دیتا لیکن میرا ابن عم ایسا آدمی ہے جو میرا گلا گھونٹتا ہے شکریہ پر یا سوال پر یا میں فدیہ دوں۔

پھر حضور اکرمﷺ نے یہ لفظ سیدنا زید بن حارثہؓ کے متعلق بھی فرمایا جیسا کہ انت اخوانا مولانا۔

(مشکوٰۃ: صفحہ 293)

اور قرآن مجید میں آتا ہے:

فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌

(سورۃ التحریم: آیت 4)

اور اِنَّ اَوۡلَى النَّاسِ بِاِبۡرٰهِيۡمَ لَـلَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا

(سورۃ آل عمران: آیت 68)

اگر مولیٰ کے معنیٰ حاکم لیے جائیں تو پہلی آیت کا مطلب ہوگا کہ جبرائیل اور صالح مؤمن نبی کریمﷺ کے حاکم ہیں، اور دوسری آیت کا مطلب ہوگا کہ ابراھیم علیہ السلام کے متبع نبی کریمﷺ کے حاکم ہوں گے، ظاہر ہے کہ لغت کے اعتبار سے مولیٰ بمعنیٰ حاکم استعمال ہونا ثابت نہیں ہے۔

علم معانی کے لحاظ سے تحقیق:

اگر یہ فرض لیا جائے کہ مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ آتا ہے (حالانکہ مفعل بمعنیٰ افعل کسی جگہ کسی مادہ میں استعمال نہیں ہوتا) تو اولیٰ بالتصرف صلہ ٹھہرانا کہاں کی لغت ہے؟ اولیٰ بالمحبت یا اولیٰ بالتعظیم کیوں نہ مانا جائے جسکا قرینہ خود حدیث میں موجود ہے کہ اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ: یعنی اے اللہ تو اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھتا ہے اور تو اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھتا ہے۔

یعنی حضور اکرمﷺ نے خود لفظ مولیٰ کے معنیٰ کی تعیین فرما دی، کہ عداوت کے مقابلے میں یہ لفظ استعمال فرمایا اور ظاہر ہے کہ عداوت مقابلے میں محبت کا لفظ استعمال ہوتا ہے حکومت کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔

روح المعانی میں ایک قول فیصل دیا گیا:

وقد انکر اھل العربیة قاطبۃ بل قالوا کم یجئ مفعل بمعنی افعل اصلاً

ترجمہ: تمام اہلِ عربیت نے مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ کا انکار کیا ہے بلکہ انکا کہنا ہے کہ مفعل بمعنیٰ افعل قطعاً نہیں آتا۔

لفظ مولیٰ کے معانی کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد نے فیصلہ کن بات کہہ دی:

الا تری کیف لم یصرح النبیﷺ بالخلافة بعدہ بلا فصل یوم غدیر واشارة الیھا بکلام مجمل مشترک بین معان یحتاج فی تعیین ماھو المقصود منھا الی قرائن حالیۃ اور مقالیۃ(فصل الخطاب: صفحہ 182)

ترجمہ: کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلافصل کی تصریح نہیں فرمائی بلکہ مجمل مشترک معانی کثیرہ میں جو کلام فرمائی وہ قرائن حالیہ یا مقالیہ کی محتاج ہے جن سے مقصود کا تعین نہیں کیا جا سکے۔

مجتہد صاحب کے فیصلے کا ماحصل یہ ہے کہ جو کلام مقصود کی تصریح میں قرائن کی محتاج ہو اس سے اصولی مسائل ثابت نہیں کیے جا سکتے۔

ایک اور شیعہ مجتہد نے ایک اصولی بات بیان فرمائی ہے کہ:

قال اللہ تعالیٰ یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ الخ

والتبلیغ لا یکون آلا بالتفسیر

(الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ: صفحہ 21)

ترجمہ: پوری تفسیر کے بغیر تبلیغ اصولاً ہوتی ہی نہیں،

اور ظاہر ہے کہ جب حضورﷺ نے لفظ مولیٰ کی تفسیر نہیں فرمائی تو اس حکم کی نہ وضاحت ہوئی اور نہ تبلیغ ہوئی جس لفظ کی وضاحت یا تفسیر خود متکلم نے نہیں فرمائی اس اسے ایک اصولی مسئلہ خلافت بلافصل ثابت کرنا تکلف بےجا یا سینہ زوری کے سوا کچھ نہیں۔

شیعہ علماء میں سے میر حامد حسین لکھنؤی نے اپنی کتاب طبقات الانوار میں اور مولوی علی محمد نے فلک النجات میں سیدنا علیؓ کی خلافت پر سب سے بڑی دلیل اور نص جلی یہی حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ پیش کی ہے اور اس حدیث کا تفصیلی جائزہ لینے سے واضح ہو گیا کہ یہ دلیل مجمل مشترک اور معنیٰ متعین کرنے میں دوسری دلیل کے محتاج ہے پھر خلافت بلا فصل کی دلیل کیسے بن سکتی ہے۔

محدث نوری نے شیخ صدوق پر خوب جرح کی ہے، شیخ مذکور نے تحریف قرآن کا انکار کیا ہے محدث نوری نے فصل الخطاب میں اسکو رد کیا ہے کہ اگر قرآن کی تحریف کا انکار کیا جائے، تو حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کا معاملہ گڑ بڑ ہو جاتا ہے اس لیے تحریف قرآن کا اقرار کرنا درست ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کی آیت قرآن میں موجود تھی مگر صحابہؓ نے وہ آیت نکال دی۔

چنانچہ محدث نوری فصل الخطاب: صفحہ 343 پر شیخ صدوق کے متعلق لکھتا ہے:

قلت لشدة حرصه على اثبات مذهبه يتعلق بكل ما يحتمل فيه تائيدًا لمذهبه ولا يلتفت الى لوازمه الفاسدة التي لا يمكن الالتزام به فان ما ذكره من شبهة هي الشبهة التي ذكرها المخالفون بعينيها و او ردوھا علی اصحابنا المدعيين لثبوت النص الجلى على أمامة مولانا على واجابوها بما لا يبقى معه ريب وقد أحياها بعد طول المدة غفلة او تناسيا مما هو مذكور في كتب الامامية

ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ شیخ صدوق اپنے مذہب کے ثابت کرنے کا اتنا حریص ہے کہ جس بات میں ذرہ بھر احتمال پاتا ہے اپنے مذہب کی تائید میں لے لیتا ہے اور اس کے نتائج فاسدہ کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ ان نتائج کو تسلیم کرنا اس کے امکان میں نہیں جو اعتراض اس نے تحریف قرآن پر کیے ہیں بعینہ وہی اعتراض ہمارے مخالفین حضرت علیؓ کی امامت پر نص جلی کے موجود ہونے پر اصحاب شیعہ پر کرتے ہیں، اور ہمارے اصحاب نے ان کا جواب ایسے عمدہ طریقہ سے مدلل طور پر دیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں رہی مگر شیخ صدوق نے ایک طویل زمانہ کے بعد پھر ان اعتراضات کو زندہ کیا ہے اور جو کچھ کتب امامیہ میں کہا ہے اس سے غفلت برتی ہے یا فراموش کر دیا ہے۔

خلافت بلافصل ثابت کرنے کے لیے بلاشبہ بہت کوششیں ہوتی رہیں مگر شریف مرتضیٰ علم الھدیٰ نے ان پر پانی پھیر دیا چنانچہ شافی: صفحہ 115 پر فرماتے ہیں۔

ولا شك في انه علی لم يدع الامامة متظاهر الا عند البيعة۔

ترجمہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علیؓ نے کبھی دعویٰ امامت کا اظہار نہیں کیا سوائے اس زمانہ کے جب ان کی بیعت ہوئی۔

ظاہر ہے کہ جس بات کے حضرت علیؓ خود مدعی نہیں ہیں وہ بات ان کے متعلق ثابت کرنے کی کوشش واقعی ایک عجیب حرکت ہے، رہا حدیث پر جرح کا معاملہ تو اصول کے اعتبار سے یہ حدیث مجمل مشترک قرار پائی اس اصطلاح کی حقیقت فںٔی اعتبار سے واضح کر دینا مناسب ہے۔

والمجمل وهو ما خفي المراد منه بنفس اللفظ خفا لا يدرك الا بالبيان من المجمل سواء كان ذلك لتزاحم المعاني المتساوية الاقدام كالمشترك او لغرابة المعاني(نامی شرح حسامی)

ترجمہ: نص مجمل وہ ہے جس سے مراد نفس لفظ میں پوشیدہ ہو اور وہ پوشیدہ معانی اس کے بغیر معلوم نہ ہو سکیں کہ اجمال کرنے والا خود بیان کرے کہ اس سے مراد فلاں معانی ہیں یہ اجمال انبوہ معانی کی وجہ سے ہوگیا ہو تو تمام برابر ہیں مثل مشترک کے یا بوجہ غرابت معانی کے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ حدیث مجمل مشترک ہے اور یہ حضور اکرمﷺ نے فرمائی ہے اس لیے اس اجمال کی تفصیل جب تک حضور اکرمﷺ کی زبان مبارک سے نہ ہو اس کے تفصیلی معنیٰ متعین نہ ہوں گے، یہ بات اصول کے خلاف ہے کہ اجمال تو حضورﷺ کریں اور تفصیل ہرکہ و مہ( ہر خاص و عام) کرنے لگے، لہٰذا اصولاً اس امر کی ضرورت ہے کہ اس اجمال کی تفصیل حضورﷺ کی ایسی حدیث سے کی جائے جو متواتر ہو اور اپنے مدلول مطابقی خلافت بلافصل پر نص صریح غیر مؤول بھی ہو اور حضورﷺ کا ارشاد ہو کہ مولاہ کے معنیٰ خلافت بلافصل ہے۔

لفظ مولیٰ مجمل کے علاوہ مشترک بھی ہے اس لیے مشترک کا حکم بھی اصول فقہ کے قاعدہ سے معلوم کر لینا ضروری ہے: 

حكم المشترك التامل فيه حتى یترجح احد معينه التامل في نفس الصيغة او غيرها من الادلة او الامارات لترجیح احد معنيہ

ترجمہ: مشترک کا حکم یہ ہے کہ اس میں مائل کیا جائے اور یہ غور و فکر یا تو نفس لفظ میں ہوگا اور اشارات اور علامات میں تو ایک خاص معنیٰ کی ترجیح کے لیے دلائل بن سکیں۔

یعنی ایک معنیٰ پر دوسرے معنیٰ کی ترجیح ثابت ہونے یا بیان کے بعد نص قابل عمل تو ہو سکتی ہے مگر اس نص سے اصول یا عقائد ثابت نہیں ہو سکتے۔

اب اس حدیث (من کنت مولاه الخ) کو واقعاتی پس منظر میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ واقعہ ہے کہ یہ الفاظ حضور اکرمﷺ نے غدیر خم پر فرمائے، اور بقول شیعہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور دستار بندی کرائی گئی، یہ تینوں امور وضاحت طلب ہیں۔

اول دستار بندی: دستار بندی سے بالعموم یہی بات یعنی خلافت یا جانشینی سمجھی جاتی ہے مگر یہ بات اس سے پہلے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے ساتھ پیش آ چکی تھی، اس لیے وہ پہلے ہی خلیفہ بلافصل بن گئے، جیسا کہ مشکوٰۃ باب اللباس میں ہے۔

عن عبد الرحمٰن بن عوف عممنى رسول اللہﷺ فندلها بین یدی ومن خلفی

ترجمہ: حضورﷺ نے مجھے پگڑی بندھوائی تھی ایک سامنے کر دیا تھا ایک پیچھے کر دیا تھا۔

دوم بیعت لینے کا معاملہ: علامہ علی الحائری مجتہد شیعہ نے اپنی کتاب موعظہ غدیر میں بیعت کی تفصیل دی ہے کہتے ہیں:

حضرت علیؓ کو ایک خیمہ میں بٹھایا گیا ایک ایک صحابی اندر جاتا اور بیعت کرتا تھا حتٰی کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی۔

یہ دلیل اس لحاظ سے وزنی ہے کہ لفظ مولیٰ کی وضاحت حضورﷺ نے گو اپنی زبان مبارک سے نہیں فرمائی مگر اپنے فعل سے فرما دی، مگر عقلی اور عملی اعتبار سے یہ دلیل بناوٹی معلوم ہوتی ہے وہ یوں کہ

1: تصور کیجیے ایک خیمہ میں حضرت علیؓ بیٹھے ہیں، باہر خلقت کا ہجوم ہے اس ہجوم میں سے ایک ایک آدمی خیمہ کے اندر باری باری جاتا ہے، حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور بیعت تو عہد ہے لازماً وہ ہر ایک سے عہد لیتے ہوں گے اگر اس سارے عمل میں کم از کم 3 منٹ صرف ہوں تو ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمیوں سے بیعت لینے میں 6200 گھنٹے یعنی 8 مہینے اور 18 دن اور 8 گھنٹے خرچ ہوئے کتنی طویل نشست تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ تین منٹ میں فارغ ہو کر اپنے کاروبار میں لگ گئے مگر حضرت علیؓ اتنی طویل مدت مسلسل ایک جگہ بیٹھے رہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجتہد لاہوری نے کہیں خواب کا واقعہ بیان نہ کیا ہو۔

2: تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ غدیر کے واقعہ کے بعد صرف 80 دن اس دنیا میں رہے پھر آپﷺ کا وصال ہوگیا۔

3: ان دونوں حقائق کو جمع کرنے سے نتیجہ نکلا کہ حضورﷺ کا وصال بھی ہوگیا تجہیز و تکفین بھی ہو گئی اور ابھی سیدنا علیؓ اسی خیمے میں بیٹھے بیعت لے رہے ہیں اور 178 روز بعد تک بیعت لیتے رہے۔

4:حضورﷺ کا وصال ہوگیا ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ثقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہیں خلافت کا معاملہ زیرِ بحث ہے مختلف رائیں پیش ہوتی ہیں، سیدنا علیؓ تو ابھی غدیر پر ایک خیمہ میں بیٹھے بیعت لے رہے ہیں مگر جو صحابہؓ بیعت سے فارغ ہو کر واپس مدینہ طیبہ پہنچ گئے ہیں وہ تو ثقیفہ میں موجود ہیں مگر ان میں سے کوئی ایک صحابیؓ یہ نہیں کہتا کہ کس جھمیلے میں پڑے ہو بیعت خلافت کچھ تو ہو چکی ہے اور کچھ ہو رہی ہے اور ہوتی جا رہی ہے۔

5: حضرت علیؓ رسولﷺ کے وصال کے بعد 178 دن 8 گھنٹے بیعت میں مصروف رہنے کے بعد غدیر خم سے روانہ ہوتے ہیں اور مدینہ طیبہ پہنچتے ہیں تو خلافتِ صدیقی کے چھ ماہ گزرتے ہیں اور حضرت علیؓ نے یہ نہ کہا کہ بیعت تو میں لیتا رہا ہوں تم کیسے خلیفہ بن گئے ہو بلکہ صدیق اکبرؓ کی بیعت کر لی، اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے 6 ماہ بعد سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیعت کی تھی یہ عقیدہ بھی علامہ الحائری نے حل کر دیا، کہ حضرت علیؓ 5 ماہ 28 دن بعد غدیر خم سے روانہ ہوئے 2 روز سفر میں لگ گئے ہونگے، چھ ماہ بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہیں بلا چوں و چرا سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیعت کر لی۔

6: حضورﷺ کے وصال کے وقت حضرت علیؓ مدینہ منورہ میں موجود ہی نہ تھے کیونکہ خیمہ میں بیٹھے بیعت لے رہے تھے اس لیے حضورﷺ کی تیمار داری اور تجہیز و تکفین اور حضورﷺ کے جنازہ میں بھی حضرت علیؓ شریک نہ ہو سکے۔

یہ تو علامہ حائری کے بیان کا تاریخی اور واقعاتی تجزیہ ہے، ایک اور شیعہ مجتہد "فصل الخطاب" فرماتا ہے کہ اس حدیث سے خلافت علیؓ بلافصل ثابت نہیں ہوتی، پھر ایک اور شیعہ مجتہد "احتجاج طبرسی" اس حدیث کو سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کے بارے میں قابلِ قبول تسلیم نہیں کرتے۔

فبعثه اللہ بالتعريض لا بالتصريح واثبت حجة اللہ تعريضا لا تحريصا بقوله من كنت مولاه الخ(احتجاج: صفحہ 130)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے آپ کو تصریح کے ساتھ نہیں بلکہ تعریض سے مبعوث فرمایا اور اللہ کی حجت تعریض سے ثابت کی تصریح سے نہیں جیسا کہ حضورﷺ نے فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں علی اس کے مولیٰ ہیں

اور صاحب استغاثہ نے یہ اصول بیان کر دیا کہ:

والتبليغ لا يكون الا بالتفسير

ترجمہ: تفسیر اور وضاحت کے بغیر تبلیغ ہو ہی نہیں سکتی۔

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ جس حدیث کو خلافت بلا فصل کے لیے نص کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے خود شیعہ مجتہد اور علماء اس حدیث کو خلافت بلا فصل کے لیے نہ بنیاد تسلیم کرتے ہیں نہ سند اور حجت مانتے ہیں۔

لفظ مولی کی مزید تحقیق:

لسان العرب: باب ولی، جلد 15 صفحہ 415

قال الزجاج الولى والمولىٰ واحد في كلام العرب وقال المنصور و من ھذا قول سيدنا محمدﷺ ایما امراة نکحت بغیر اذن مولها و رواه بعضهم بغیر اذن ولیھا بمعنى واحد وفيه قول سیدنا رسولﷺ من كنت مولاه فعلی مولاه ای من كنت وليه فعلى وليه الخ قال ابو العباس في قوله من كنت مولاه فعلى مولاه اى من احبني و تولانی فلیتولہ والموالاة ضد المعاداة

ترجمہ: زجاج کہتے ہیں کہ کلام عرب میں ولی اور مولیٰ مترادف ہیں منصور کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا قول ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ جس عورت نے بغیر اجازت اپنے مولیٰ کے نکاح کیا اور دوسری میں ہے بغیر اذن ولی کے نکاح کیا کیونکہ دونوں لفظ ایک ہی معنیٰ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں حضورﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہی ہے کہ جس کا میں ولی ہوں علیؓ بھی اسکا ولی ہے،

ابو العباس کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جس نے مجھ سے محبت کی اور دوستی رکھی اس نے علیؓ سے دوستی رکھی اور دوستی کی ضد دشمنی ہے۔

اور تاج العروس باب الولی میں ہے:

اگر ولی بمعنیٰ اسم فاعل ہو تو بمعنیٰ مطیع و فرمانبردار ہوگا اور اگر معنیٰ اسم مفعول ہو تو بمعنیٰ محسن و منعم ہوگا یعنی جس پر احسان یا انعام کیا گیا ہو۔

لغت عرب میں ولایت بکسرہ واؤ یا بفتح واؤ بمعنیٰ حکومت اور سلطنت کے نہیں آتے اور ولایت بالفتح تو ہمیشہ بمعنیٰ نصرت آتا ہے، نیز لفظ مولیٰ مطلق بغیر اضافت بمعنیٰ حاکم نہیں آتا ہاں کسی جزوی امر کی طرف اس کی اضافت ہو تو اس وقت اس کا معنیٰ متولی ثابت ہوگا جیسے ولی المسجد مولیٰ المسجد یا ولی البیت ولی الینم مگر لغت عرب میں مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ نہیں آتا چہ جائیکہ کہ اولیٰ بالتصرف کے معنیٰ لیے جائیں۔

قال تعالى مأواكم النار هي مولٰكم أى مصيركم وتحقيقه ان المولىٰ موضع الولى وهو القرب فالمعنى ان النار هی موضعكم الذي تقربون منه وتصلون اليه وقال الکلبی والزجاج والفراء و ابو عبيدة اللغوی اولی کم وان هذا الذي قالوه معنى وليس بتفسير اللفظ لانه لو كان مولیٰ واولىٰ بمعنى واحد باللغة اصح استعمال كل واحد منهما في مكان الآخر فكان يجب ان يصح ان يقال هذا مولىٰ من فلان وصح ان یقال ھذا اولیٰ فلان کما یقال ھذا مولیٰ فلان ولما بطل ذلک علمنا ان الذی قالوہ معنی لیس بتفسیر (تفسیر کبیر: جلد 8 صفحہ 193)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ان کے قریب ہے یعنی ان کے پہنچنے کی جگہ ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد قرب ہے تو اس کے معنیٰ یہ ہوئے جہنم وہ جگہ ہے جس کے قریب وہ جا رہے ہیں اور اس تک پہنچ رہے ہیں کلبی زجاج فراء اور ابو عبیدہ لغوی کہتے ہیں کہ مولٰکم کے معنی اولٰکم ہے اور یہ جو انہوں نے کہا ہے مفہوم کے اعتبار سے ہے لفظ مولیٰ کی تفسیر کے اعتبار سے نہیں، اگر لغت میں لفظ مولیٰ اور اولیٰ کے لفظ ایک ہی معنیٰ رکھتے ہوں تو ہر جگہ دونوں لفظوں کا استعمال صحیح ہوگا اس لیے جب ہم کہتے ہیں کہ یہ اس سے اولیٰ ہے وہاں یہ بھی صحیح ہونا چاہیے کہ یہ اس سے مولیٰ ہے اسی طرح یہ فلاں کا مولیٰ ہے کی جگہ یہ فلاں کا اولیٰ ہے درست ہونا چاہیے اور جب ایسا کرنا باطل ہے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے مفہوم کے اعتبار سے کہا ہے لفظ کی تفسیر کے اعتبار سے نہیں۔

حاصل کلام یہ ہوا کہ جن حضرات نے مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ کہا ہے انہوں نے حاصل معنیٰ کا بیان کیا ہے لفظ کی تفسیر بیان نہیں کی ورنہ ان کا قول جمہور عرب کے خلاف ہوگا، معلوم ہوا کہ اولیٰ کا صلہ تصرف بیان کرنا بالکل غلط ہے، بفرض محال یہ معنیٰ تسلیم کر لیے جائیں تو اس میں کئی تغیر کرنے پڑیں گے اول مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ پھر اولیٰ کو مقید کرنا قید تصرف سے پھر تصرف کو کسی خاص قید سے مقید کرنا پڑے گا، کیونکہ مطلق تصرف تو محال ہے یعنی اولیٰ بالتصرف بالمال يا بالجان، يا بالزوجہ يا بالبنات وغیرہ اگر تصرف مطلق ہو تو اس سے فرد کامل مراد ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تصرف کرنے میں تمام انسانوں میں ان سے حضرت علیؓ ہی اولیٰ ہیں یعنی سیدنا علیؓ کو انسانوں کی جان میں مال میں بیویوں میں بیٹیوں میں دوکانوں میں مکانوں میں ہر چیز میں تصرف کرنے کا حق ہے، اگر تصرف مطلق مردانہ لیں تو ظاہر ہے کہ نہیں لیا جا سکتا تو تصرف مقید بہ قید خلافت کے ہونا چاہیے یعنی اولٰكم الخلافة بلا فصل من بعدی مگر اس قید سے مقید تصرف کا کہیں وجود ملتا ہے نہ ثبوت پایا جاتا ہے۔ 

اصول روایت کے تحت حدیث کی تحقیق:

فان اعظم ما تمسك الشيعة بها على هدم قواعد الاسلام بادعاء خلافة على بلا فصل ان قصة الغدير كما هو المشهور موضوعة مكذوبة لانه لا يخلو طريق من طرقها من شیعی متهم بالكذب فی نقل وصل على او كذاب او متروك او منكر الحديث و ضعيف الحديث جدا او مجهول لا یدری من هو او ما هو فان قلت قد روى ان عليا انشد الناس فی الرحبة هل سمع احدكم رسول الله يقول یوم غدیر من كنت مولاه الخ۔ 

اقول نعم قد روى ذلك من طرق مختلفة والفاظ متفاوتہ فی بعضها ذكر الغدير و فی بعضه لا اثر فيها للغدير ولكن لایخلو طريق منها من شیعی بالكذب فی رواية فصل على أو کذاب او ضعیف او مجهول و ان الحق مع المحدثين الذين طعنوا فی قصة الغدير كالبخاری و ابی حاتم وابن ابی داؤد و ابراهيم الحربی وابن حزم وغيرهم والذی اثبتوا احظاؤا فيما زعموا والذين جعاره متواترا من المتاخرين الذين هم ليسوا من ائمة النقد فخطئھم اظھر من ان يخفى فلاتفتر باقوال هولاء ای من علماء الروافضتہ وعلماء اهلِ السنۃ الذين لم يبلغو امر تبۃ التنقيد تبعا للحكیم الترمذی و امثالہ من المستاهلين في الرواتہ والتحسين والتصحیح( تصحیح اغلاط حضرت تھانویؒ)

ترجمہ: شیعہ نے قواعدِ اسلام کو متزلزل کرنے اور دین اسلام کو منہدم کرنے کے لیے خلافت بلا فصل کے سلسلے میں جس دلیل سے تمسک کیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ غدیر کا قصہ جیسا کہ مشہور ہوگیا ہے موضوع اور جھوٹا ہے، کیونکہ اس کی سند کے طرق سے کوئی طریقہ ایسا نہیں جو کسی ایسے شیعہ سے خالی ہو جو سیدنا علیؓ سے روایت کرنے میں متہم بالكذب نہ ہو یا کذاب متروک منكر الحديث ضعیف یا مجہول نہ ہو، اگر تو کہے کہ مروی ہے کہ رحبہ میں حضرت علیؓ نے لوگوں کو قسم دلائی تھی کہ کیا تم میں سے کسی نے سنا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن فرمایا تھا من کنت مولاه الخ میں کہتا ہوں کہ ہاں یہ روایت کی گئی ہے اور مختلف طرق سے اور مختلف الفاظ سے بعض میں غدیر کا ذکر ہے بعض میں مطلق نہیں لیکن ان میں سے کوئی طریقہ سند ایسا نہیں جو کسی ایسے شیعہ سے خالی ہو جو سیدنا علیؓ کے روایت کرنے میں متہم بالکذب نہ ہو یا کذاب ضعیف اور مجہول نہ ہو، اس لیے وہ محدثین حق پر ہیں جنہوں نے قصہ غدیر پر طعن کیا ہے مثلاً امام بخاریؒ، ابو حاتم ابن ابی داؤدؒ، ابراہیم الحربیؒ اور ابن حزمؒ وغیره محدثین نے اسے ثابت کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں ٹھوکر کھائی ہے جس میں انہوں نے زعم کیا ہے اور متاخرین میں سے جنہوں نے اسے متواتر کہا ہے وہ جرح و تعدیل کے امام نہیں ہیں اس لیے ان کی رائے کا غلط ہونا ظاہر ہے، ایسے علماء کی رائے سے دھوکا نہ کھانا چاہیے خواہ علماء شیعہ ہوں یا اہلِ سنت کے ان علماء میں سے جو درجہ تنقید تک نہیں پہنچے، جیسا کہ حکیم ترمذی وغیرہ جو روایت حدیث اور اس کی تحسین و تصحیح میں متساہل ہیں۔

(تصحیح اغلاط حضرت تھانویؒ) 

واقعہ یہ ہے کہ حدیث من کنت مولاہ الخ کا مورد غدیر نہیں بلکہ اور ہے جس کی فصیل یہ ہے:

عن ابن عباسؓ عن بريده قال خرجت مع على الى اليمن و رایت منه جفوة فلما رجعت شكوت إلى النبی صلی اللہ علیہ وسلم فرفع رأسه الی وقال يا بريدة من کنت مولاہ فعلی مولاه ان كان قصة الغدير ثابت فهو في قصة بريدة و معناه ما قلناه يعنى من كان يحبني فليحب عليا لافي احبه فانت تحبنى فاحبب عليا ولا تبغضه

ترجمہ: ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ بریدہؓ سے بیان کرتے ہیں میں حضرت علیؓ کے ساتھ یمن میں گیا، میں نے ان سے کچھ زیادتی دیکھی واپسی پر میں نے حضور اکرمﷺ سے ان کی شکایت کی آپ نے میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا جو مجھے دوست رکھتا ہے وہ علی کو بھی دوست رکھتا ہے اگر غدیر کا قصہ ثابت ہو تو یہ بات بریدہ کے واقعہ میں کی گئی ہے اور اس کا مطلب وہی ہے جو ہم نے کہا ہے کہ جسے مجھ سے محبت ہے اسے علی سے بھی محبت کرنی چاہیے کیونکہ میں ان سے محبت کرتا ہوں جب تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو علی سے بھی محبت رکھ اس سے بغض نہ رکھ۔ 

یعنی حضرت بریدہؓ نے سیدنا علیؓ کے رویہ کے خلاف حضورﷺ سے شکایت کی تو حضورﷺ نے یہ الفاظ فرمائے، ایک شخصی رنجش دور کرنے کے لیے حضورﷺ نے جو الفاظ فرمائے انہیں ایک بنیادی عقیدہ کی دلیل بنا لینا تکلف محض ہے، اب ہم اس روایت کی سند پر تفصیلی بحث کرتے ہیں:

علامہ ابن عقدہ نے یہ روایت سات سندوں سے نقل کی ہے، اور ان سات سندوں میں ایک راوی ابو اسحاق موجود ہے جو شیعہ ہے پھر سعید بن وہب اور عبید اللہ بن موسیٰ بھی ملتے ہیں یہ دونوں شیعہ ہیں۔

فالحاصل ان رواية سعيد و إبى اسحاق لا يعتمد عليه من وجوه احدها ان ابا اسحاق منهم بالتشيع و ثانیها ان سعيد بن وهب لا يعتمد على روایته لانه شیعی و ثالثها ان ابن عقده ساقة لانه رافضی كذاب وعبيد الله بن موسىٰ فوقه من الشيعة

ترجمہ: مختصر یہ کہ سعید اور ابو اسحاق کی روایت پر بوجوہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا اول یہ کہ ابو اسحاق پر تشیع کا اتہام ہے، دوم یہ سعید بن وہب شیعہ ہے اس کی روایت قابل اعتبار نہیں، سوم ابن عقده ساقہ رافضی کذاب ہے اور عبید اللہ بن موسیٰ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ 

اور امام طحاوی کی حدیث من کنت مولاہ الخ میں اخبرنی ابو اسحاق موجود ہے اور محدث عبد الرزاق شیعہ نے اس حدیث کو اخراج کیا ہے۔ 

واخرج عبد الرزاق عن اسرائيل عن ابى اسحاق عن سعيد بن وهب قدر و جملة الروايات على ابى اسحاق وهو رافضى منهم

اب ان اسناد کا جائزہ لیا جاتا ہے:

پہلی سند: اس میں یہ حدیث زید بن ارقم سے چھ سندوں سے منقول ہے،

1: ما رواه عطبه العوفى ثم الكوفی قال سئلت زید ابن ارقم من كنت مولاه الخ

عطیہ کے متعلق تفصیلی بیان تحقیق فدک میں ہوگا

دوسری سند: ما رواه ابو عبيد عن ميمون إلى عبد الله قال قال زيد بن ارقم الخ۔ 

میمون ابو عبداللہ، امام شیعہ اس سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔ 

قال احمد احاديث مناكير وقال يحيىٰ بن حصين لا شيئ وقال النسائي ليس بالقوى وقال الحاكم ابو احمد لیس بقوى سقا حديثہ

تیسری سند: ما روي على بن الحسين قال حدثنا ابراهيم بن اسماعیل عن ابیہ عن سلمة قال سمعت زید بن ارقم الخ۔

اسمٰعيل بن يحيىٰ وسلمة متروكان وابراهيم الراوي عند ضعیف بروى احاديث مناكیر فسقط ھذہ الطریقۃ

چوتھی سند: مارواہ ابو اسحاق السبعي عن زيد بن ارقم اخرجه احمد بن محمد العاصمي قال اخبرنی الشيخ احمد بن محمد بن اسحاق قال اخبرنا على بن الحسين بن على الورسکی الراحی عن محمد بن کرام عن علی بن اسحاق قال ثنا حبيب بن حبيب اخو حمزه الزيات عن ابی بن اسحاق إبى زيد بن أرقم

محمد بن کرام: فرقہ کرامیہ کا پیشواء اور مقتداء ہے۔ 

پانچویں سند: ما رواه سلیمان الاعمش عن حبيب بن ابی ثابت من ابی الطفيل عن زيد

ابو طفيل: شیعہ رافضی تھا فلا يجتح بروايتہ

چھٹی سند میں بھی میں ابو طفیل موجود ہے، روایت کا دوسرا طریقہ براء بن عازب سے ہے۔

روى عنه على بن يزيد و ابو هارون العبدى عن عدي بن ثابت جرح: قال يزيد بن رابع رايته ولم احمل عنه لانه كان رافضیا وھو یروی حدیث اذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ولا شك في كوفه كاذبا وابو ھارون العبدی اصوء حالا منہ عدى بن ثابت ايضاً كان من كبار الشيعة فسقط حديث براء بن عاذب

 روایت کا تیسرا طریقہ سعد بن ابی وقاص سے ہے تین سندوں سے منقول ہے 

1: رواه موسى بن يعقوب الزمعى عن مهاجر بن سماء عن عائشة بنت سعد عن ابيها 

 جرح: موسى قال ابن المديني صيف الحديث منكر الحديث وقال النسائي ليس بالقوى سعد ضعيف الحديث منكر الحديث

2: احرجہ الحاكم عن إبى زكريا يحيىٰ بن محمد العنبري عن ابراهيم بن إبى طالب عن على بن المنذر عن فضيل عن مسلم الملائي من خيثمه بن عبد الرحمٰن عن سعد بن ابي وقاص

 جرح: اما خیثمة بن عبد الرحمن فكذبها بين

 مسلم امور متروك الحديث و منكر الحديث 

على بن المنذر شیعی محض وكذا ابن فضیل شیعی

3: ما رواه احمد بن محمد العاصي بسنده ابی ابن عقده عن ابراھیم بن وليد بن حماد قال اخبرنا ابى عن يحيىٰ بن يعلى عن يجرب بن صبيح عن اخت حمبد الطویل عن ابن جدعان عن سعيد بن مسيب عن سعد ابن ابي وقاص

جرح: ابن عقدة شیعہ ہے وضاع ہے کذاب ہے۔ 

یحییٰ بن یعلی، وهو شیعی فسقط قعۃ غدیر الی سعد بن ابى وقاص۔ 

چوتھا طریقہ: حذیفہ بن اسید ہے

رواه عنہ ابو طفیل اس پر جرح گذر چکی ہے

پانچواں طریقہ: اخرج ابن عقده عن عامر بن يعلى بن حمزة روايۃ طويلۃ من طريق عبد الله بن سنان عن ابى الطفیل واخرج ابن عساكر عن معروف بن خربوز عن ابى الطفيل 

چھٹا طریقہ: روی بکر بن احمد العصری عن فاطمہ بنت علی بن موسیٰ الرضا عن فاطمہ و زینب و ام کلثوم بنات جعفر بن کاظم

جرح: بکر بن احمد العصری شیعہ ہے

ساتواں طریقہ: عن ابى هريرة اس سند میں مطر الوراق عن شهر بن حوشب عن ابي ھریرہ یہ دونوں رافضی ہیں۔

معلوم ہوا کہ اصول روایت کے اعتبار سے یہ حدیث من كنت مولاه الخ ساقط الاعتبار ہے، اصول درایت کے لحاظ سے عقلی معیار پر پوری نہیں اترتی اور واقعات کے لحاظ سے جو تفصیل علامہ الحائری نے دی ہے وہ حقیقت سے زیادہ خواب کی بات معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ایسی حدیث سے خلافت بلافصل کا بنیادی اور اعتقادی مسئلہ ثابت کرنا کسی طرح معقول نظر نہیں آتا۔ 

علماء شیعہ کی طرف سے خلافت علیؓ کے ثبوت میں چار اور احادیث بیان کی جاتی ہیں جو فتح الباری: جلد 8 صفحہ 106 پر یکجا بیان کی گئی ہیں۔

1: ما اشاعته الرافضیۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اوصیٰ الى على بالخلافة وان يوفى ديونه وقد اخرج العقيلی وغيره في الضعفاہ في ترجمه حکیم بن جبیر عن طريق عبد العزيز بن مروان عن ابي هريرة عن سلیمان انه قال قلت یا رسول اللہ ان اللہ تعالیٰ لم یبعث نبیا الا بين له من یلى بعده فهل بين لك قال نعم علی ابن ابى طالب

ترجمہ: جو بات شیعہ نے رائج کر رکھی کہ نبی کریمﷺ نے اپنے بعد خلافت کی وصیت کی تھی اور یہ کہ سیدنا علیؓ حضورﷺ کا قرض بھی ادا کریں گے اس حدیث کو عقیلی وغیرہ محدثین نے ترجمہ حکیم بن جبیر میں درج کر کے ضعیف قرار دیا ہے۔

2: عن سلمان قلت یا رسول الله من وصیك قال وصيى و موضع سرى و خليفتى على اه‍لى و خير من اخلفه بعد على ابن ابى طالب

ترجمہ: سلیمان بیان کرتا ہے کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہﷺ آپ کے بعد آپ کا وصی کون ہوگا فرمایا علی یہ وصی ہوگا جو میرے اسرار کی جگہ ہے میرا خلیفہ ہوگا اور بہت اچھا خلیفہ ہوگا۔ 

3: عن ابی بریدہ عن ابيه رفعه لكل نبي وصى و ان عليا وصیی وولدی۔

ترجمہ: ابن بریدہ اپنے والد سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ہر نبی کا وصی ہوتا ہے اور میرا وصی علی ہے۔ 

4: عن ابی ذر رفعه انا خاتم النبیین و علی خاتم الاوصیاء او ردھا و غيرها ابن الجوزي في موضوعات

ترجمہ: ابو ذر رسول کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور علی خاتم الاوصیاء ہیں یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔

مختصر یہ کہ یہ چاروں حدیثیں وضعی ہیں جھوٹی ہیں، اور اصولی مسئلہ کی بنیاد صرف دلیل قطعی بن سکتی ہے جو نص صریح غیر مؤدل اور اپنے مدلول پر واضح ہو، اس لیے خلافت بلافصل کے لیے یا تو قرآن کی آیت ہو جیسے يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ(سورۃ ص: آیت 26)

ایسے ہی یا علی انا جعلناك خلیفہ من بعد محمد یا حضور اکرمﷺ کی متواتر حدیث ہو اور یہ دونوں چیزیں آج تک تو مل نہیں سکیں ممکن ہے آئندہ کوئی ڈھونڈ نکالے۔ 

3: ان چار احادیث کے علاوہ تیسرے نمبر پر ایک اور حدیث بطور دلیل پیش کی جاتی ہے اللألى المصنوعہ: جلد 1 صفحہ 325 حدیث لیلتہ الجن عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: 

كنت مع النبی صلی الله علیہ وسلم لیلۃ وفد الجن فلما انصرف بدون الا ان اتصرف فتنفس قلت ما شائك يا رسول الله قال نعيت الى نفسي قلت فاستخلف قال من قلت ابا بکر فسکت ثم مضى ساعة ثم تنفس قلت ما شانك قال نعیت إلى نفسي قلت فاستخلف قال من قلت عمرؓ فسکت ثم مضی ساعة ثم تنفس فقلت ما شاںٔك قال نعیت علی نفسی قلت فاستخلف قال من قلت علی ابن ابی طالب قال اماہ والذی نفسی بیدہ لںٔن اطاعوہ لیدخلو الجنۃ اجمعین، موضوع الحمد فیه علی مینا مولیٰ عبد الرحمن بن عوف قال فی التشیع لیس بثقۃ

ترجمہ: جس رات جنوں کا وفد آیا میں حضورﷺ کے ہمراہ تھا واپسی پر حضورﷺ نے ٹھنڈا سانس بھرا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا بات ہے فرمایا موت قریب معلوم ہوتی ہے میں نے عرض کیا خلیفہ مقرر فرما دیجیے فرمایا کس کو میں نے عرض کیا ابوبکر کو آپ خاموش ہو گئے پھر کچھ وقفے کے بعد ایسا ہی سانس لیا میں نے عرض کیا حضورﷺ کیا بات ہے وہی جواب ملا میں نے پھر وہی بات کہی فرمایا کسی کو عرض کیا عمرؓ کو پھر آپ خاموش ہو گئے پھر یہی ہوا میں نے عرض کیا علی کو فرمایا خدا کی قسم لوگ اگر اس کی اطاعت کریں گے تو وہ سب کو جنت میں لے جائے گا۔ یہ حدیث موضوع ہے اس میں علی بن مینا مولٰی عبد الرحمن بن عوف راوی ہے جو غالی شیعہ تھا قابل اعتبار نہیں ہے۔ 

میزان الاعتدال میں ہے کہ وہ ساقط الاعتبار ہے، تنزیہہ الشریعۃ میں کذاب لکھا ہے، ذخیرہ احادیث میں صحابہؓ کا ایک عام رویہ جابجا ملتا ہے کہ حضورﷺ کوئی بات پوچھتے تو صحابہؓ کہہ دیتے کہ اللہ و رسولہ اعلم خواہ صحابہؓ کو اس سوال کا جواب معلوم بھی ہوتا اپنے فہم پر اعتماد کرنے کی جگہ اللہ اور رسولﷺ کے سپرد کرتے تھے، اس حدیث میں ابن مسعود جیسے مزاج شناس رسول حضورﷺ کو پے در پے تین مرتبہ ایک اہم مشورہ دیتے ہیں اور حضورﷺ کے خاموش ہو جانے سے بھی یہ اشارہ نہیں پاتے کہ مجھے خاموش رہنا چاہیے، حدیث کے موضوع ہونے کی ایک عقلی دلیل تو یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ 

ابن مسعود کی دوسری روایت اسی مضمون کی ہے جس میں ہے حدثنا یحییٰ بن یعلی الاسلمی اور ابی عبد الله الحزلی عن ابن مسعود ہے

اول الذکر کے متعلق: جلد، 11 صفحہ، 304 پر ہے کہ کوفی شیعہ تھا اور ثانی الذکر کے متعلق: جلد، 12 صفحہ، 142 پر ہے کہ صحابہ سے بعض رکھنے والا شیعہ تھا۔ 

اسی کتاب کے صفحہ 326 پر ابن مسعود کی روایت یوں بیان ہوئی ہے: 

قال لي رسول الله سالت اللہ تعالیٰ ان يقدمك ثلاثا فابی على الا تقديم إبى بکر

ترجمہ: میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ علی کو خلفائے ثلاثہ سے پہلے خلیفہ بنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار ہوا اور خلافت صدیقی کی سے تقدیم کا حکم ہوا۔

اس روایت سے تو خلافت صدیقی کے منصوص ہونے اور مامور من اللہ ہونے میں کوئی شعبہ نہیں رہ جاتا۔ 

4: ایک اور حدیث خلافت بلا فصل کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے: 

انا مدينة العلم وعلى بابها قال يحيیٰ بن معین لا اصل له وقال البخاري انه منكر ولیس وجه صحيح وقال الترمذى انه منكر غريب وذكره ابن الجوزي في الموضوعات وقال الشيخ تقى الدين ابن دقيق العيد هذا الحديث لم يثبقوه وقال الذهبي في الميزان انه موضوع وقال شمس الدين الجزری انه موضوع وقال الذهبي في المیزان داؤد بن سليمان الغازي له نسخة موضوعة عن على بن موسى الرضا و قال ابن عساكر منكر جدا اسناد و متنا وكان ابو اسد اسمٰعيل بن المثنی الاستر آبادي بخط دمشق فقام اليه رجل فقال ایها الشيخ ما تقول في قول النبي صلی الله علیہ وسلم انا مدينة العلم وعلى بابھا قال فاطرف لحظۃ ثم رفع رأسه و قال نعم لا نعرف ھذا الحدیث علی التمام قال الجوز ما فی ھذا حدیث منکر مضطرب وقال المؤلف (والسیوطی) موضوع اضطرب فیه الرواۃ و فی سنده فضیل صحته یحییٰ بن معین،وقال ابن حبان یروی الموضوعات 

ترجمہ: یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر ہے اس کے صحیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں، امام ترمذیؒ نے فرمایا منکر ہے غریب ہے، شیخ تقی الدینؒ نے فرمایا یہ حدیث نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں ابن جوزیؒ نے اسے موضوعات میں لکھا ہے امام ذہبی نے میزان میں فرمایا یہ موضوع ہے، ابن جزریؒ کہتے ہیں یہ موضوع ہے، امام ذہبیؒ نے فرمایا کہ داؤد بن سلیمان غازی کا ایک نسخہ موضوعہ تھا جو اس نے علی بن موسیٰ الرضا سے لیا تھا ابن عساکرؒ کہتے ہیں کہ سند اور متن کے اعتبار سے نہایت منکر ہے، ابو اسعد اسماعیلؒ استر آبادی دمشق میں وعظ کہہ رہے تھے کہ ایک آدمی اٹھا سوال کیا کہ شیخ اس حدیث کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں آپ تھوڑی دیر سر جھکائے خاموش رہے پھر کہا ہمیں یہ حدیث معلوم نہیں، الجوزمانی نے کہا ہے یہ حدیث منکر مضطرب ہے سیوطیؒ کہتے ہیں کہ موضوع ہے اس کی سند میں فضیل ہے جو موضوع حدیثیں بیان کرتا تھا ابن حبان کہتے ہیں وہ موضوع روایات بیان کرتا تھا۔

میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 193 پر ہے ہذا موضوع اس موضوع حدیث سے زیادہ سے زیادہ حضرت علیؓ کی فضیلت کا بلافصل کا تو اشارہ تک نہیں ملتا۔

5:ایک اور حدیث بیان کی جاتی ہے 

عن بریده قال قال رسول اللہﷺ ان علیا منى وانا من علی وهو ولی كل مؤمن من بعدی۔

ترجمہ: حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی ہر مومن کا دوست ہے۔

میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 37 پر اس حدیث کے راوی افلج کے متعلق درج ہے 

قال ابن عدي شيعی قال الجوزماني مفند قال الترمذي هذا حديث غريب لا نعرفه الا من سليمان بن جعفر قال ابو حاتم ليس القوى وقال ضعیف

کتاب شیعہ محمد بن علی الدرد بیلی: جلد، 1صفحہ، 152 پر لکھا ہے کہ شیعہ تھا شیعہ راوی کی اس ضعیف حدیث سے بھی حضرت علیؓ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے خلافت بلافصل کی دلیل بنانا تو تکلف محض ہے۔ 

ان تمام احادیث کی تفصیلی جرح و تعدیل مطلوب ہو تو ذیل کی کتب رجال دیکھ لیں: 

میزان الاعتدال: امام ذہبیؒ

لسان الميزان: ابن حجرؒ 

تہذيب التہذيب: ابن حجرؒ 

تنزيہہ الشريعہ عن اخبار الموضوعہ: علامہ ابن عراق