لفظ مولیٰ کی تحقیق اور غدیر خم
احقر العباد نذیر احمد مخدوم سلمہ القیوملفظ مولیٰ کی تحقیق اور غدیر خم
سوال
حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر رسول پاکﷺ نے خطبہ دیا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ، من كنت مولاه فهٰذا علی مولاہ یعنی جس کا میں بادشاہ ہوں اس کا علی بھی بادشاہ ہے ۔ یہ اعلانِ خلافت تھا کیونکہ اسی موقع پر یہ آیت بھی نازل ہوئی: يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلْغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ اے نبی پاکﷺ جو کچھ تیری طرف نازل ہوا ۔ لوگوں کو پہنچا دے ۔ اگر تو نے نہ پہنچایا تو پیغمبری کا حق ادا نہ ہوا تو رسول پاکﷺ نے خلافتِ علیؓ کا مسلہ بیان فرما کہ پیغمبری کا حق ادا کر دیا۔ مگر خلفاء ثلاثہؓ نے اس پر عمل نہ کیا اور علی المرتضیٰؓ کا حق غصب کر لیا۔
جواب نمبر1
یہ آیت تبلیغ حجۃ الوداع سے پہلے نازل ہو چکی تھی بلکہ یہ تو مکی زندگی میں نازل ہوئی ہے ۔ ملاحظہ ہو تفسیر درِ منثور صفحہ 298 جلد 2
عن ابن عباس قال سئل رسول اللهﷺ ای آیة انزلت من السمآء اشد اليك قال كنت بمنىٰ ايام موسم و اجتمع مشركوا العرب و افتاء الناس في الموسم فنزل جبرئیل علیه السلام فقال يا أيها الرسول بَلَغَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں، رسول پاکﷺ سے سوال کیا گیا کونسی آیت سارے قرآن میں آپ پر سخت نازل ہوئی تو فرمایا میں منیٰ میں تھا۔ اور حج کا موسم تھا اور مشرکین عرب اور سردار لوگ حج کے لیے جمع تھے۔ پس جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا پایا يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ - الخ اس روایت سے معلوم ہوا کہ یہ آیت تو مکی زندگی میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ حجۃ الوداع کے موقع پر تو مشرکین عرب کا خاتمہ ہو چکا تھا اور اسلام کو پورا پورا غلبہ نصیب ہو چکا تھا۔
جواب نمبر 2
اس آیت کا تو خلافت علىؓ سے کوئی تعلق نہیں۔ باقى رہى حديث من كنت مولاه تو اس حدیث سے سیدنا علیؓ کی فضیلت تو ثابت ہوتی ہے۔ سرے سے خلافت ہی ثابت نہیں خلافت بلا فصل تو دور کی بات ہے۔ کیونکہ حدیث میں جو لفظ مولٰی فرمایا گیا ہے اس سے خلیفہ مراد لینا یہ صریح نہیں ہے کیونکہ لغت کی کتابوں میں لفظ مولٰی کے بيس معنٰى آتے ہیں ان معانی سے مولیٰ یعنی دوست بھی آتا ہے تو اب حدیث کا مطلب یہ ہو گا حضورﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں دوست ہوں اس کا على بھی دوست ہے جیسے باقی صحابہ کرامؓ کے متعلق آپﷺ نے فرمایا، من احبهم فبحبى احبهم یعنی صحابہ کرامؓ کے ساتھ محبت میرے ساتھ محبت ہے۔
سوال
من كنت مولاه فهذا علی مولاہ سے سیدنا علیؓ کی خلافت صراحتاً ثابت ہو رہی ہے ۔ اور آپ اجمال کا رٹا لگا رہے ہیں۔
الجواب
ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی میں بھی موجود ہے کہ اس حدیث من کنت مولاہ سے سیدنا علیؓ کی خلافت صراحتاً ثابت نہیں ہوتی بلکہ خلافت کی طرف اشارہ ہے۔
فبعثه اللّٰه بالتعريض لا بالتصريح واثبت حجة اللّٰه تعريضاً لاتصريخا بقولہ فی وصیتہ من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ
(احتجاج طبرسی صفحہ 129 طبع تہران)
پس اللّٰہ نے آپ کو اشارہ سے مبعوث کیا، تصریح سے نہیں کیا اور آپﷺ نے حجة اللّٰه و علیؓ کو اشارہ سے ثابت کیا تصریح سے نہیں کیا۔ اپنے قول اور وصیت میں من کنت مولاه الخ
اس روایت سے معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کے لیے یہ نص صریح نہیں بلکہ خلافت کی طرف اشارہ ہے۔