استدلال شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کہتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے: وَالطَّيۡرُ صٰٓفّٰتٍ كُلٌّ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ الخ۔
(سورۃ النور: آیت 41)
ترجمہ: پرندے صف باندھے عبادت خدا ہر ایک کی نماز و تسبیح کو جانتا ہے اور ظاہر ہے کہ پرندے ہاتھ کھول کر عبادت کرتے ہیں اس لیے ہمیں بیہات کھول کر نماز پڑھنا چاہیے
جواب: انسان اشرف المخلوقات ہو کر پرندوں کی اتباع کرے یہ از بس عجیب بات ہے حیوانی اور انسانی عبادت میں ضرور تمیز ہونا چاہیے خدا ان بے تمیزوں کو ہدایت کرے کیسی بے تکی ہانکتے ہیں پرندے تو اپنے بازوں کو ہلاتے ہیں پھر شیعوں کو بھی بازو ہلاتے رہنا چاہیے پرندے اڑتے ہوئے پنچال بھی کرتے رہتے ہیں یہ بھی نماز میں بول و براز کرتے رہیں پرندے جدہر منہ آئے اڑتے جاتے ہیں قبلہ کے پابند نہیں لیکن انسان قبلہ کا پابند ہے اور ہمیں ایک جگہ کھڑے رہنے کا حکم ہے: وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ
(سورۃ البقرہ آیت 238)
یعنی عجز و انکساری سے یکجا کھڑے ہو کر نماز گزارو غرض انسان ہو کر مایا عقل حیوانات چرند و پرند پر اپنے آپ کو قیاس کرنا ذوی العقول کے لیے زیبا نہیں ہے نہ یہ کوئی دلیل ہے بلکہ مضحکہ اطفال ہے شیعہ کی دلیل کا کیا کہنا
دوسری دلیل: دوسری دلیل شیعہ کی یہ ہے کہ صلوٰۃ الخوف میں مسلمانوں کو حکم ہے:
وَلۡيَاۡخُذُوۡا حِذۡرَهُمۡ وَاَسۡلِحَتَهُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 102)
اور اپنے ہتھیاروں کو پکڑ رکھا کریں یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے ہاتھ کھولے ہوئے ہوں ہاتھ باندھ کر ہتھیار کس طرح پکڑے جا سکتے ہیں
جواب: اول تو نمازِ خوف پر دوسری نماز کا قیاس نہیں ہو سکتا وہ حالتِ مجبوری ہوتی ہے اس لیے ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ کر ایک فریق لڑنے کو چلا جاتا ہے دوسری جماعت آ کر نماز پڑھتی ہے پھر پہلی جماعت آ کر بقیہ نماز پڑھ لیتی ہے لیکن صلوٰۃ امن میں ایک رکعت پڑھ کر کوئی ایسا عمل کرے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
دوم: شیعہ کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ سپاہی ہاتھوں میں ہتھیار پکڑے نہیں رکھتے بلکہ اکثر ہتھیار بندھے ہوتے ہیں اور عہدِ رسالت میں تو ہتھیار ہی اس قسم کے تھے جو جسم سے بندھی ہوئے ہوتے تھے تلوار کمر سے بندی رہتی تھی ترکش جھولا میں پڑی ہوئی جسم سے پیوست ہوتے تھے ایسی صورت میں ہاتھ باندھ کر غازی نماز پڑھ سکتے تھے اور وَلۡيَاۡخُذُوۡا حِذۡرَهُمۡ وَاَسۡلِحَتَهُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 102) ہتھیار پکڑے رکھو کی تعمیل بھی ہو جاتی تھی شیعہ کو استدلال سے شرم آنی چاہیے مگر کیا کریں الغریق یتشبت بالخیش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔
شیعہ ایک یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ امام مالک رحمۃاللہ کے نزدیک ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کا حکم ہے۔
جواب:جی یہ بھی شیعہ کا ایک دھوکا ہے کیونکہ حقیقت میں یہ امام مالک رحمۃاللہ مجتہد کا مذہب نہیں بلکہ ایک اور صاحب مالک بن عطیہ ہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر بہت زور دیا شیعہ ہمنامی کی وجہ سے اس مسئلے کو امام مالکؒ کی طرف منسوب کر بیٹھتے ہیں امام مالکؒ کی مشہور و متداول کتاب مؤطا امام مالک موجود ہے اس میں وضع الیدین احداھما علی الاخری حدیث موجود ہے امام معصوم بھی نماز میں ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں علاوہ ازیں ہم امام ممدوح کے مقلد نہیں ہیں کہ قول امام ہم پر حجت ہو سکے یہ سب بودے دلائل ہیں شیعہ کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ ہماری کتبِ صحاح اور معتبر کتب فقہ سے ائمہ اہلِ بیتؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مذہب ہاتھ کھول کر نماز پڑھنا ثابت کر دیں بلکہ وہ اپنی کتابوں سے بھی ثابت نہیں کر سکتے ہم نے قرآن و حدیث اور کتبِ شیعہ سے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا ثبوت پیش کر دیا ہے کیا شیعہ حضرات سے کوئی صاحبِ انصاف ہے جو ضد چھوڑ کر رائے راست پر آ جائے۔