Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل تشیع کے ہاں عورت کو غیر منقولہ جائیداد (زمین،  باغ،  گھر وغیرہ)بطور وراثت ملتی ہی نہیں ہے۔ (شیعہ کی مستند روایات)(قسط 10)

  جعفر صادق

اہل تشیع کے ہاں عورت کو غیر منقولہ جائیداد (زمین،  باغ،  گھر وغیرہ)بطور وراثت ملتی ہی نہیں ہے۔ (شیعہ کی مستند روایات)(قسط 10)

 سنی مناظر میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں بلکہ ہمارے درمیان یہ طے شدہ بات ہے کہ آپ کی تحریر کے ہر ایک نکتہ پر ترتیب سے گفتگو ہوگی اور ہر نکتہ کلیئر کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے گا۔  اس وقت آپ کی تحریر کے پہلے مرحلے کا الف زیر بحث ہے۔  سیدنا علی کے متعلق گفتگو آپ کی تحریر کے ب میں ہے۔

  آج آپ نے میرے وضاحت طلب نکات کے جوابات دیکر اپنی تحریر کے الف کا دفاع کرنا تھا، مجھے لگتا ہے آپ لاجواب ہوچکے ہیں، اس لئے پرسوں کا موضوع آج ہی زیر بحث لانے کے خواہشمند ہیں۔ لیکن میں کل تک آپ کو مزید وقت دیتا ہوں تاکہ گروپ ممبرز یہ جان سکیں کہ شیعہ جو کہتے ہیں اس میں کتنا سچ ہوتا ہے!

اس وقت میں الزامی جواب دیکر ثابت کر رہا ہوں کہ جب سیدہ فاطمہؓ نے فدک  کا مطالبہ کیا تو اس کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نہیں کیا تھا بلکہ خود نبی کریمﷺ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ انبیائے کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا  کردار صرف اتنا ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ  کا فیصلہ  نہایت عاجزی کے ساتھ سیدہ فاطمہؓ کی خدمت میں پیش کر دیا ، جسے سن کر سیدہ  خاموش ہوگئیں۔ اہل علم کے نزدیک خاموشی رضامندی ہوتی ہے جب تک قرآن اس کے خلاف نہ ہوں۔

نبی کریم ﷺ کا یہ فیصلہ متفق علیہ بین الفریقین ہے یعنی دونوں مسالک اہل سنت و اہل تشیع کی اوّل درجے کی کتب میں صحیح روایات سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔

اس کے علاوہ میں حجت تمام کرتے ہوئے یہ بھی ثابت کروں گا کہ اہل تشیع کے ہاں عورت کو غیر منقولہ جائیداد بطور وراثت ملتی ہی نہیں ہے۔

(باب ثواب العالم والمتعلم)
1 - محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر.
(اصول کافی جلد 1  ص 18,19)

اس روایت کی دو اسناد ہیں۔ دوسری سند کی توثیق علامہ باقر مجلسی نے کی ہے

 اب میں دوسری دلیل بھی پیش کرتا ہوں کہ اہل تشیع کے ہاں عورت کو غیرمنقولہ ملکیت بطور وراثت نہیں ملتی۔ غیر منقولہ سے مراد ایسی ملکیت جو منتقل نہ کی جاسکے یعنی زمین،  باغ،  گھر وغیرہ۔

کلینی نے اصول کافی جو اہل تشیع کی اصول اربعہ کی اول درجہ کی کتاب ہے اس میں باقائدہ ایک مستقل باب لکھ  کر کے کئی روایات شامل کی ہیں۔

2 - عدة من أصحابنا، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، وحميد ابن زياد، عن ابن سماعة جميعا، عن ابن محبوب، عن علي بن رئاب، عن زرارة، عن أبي جعفر عليه السلام أن المرأة لا ترث مما ترك زوجها من القرى والدور والسلاح والدواب شيئا  وترث من المال والفرش والثياب ومتاع البيت مما ترك ويقوم النقض  والأبواب والجذوع والقصب فتعطى حقها منه
(اصول کافی کتاب المواریث صحفہ 83)

ان تمام روایات کی توثیق

 شیعہ کی اصول اربعہ میں شامل کتاب من لا یحضرہ الفقیہ  میں شیخ صدوق نے بھی اسی قسم کی روایت شامل کی ہے۔

5748 وروى علي بن الحكم ، عن أبان الأحمر، عن ميسر عن أبي عبد الله عليه السلام قال: " سألته عن النساء مالهن من الميراث؟ فقال: لهن قيمة الطوب والبناء والخشب والقصب فأما الأرض والعقارات فلا ميراث لهن فيه، قال: قلت: فالثياب؟ قال: الثياب لهن: قال: قلت: كيف صار ذا ولهن الثمن والربع  مسمى؟ قال: لأن المرأة ليس لها نسب ترث به إنما هي دخيل عليهم، وإنما صار هذا هكذالئلا تتزوج المرأة فيجئ زوجها وولد قوم آخرين فيزاحم قوما في عقارهم ".
(من لا یحضرہ الفقیہ جلد 4 صحفہ 255)

اس روایت کا اردو ترجمہ

 ان تمام حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فدک کا فیصلہ نبی کریمﷺ خود فرما چکے تھے۔ اہلِ تشیع  اہلِ سنت کی احادیث سے نامکمل عبارات دکھا کر اور اپنی ہی کتب میں موجود واضح حقائق چھپا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

 میرے الزامی جوابات  کا رد کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک اور موقعہ دیتا ہوں کہ کل مزید تحقیق کر کے آئیں اور اپنی تحریر کے الف پر میرے وضاحت طلب نکات کا علمی رد کریں تاکہ اس کے بعد ہم سیدنا علیؓ کے متعلق گفتگو شروع کریں۔اگر آپ کا علمی رد کل بھی نہ آیا تو پھر مزید گفتگو نہیں کی جائے گی۔  اللہ حافظ۔