حق زہرا : سُنی و شیعہ لاجواب مناظرہ (شیعہ مناظر ہر دلیل پر لاجواب)(قسط 27)
جعفر صادقمختصر تبصرہ
حق زہرا : سُنی و شیعہ لاجواب مناظرہ (شیعہ مناظر ہر دلیل پر لاجواب)(قسط 27)
اہل سنت مناظر: ممتاز قریشی /اہل تشیع مناظر: محمد دلشاد
شیعہ مناظر کی دلیل: صحیحین میں سیدہ کی ناراضگی ثابت ہے۔ (صحیح بخاری)
سنی مناظر کا اشکال:
1۔ ناراضگی کا اظہار دکھائیں۔ صحیحین میں سیدہ کی ناراضگی کے وہ الفاظ یا سیدہ کے چہرے یا جسمانی تاثرات دکھائیں۔
2۔ جن احادیث میں ناراضگی کے الفاظ ہیں ، ان سب میں ابن شھاب راوی ہے، اور یہ اس کا ادراج ہے، کسی اور طرق سے ناراضگی کے الفاظ دکھائیں۔
شیعہ مناظر: لاجواب
اہل سنت کا صحیحین کی احادیث پر دو ٹوک مؤقف ہے کہ ناراضگی کے الفاظ کسی مرد راوی کے ہیں، تحقیق کے مطابق صرف ایک ابن شہاب راوی کی کچھ روایات میں یہ الفاظ ہیں اور وہ ناراضگی بھی سیدہ فاطمہ کے اپنے الفاظ سے بیان نہیں ہوئی ہے، حالانکہ مطالبہ فدک پر کئی اور طرق سے بھی صحیح روایات موجود ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ کسی اور راوی نے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی بیان نہیں کی؟ یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ صرف ابن شہاب نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی کو ناراضگی پر محمول کیا اور یہ اس کا اپنا گمان تھا جو غلط تھا کیونکہ اس کا رد کئی مضبوط حقائق سے ہوتا ہے۔
شیعہ اعتراض: صحیحین کا راوی غلط کیسے کہہ سکتا ہے؟ کیا اس نے جھوٹ بولا ہے؟کیا روایت غلطی سے داخل ہوگئی ہے؟
سُنی مناظر:
امام زہری معصوم نہیں تھا، قرآن کریم میں تو انبیائے کرام کے اندازے(گمان) غلط ہونا ثابت ہیں، جب معصوم کے گمان غلط ہوسکتے ہیں تو راوی سے کیوں نہیں جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔
سورت طہہ 94 کے مطابق حضرت موسیٰ اور حضرت ھارون میں جھگڑہ ہوا، بتائیں کونسا نبی غلطی پر تھا؟
شیعہ مناظر: لاجواب۔
شیعہ مناظر کا بچگانہ ضد:صرف اتنا بتائیں کہ صحیحین میں ناراضگی کے الفاظ موجود ہیں کہ نہیں؟
سُنی مناظر:
صحیحین میں ناراضگی کے الفاظ موجود ہیں لیکن صحیح روایت کا وہ حصہ ایک راوی کا ذاتی گمان ہے جو درست نہیں ہے۔ اس مطالبہ فدک کے بعد سنی و شیعہ کتب سے ہی سیدہ فاطمہ کی آخری ایام میں شیخین سے ملاقات بھی ثابت ہے، ابن شہاب کو اس کا علم نہیں ہوسکا ،ورنہ ایسا گمان بیان نہ کرتا۔
شیعہ مناظر کا جھوٹ: سُنی مناظر نے امام زہری کو گمان کرنے والا خطا کار کہا ہے۔
سُنی مناظر :
اسکرین شاٹ دکھائیں۔ یہ مجھ پر بہتان ہے۔
(لیکن جھوٹ کے پاؤں ہوتے تو نظر بھی آتے!)
غلط گمان تو نبیوں سے بھی ثابت ہیں، یہ کوئی گناہ نہیں کیونکہ کرنے والے کی نیت نیک ہوتی ہے۔
شیعہ مناظر: لاجواب۔
شیعہ مناظر: فدک پر صدیقی فیصلہ قرآن کے خلاف ہے؟
سُنی مناظر:
کیسے خلاف ہے؟ دلیل دیں۔ میراث کی آیات کے مطابق بھی فدک پورا سیدہ فاطمہ کا حق کس طرح بنتا ہے؟ وضاحت کریں۔
شیعہ مناظر: لاجواب۔
پورے مناظرے میں شیعہ مناظر کا مغرورانہ انداز، نامکمل حوالے، عبارات میں جو نکتہ دکھانا تھا وہ غائب۔ میں صرف عربی دکھاؤں گا باقی آپ خود سمجھیں۔ ایک جگہ کہا مجھ سے جواب طلبی کی امید نہ رکھیں۔ ایک ساتھ کئی حوالوں کی بھرمار!! بس کاپی پیسٹ زندہ باد!!
سُنی مناظر کے الزامی دلائل
1۔ اصول کافی کی صحیح روایت کے مطابق انبیائے کرام کی وراثت نہیں ہوتی۔
شیعہ مناظر کا رد: اس روایت میں علماء کرام کو ملکیت نہ ملنے کی بات کی گئی ہے۔
سُنی مناظر کا اشکال:
وراثت رشتہ داروں کو ملتی ہے۔ علماء اس سے مراد نہیں ہوسکتے اس لئے مالی وراثت کی نفی قریبی رشتہ داروں کے لئے ہے۔ دلیل کا رد قول معصوم سے یا کسی شیعہ جیّد عالم سے یا کسی مناسب تاویل سے کریں۔
شیعہ مناظر نے شیعہ صحیح روایت کا رد اہل سنت کی احادیث سے کرنا شروع کردیا ، جبکہ یہ مناظروں کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ جس مسلک کی روایت ہو، رد بھی اسی مسلک سے کرنا ہوتا ہے۔ البتہ الزامی رد بعد میں کیا جا سکتا ہے۔
2۔ اصول کافی کی چار صحیح روایات کے مطابق عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہے۔ یہی روایت من لا یحضرہ الفقیہ سے بھی پیش کی گئی۔
شیعہ مناظر کا رد: یہ پورا باب بیوی کے متعلق ہے۔
سُنی مناظر کے سوال:
اس باب کے نام میں زوجہ کا لفظ دکھائیں۔ اسی پیج پر موجود چار میں سے دو روایات (4,6) میں زوجہ کا لفظ دکھائیں۔
شیعہ مناظر: لاجواب
شیعہ مناظر کا ایک اور رد: ہماری مدرسوں کی کتب میں عورت زمین کی وارث ہونا موجود ہے۔ دو کتب سے عکس پیش کئے گئے۔ (اللمعتہ الدمشقیہ ، تحریر الوسیلتہ خمینی)
سُنی مناظر کا اعتراض:
ان میں کہیں پر بھی مطلوبہ عبارت موجود نہیں ہے کہ عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث ہوگی۔ نشاندھی کریں۔ کیا امام معصوم کے صحیح اقوال کو شیعہ فقہاء مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، اس کی بھی وضاحت کریں۔
شیعہ مناظر: لاجواب۔
سُنی مناظر نے ثابت کردیا کہ اہل تشیع کتب اور ان کے علماء کا معیار کیا ہے! جو باتیں آج ایک بچہ بھی جانتا ہے، ان بنیادی باتوں سے شیعہ مجتہدین یا تو لاعلم تھے یا جان بوجھ کر قرآن کے خلاف روایات کی توثیق کرتے رہے جبکہ خود نبی کریم اور اہل بیت سے بھی مروی ہے کہ قرآن کے خلاف روایت مسترد کردو ، لیکن شیعہ مجتہدین اور محدثین نے اس قول امام معصوم پر بھی عمل نہیں کیا اور ایسی بیشمار صحیح روایات شیعہ کتب میں بھری پڑی ہیں جو قرآن کے خلاف ہیں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل تشیع کی ضعیف روایات ہوں یا صحیح روایات، دونوں ہی قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ خود اہل تشیع بھی انہیں تسلیم نہیں کرتے! انا لللہ وانا الیہ راجعون۔
سُنی مناظر نے دوٹوک کہہ دیا کہ اہل تشیع کی ان صحیح روایات میں بیوی کا ذکر ہے یا عورت کا! یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ دونوں صورتوں میں یہ علامہ مجلسی کی توثیق شدہ روایات خلاف قرآن ہیں! ایسے محدثین شیعوں کو ہی مبارک ہوں۔
سُنی مناظر نے یہ بھی کہا کہ قول معصوم بمعہ توثیق دکھا کر چار صحیح روایات شیعہ کی سب سے معتبر کتاب اصول کافی سے دکھا چکا ہوں جسے خود شیعہ مناظر بھی تسلیم کرچکے کہ یہ روایات خلاف قرآن ہیں، اس سے زیادہ حجت کیسے تمام کی جاتی ہے۔
سُنی مناظر کا یہ جواب بھی غور طلب ہے کہ قول معصوم کے آگے شیعہ فقیہ کے فتوی پر عمل کرتے ہیں تو یہ ان کی مجبوری ہے، اور عقیدہ امامت کا انکار بھی! کیونکہ شیعہ تو بعد از نبی امام معصوم سے ہدایت لینے کا دعوی کرتے ہیں! اگر فقیہ کے فتووں پر ہی چلنا تھا تو اہل سنت کی صحیح احادیث نبوی نے کیا قصور کیا ہے جو عین قرآن کے مطابق بھی ہیں!
شیعہ مناظر کا سوال: کیا قرآن کی کوئی آیت ہے جس میں نبی کی بیٹی کو حق ارث سے محروم کرنے کا حکم آیا ہو؟
سُنی مناظر :
کیا قرآن میں نبی کی مالی ملکیت کا ذکر ہے؟ آیات قرآنی مین صرف ورثہ دکھا کر اس سے مالی ملکیت کس طرح مراد لی جاسکتی ہے جبکہ شیعہ مناظر دوران گفتگو مختلف سنی و شیعہ احادیث سے نبیوں کی علمی میراث ثابت کرتے آرہے ہیں ۔اس کے علاوہ ہمارے درمیان شرط 3 میں طئے ہوا تھا کہ جو بات قرآن سے واضح نہ ہو تو احادیث نبوی سے دلائل دئے جائیں گے۔
دوران گفتگو شیعہ مناظر کی طرف سے غیر ضروری امام زہری کی توثیق اور تعریف پر تحریریں کاپی پیسٹ کر کے رکھی گئیں۔
سُنی مناظر:
امام زہری پر جب ایسا کوئی اعتراض ہی نہیں کیا گیا تو اس کی تعدیل کیوں پیش کی گئی ہے؟ امام زہری ثقہ راوی ہے، اس کا گمان غلط ہونے سے اس کی ثقاہت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جس طرح مثال دیکر سمجھایا ہے کہ نبی کے گمان غلط ہونے سے ان کی عصمت پر اثر نہیں پڑتا۔
شیعہ مناظر: لاجواب
شیعہ مناظر: علمائے اہل سنت بھی سیدہ کی ناراضگی تسلیم کرتے ہیں۔
سُنی مناظر:
اکثریت علمائے اہل سنت نے ناراضگی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ امام زہری کے گمان کا تعاقب کیا ہے اور شیعہ اعتراضات کا رد کیا ہے۔آپ کو چیلینج ہے ایک ایک عالم کا اسکین رکھ کر اس کے قول پر گفتگو کریں۔
شیعہ مناظر: لاجواب
شیعہ مناظر: فھجرت ابابکر ،وعاشت بعد رسول اللہ ، اور قالت و کانت فاطمہ تسال یہ حدیث سے مربوط ہے اور سیاق کے اعتبار سے فٹ ہے۔
سُنی مناظر:
ایک ہی راوی اگر روایت کرے گا تو ظاہر ہے تسلسل قائم رکھ کر ہی بیان کرے گا ،کسی اور نے بیچ میں یہ جملے شامل کئے ہوتے تو ممکن تھا بیچ میں کوئی ربط نہ ہوتا۔ آپ کو قالت کے بعد ناراضگی ثابت کرنی ہے۔
شیعہ مناظر: لاجواب۔
شیعہ مناظر: غضبناک ہونا عمل سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
سُنی مناظر:
کس عمل سے؟ دلیل کہاں ہے۔ بالفرض یہ سمجھا جائے کہ سیدہ فاطمہ کو رنجش تھی تو اسے بھی آخری ایام میں عیادت کے دوران دور کردیا گیا۔ سُنی و شیعہ روایات سے ثابت ہے۔
شیعہ مناظر: لاجواب۔
شیعہ مناظر نے ایک موقعے پر کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ فدک نہ دیکر خلفاء نے ظلم کیا، پھر دوسری جگہ اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا علی کا مؤقف تھا کہ اس معاملے میں ان پر ظلم ہوا ہے۔
سُنی مناظر:
کیا آپ سیدنا علی کے مؤقف سے متفق نہیں ہیں؟
شیعہ مناظر: لاجواب۔
شیعہ مناظر نے دوران مناظرہ کاپی پیسٹ کا ریکارڈ قائم کیا۔ دوبار کاپی پیسٹ کر کے امام زہری کی توثیق و مقام اہل سنت سے پیش کرتے ہوئے مختلف تحاریر پیش کیں۔
سُنی مناظر:
اہل سنت امام زہری پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ خوامخواہ وقت ضایع نہ کریں۔ اصل نکات کا جواب دیں۔
شیعہ مناظر کی دوسری دلیل: علامہ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری) ، علامہ بدرالعینی (عمدہ القاری) اور ابن ابطال نے ناراضگی سیدہ فاطمہ کو تسلیم کیا ہے۔
سُنی مناظر:
نامکمل عبارات رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے شیعہ اعتراض لکھ کر اس کا رد لکھا ہے۔ دوسری بات راوی کا گمان غلط ہونا معیوب نہیں، جن علماء تک حقیقت نہ پہنچی انہوں نے یقین کیا، لیکن حقیقت وہی ہے جو جمہور کا مؤقف ہے۔ دوران گفتگو قرآن کریم سے انبیائے کرام کے گمان مختلف آیات سے دکھائے گئے جو غلط تھے لیکن انبیاء کی عصمت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔اس طرح امام زہری کا گمان بھی حقیقت کے خلاف تھا لیکن اس کے باوجود ثقاہت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سُنی مناظر نے ایک مختصر تحقیق رکھتے ہوئے اہل سنت کتب سے 36 مختلف صحیح روایات سے ثابت کیا کہ امام زہری کے علاوہ کسی اور راوی سے سیدہ فاطمہ کی ناراضگی ثابت نہیں ہے، اس کے علاوہ راوی کے ظن/گمان پر انعام الباری سے کچھ پیجز بھی پیش کر کے امام زہری کے اضافے کو علمائے اہل سنت سے ثابت کیا۔
فتح المغیث سے بھی دکھایا گیا کہ امام زہری روایت میں اضافہ کرتے تھے اور ہم عصر علماء انہیں ایسا کرنے سے منع بھی فرماتے تھے۔
سُنی مناظر نے جلاء العیون ، بحار الانوار (باقر مجلسی) اور سلیم بن قیس سے ثابت کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق کو سیدہ فاطمہ کی وفات کی خبر تھی۔
حیات القلوب سے نبی کریمﷺ کا فرمان بھی دکھایا کہ سیدہ کسی پر غضبناک نہیں ہوں گی۔
سُنی مناظر نے علامہ محدث دھلوی (مدارج النبوت) ، علامہ حلبی (سیرت حلبیہ) اور علامہ عسقلانی (فتح لباری) سے عکس رکھ کر ثابت کیا کہ علمائے اہل سنت شیعہ اعتراض بیان کر کے ان کا رد بیان کرتے ہیں لیکن شیعہ صرف اعتراض دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
ادراج کرتے ہوئے راوی اپنا اندازہ/گمان ہی شامل کرتا ہے، ادراج کا مترادف لفظ درج ہے یعنی کچھ اور شامل کرنا، جو ظاہر ہے اضافی بات ہوگی جسے خیالی بات، ظن ، گمان اور اندازہ کہتے ہیں، ادراج ہمیشہ درست ہو یہ لازم نہیں ہے۔
شیعہ مناظر: سیدہ فاطمہ کے جنازے کی اطلاع کسی کو نہیں دی گئی اور رات کی خاموشی میں تدفین کردی گئی۔
سُنی مناظر:
سُنی و شیعہ کتب کے مطابق سیدہ فاطمہ کی وفات پر پورے مدینے میں کہرام ہوگیا تھا اور نبی کی رحلت جیسا غمگین ماحول ہوگیا تھا۔ اب ایک راوی امام زہری کے گمان کو تسلیم کریں یا کئی دوسری مضبوط سنی و شیعہ روایات تسلیم کریں؟
شیعہ مناظر: لاجواب
سُنی مناظر نے دنیائے شیعیت کو اوپن چیلینج بھی دیا کہ مسئلہ فدک کو اہل تشیع کی صحیح روایات سے ثابت کیا جائے۔
شیعہ مناظر: لاجواب
سُنی مناظر نے سُنی و شیعہ کتب سے ثابت کردیا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ فاطمہ سے آخری ایام میں ملاقات کی تھی اور رنجش ختم کر کے انہیں راضی بھی کر لیا تھا۔
1۔ السنن کبری (امام بیہقی) عربی اور اردو کتاب سے عکس
2۔ البدایہ والنھایہ
3۔ الطبقات الکبیر
4۔ سیر اسلام النبلاء
5۔ شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی۔
6۔ بیت الا حزان عباس قمی۔
شیعہ مناظر کا اعتراض: تمام روایات مرسل اور ضعیف ہیں پھر امام زہری کی مرسل روایت قبول کیوں نہیں ہے؟
سُنی مناظر:
پہلی بات امام زہری کی روایت مرسل نہیں ہے۔ دوسری بات شعبی کی مرسل روایت ہمارے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی ہے۔ (دلیل معرفتہ الثقات، تذکرہ الحفاظ)، میری دلیل کا رد اہل سنت اصولوں کے مطابق کریں اپنی ذاتی تاویلات اپنے پاس رکھیں۔
شیعہ مناظر: لاجواب
شیعہ مناظر کا ایک اور اعتراض: شعبی کی روایت میں اسماعیل بن خالد پر جرح ہے۔
سُنی مناظر:
اسماعیل بن خالد صحیحین کا راوی ہے۔ اعتراض باطل ہے۔ (دلیل صحیح بخاری 7489) ہر راوی پر جرح و تعدیل موجود ہے، اس منطق سے تو اہل سنت و اہل تشیع کے تمام راوی ضعیف ہوجائیں گے۔
سُنی مناظر نے مالی وراثت پر شیعہ مناظر کے دلائل پر الگ سے بحث رکھ کر گفتگو کرنے کو کہا۔گفتگو یہاں ختم ہوجانے کے بعد یہ طئے ہوا کہ اب اس تحریر کے اگلے حصے (ب) پر گفتگو کی جائے گی۔
لیکن شیعہ مناظر نے دوسرے دن مزید کچھ نئے دلائل رکھنا شروع کردئے جن کا کوئی تعلق (ب) کے حصے سے نہ تھا۔سُنی مناظر نے سمجھانے کی کوشش کی تو شیعہ مناظر نے کم ظرفی دکھاتے ہوئے سُنی مناظر کو گروپ کی ایڈمن شپ سے نکال دیا، جس پر احتجاج کرتے ہوئے سُنی مناظر نے گروپ لیفٹ کردیا، بعد میں جب معلوم ہوا کہ شیعہ مناظر خوشی سے جھوم کر اپنی فتح ظاہر کر رہا ہے تو دوبارہ سُنی مناظر گروپ میں آیا اور شیعہ مناظر کو وائسز میں کھری کھری سنا کر اصل صورتحال گروپ ممبرز تک پہنچائی۔
شیعہ مناظر کی طرف سے طئے شدہ شرائط کی خلاف ورزی
1۔ شرط نمبر 1 : کاپی پیسٹ ممنوع
سُنی مناظر نے شیعہ مناظر کو کاپی پیسٹ کا ثبوت دیا گیا اور پھر انہوں نے کاپی پیسٹ کرنا تسلیم بھی کر لیا۔
2۔ شرط نمبر 5 : دونوں فریق ایک دوسرے کو وضاحت دینے کے پابند ہوں گے۔
سُنی مناظر بار بار نمبر ڈال کر وضاحتیں پوچھتا رہا لیکن شیعہ مناظر شروع سے آخر تک لاجواب ہی رہا۔
آخری نتیجہ
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی صحیحین میں صرف ایک طرق اور صرف ایک راوی کے ذاتی گمان سے ثابت ہے۔ شیعہ دجل سے کام لیکر سادہ لوح مسلمانوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور مکمل حقائق چھپاتے ہوئے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتاکر عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور مکر و فریب سے اپنے دین کی تبلیغ کرتے ہیں ۔
علمائے اہل سنت امام زہری کے گمان کو دیگر صحیح روایات سے رد کرتے ہیں۔ اگر فدک واقعی سیدہ فاطمہ کا حق تھا تو کس حیثیت سے تھا؟ کیونکہ میراث نبوی میں 9 ازواج مطہرات، بیٹی سیدہ فاطمہ اور چچا حضرت عباس بھی فدک کے حصہ دار بنتے ہیں۔
جب پورا باغ فدک سیدہ فاطمہ کا حق ہی نہیں بنتا تو پھر شیعوں کی طرف سے صدیوں سے جاری فتنہ و فساد کیوں؟ اس مقدمے کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیق نے سنایا ضرور تھا لیکن فیصلہ کرنے والے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ نبیوں کی مالی وراثت نہیں ہوتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خلفائے راشدین نے فدک کا وہی حق اہل بیت کو دیا جو خود نبی کریم ﷺ انہیں دیتے رہے ، پھر غصب کیا ہوا جسے شیعہ عوام کو بتا کر گمراہ کرتے ہیں۔ سوچئے گا ضرور۔