چھٹا مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاگرچہ اسلام کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ آنحضرتﷺ تمام مخلوق سے افضل ہیں لیکن شیعہ اس کے خلاف حضرت علیؓ کو رسول کے ہم رتبہ ان سے بھی افضل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اصولِ کافی: صفحہ 118میں ہے۔
قَالَ ابُو عَبْدِاللّٰهِ يَا سُلَيْمَانَ مَا جَاءَ مِنْ امِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يُؤْخَذُ بِهٖ وَمَا يَنْهَىٰ عَنْهُ يَنْتَهَى عَنهُ جَرِى لَهٗ مِنْ فَضْلٍ مَا جَرَى لِرَسُولِ اللّٰهﷺ۔
ترجمہ: صادقؒ نے فرمایا اے سلمان جو امیر المؤمنین حکم دیں مانو جس سے منع کریں اس سے باز رہو حضرت علی المرتضیٰؓ کو وہی فضیلت حاصل ہے جو رسولﷺ کو ہے۔
پھر اسی کتاب مذکور میں ہے:
قَالَ امِيرُ الْمُؤْمِنِينَ انَا قَسِيمُ اللّٰهِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَانَا الْفَارُوق الْأَكْبَرُ وَانَا صَاحِبُ الْعَصَا وَالْمِيمِ وَلَقَد اقَرَّت لِی جَمِيعَ الْمَلَئِكَةِ وَ الرُّوحُ بِمِثْلِ مَا اقَرَّتْ لِمُحَمَّدٍ وَلَقَدْ حُمِلَتْ عَلیَّ مِثْلَ حَمُولَة رَسُولَ اللّٰهِﷺ وَهِیَ حَمُولَةُ الرَّبِّ وَأَنَّ مُحَمَّدً ايدعى وَيُكسى وَيُسْتَنْطَق وَادعى فَاكْسَىٰ وَاسْتَنطَق فَانْطِق علیٰ حَدِّ منطقِهٖ وَلَقَدْ اعْطِيتُ خِصَالاً لَمْ يُعْطَهُنَّ احَد قبلى عَلِّمْتُ عِلْمَ الْمُنَا يَا وَ الْبَلايَا وَلَا نُسَابِ وَفَضْلَ الْخَطَابِ فَلَم يَفْتُنِی مَا سَبَقَنِی وَلَمْ يَعزُب عَنی مَاغَابَ عَنِى ابَشِّرُ بِاذْنِ اللّٰهِ وَاُوَرِى عَنِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلّ كُلُّ ذٰلِک مَكَنّنِی اللّٰهِ فِيْهِ بِاذْنِهٖ۔
ترجمہ: امیر المؤمنین نے فرمایا میں خدا کی طرف سے جنت و دوزخ کی تقسیم کا مالک ہوں میں فاروقِ اعظم ہوں اور صاحبِ عصاء اور میم ہوں تمام ملائک و ارواح نے اسی طرح میرا اقرار کیا جیسا کہ رسول کا انہوں نے اقرار کیا مجھے اسی سواری پر سوار کیا گیا جو رسول کی سواری من جانب اللہ تھی محمدﷺ بلائے جائیں گے اور پوشاک پہنائے جائیں گے اور کلام کیے جائیں گے اس طرح میں پکارا جاؤں گا اور پوشاک پہنایا جاؤں گا اور بلایا جاؤں گا رسولﷺ کی طرح میں پانچ چیزیں دیا گیا ہوں جو کہ کسی کو مجھ سے پہلے نہیں دی گئیں مجھے موتوں مصیبتوں نسبوں فیصلہ حق کے علوم دیے گئے ہیں پہلی باتیں مجھ سے چھپی نہیں رہیں اور نہ غیبی امور مجھ سے مخفی ہیں میں خدا کے حکم سے بشارت دوں گا اور خدا کی طرف سے سب کچھ پورا کر دوں گا ان تمام امور کا مجھے خدا نے کئی اختیار دے دیا ہے۔
ان روایات سے ثابت ہے کہ فضیلت میں رسولﷺ اور سیدنا علیؓ میں کچھ فرق نہیں ہے، پہلی روایات میں صاف کہا گیا ہے کہ جملہ فضائل رسول علی کو حاصل ہیں دوسری میں تشریح کر دی گئی ہے کہ جو خصوصیات رسولِ اکرمﷺ کی ہیں ان میں علیؓ ان کے شریک ہیں بلکہ علوم خمسہ کے حاصل ہونے میں رسولﷺ سے علیؓ کا نمبر فائق ہو گیا۔ بحارُ الانوار: جلد 5 صفحہ 511 میں ہے ایک راوی نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے علیؓ سے فرمایا اے علیؓ تمہارے لیے بہت سی چیزیں میں کہ ان جیسی میرے لیے بھی نہیں ہیں اول یہ کہ فاطمہؓ جیسی تمہاری بیوی ہے حالانکہ اس جیسی بیوی (سبحان اللہ اثبات فضیلتِ علیؓ کے لیے موجدانِ مذہبِ شیعہ نے کیسا عجیب استدلال قائم کیا ہے اس منطق کی رو سے تو رعیت کا ایک ادنیٰ شخص بھی بادشاہ سے بڑھ جائے یوں کہہ کر کہ ہمارا بادشاہ آپ جیسا جلیل القدر بادشاہ ہے لیکن آپ کا کوئی ایسا بادشاہ نہیں ہے یا ایک زندیق شانِ الٰہی میں کہہ دے کہ ہمارا خدا جامع صفاتِ کمالیہ اور وحدہ لاشریک ہے، لیکن خدا کا کوئی ایسا خدا نہیں ہے، اس لیے نعوذ باللہ میں خدا سے فضلیت میں بڑھا ہوا ہوں
ہر شے میں رائے شیعہ عجب باصواب ہے
جو بات کی خدا کی قسم لا جواب ہے)
میرے لیے نہیں ہے اور تمہارے نطفہ سے بیٹے ہیں کہ ان جیسے میرے نطفہ سے نہیں اور خدیجۃ الکبریٰؓ جیسی تمہاری ساس ہیں ایسی میری کوئی ساس نہیں ہے اور مجھ جیسا تمہارا خسر ہے حالانکہ میرا کوئی خسر نہیں ہے اور جعفر جیسے تمہارے نسبی بھائی ہیں حالانکہ اس جیسا میرا کوئی نسبی بھائی نہیں ہے اور فاطمہ بنتِ ہاشمیہ مہاجرہ جیسی تمہاری والدہ ہیں ان جیسی میری والدہ نہیں ہے