سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں - دفاعِ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے مابین خاندانی روابط بہت مضبوط تھے، قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہن قریبہ بنت ابوعتیق سے شادی کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 355)

ابن عبدالبر رحمۃاللہ نے اس صحیح خبر کو نقل کیا ہے: 

’’سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو ان کے ذریعہ سے استقرار پانے والے حمل کا انھیں علم نہ ہوسکا، مدینہ سے جاتے ہوئے انھوں نے اپنی پوری جائیداد موجودہ اولاد میں تقسیم کردی، چنانچہ جب بچہ کی پیدائش ہوئی تو اس سلسلے میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے قیس رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی، اور ان سے مطالبہ کیا کہ سعد رضی اللہ عنہ کی تقسیم کو کالعدم کردیں، انھوں نے جواباً کہا: میرا حصہ اس مولود کے لیے ہوگا، میں اپنے والد کے انجام دیے ہوئے کام کو کالعدم نہیں کروں گا۔‘‘

یہ ثقہ راویوں کی روایت کردہ صحیح خبر ہے۔

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1289)

یہ صحیح خبر اس روایت کو باطل قرار دیتی ہے جو انصار کے سردار پر مسلمانوں کے مابین اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی تہمت لگاتی ہے، مہاجرین کی خاطر ایثار، قربانی اور نصرت و تائید جو کچھ انھوں نے پیش کیا اس کا انکار کرتی ہے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ہونے والے قول کا سہارا لیتے ہوئے ان کے اسلام کو مطعون کرتی ہے۔ منسوب قول یہ ہے:

’’میں تمھارے لیے بیعت نہیں کروں گا تاآنکہ میں اپنے ترکش کے تمام تیر نہ استعمال کر لوں، اپنے نیزے کی انی کو خون سے نہ رنگ دوں، اور اپنی تلوار کا استعمال نہ کر لوں۔‘‘

چنانچہ وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے نہ ان کی مجلس میں شریک ہوتے تھے، نہ ان کے فیصلوں کو مانتے تھے، نہ ان کے ساتھ حج کے لیے جاتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 42)

انصار و مہاجرین کی سچی اخوت اور ان کے باہمی اتحاد کو مطعون کرنے کے لیے مذکورہ باطل روایت کا استغلال کیا گیا، اس کا راوی گمراہ، غیرثقہ اور ساقط الاعتبار مؤرخ ہے۔

(میزان الاعتدال فی نقد الرجال: جلد 3 صفحہ 2992)

ایک دوسری نہایت ضعیف روایت میں ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت تک زندہ رہے، چنانچہ اس روایت میں ہے:

’’جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انھوں نے ان سے ملاقات کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سعد کہو، جواباً کہا: اے عمر کہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم ساتھی ہو، تم ساتھی نہیں ہو؟ کہا: ہاں، اور اب یہ معاملہ تمھیں معلوم ہو گیا (اور تمھارے ساتھی اللہ کی قسم میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب تھے) اور میں تمھارے پڑوس کو ناپسند کرنے لگا ہوں، کہا: جو اسے ناپسند کرے وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے، چنانچہ جلد ہی وہ شام چلے گئے، اور مقام حوران میں وفات پائی۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 277، اس کی سند حد درجہ ضعیف ہے، کیونکہ اس میں واقدی متروک ہے، اور محمد بن صالح التمار صدوق ہے لیکن خطا کرتا ہے اور زبیر بن منذر مستور ہے۔

صحیح روایت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت ہی میں ہوچکا تھا، نیز یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ سقیفۂ بنوساعدہ میں بحث و مناقشہ کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے امارت کے دعوے سے تنازل کر کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم کر کے بیعت کر لی تھی، ان کے چچا زاد بھائی بشیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے سقیفۂ بنو ساعدہ کی مجلس میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔

کسی بھی صحیح روایت سے کسی معمولی یا غیرمعمولی بحران کا ثبوت نہیں ملتا، اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کے کئی گروہ تھے اور ہر گروہ کا امیدوار خلافت کا متمنی تھا، جیسا کہ بعض مؤرخین کی خام خیالی ہے، اس کے برعکس اسلامی اخوت جیسی تھی، ویسی ہی باقی رہی، بلکہ اور زیادہ پختہ ہوئی جیسا کہ صحیح روایتوں سے ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح کسی بھی صحیح روایت سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت پر قبضہ کرنے کی سازش کی تھی۔

(إستخلاف أبی بکر: لجمال عبدالہادی: 50، 51، 53)

اس لیے کہ وہ ایسا کرنے میں اللہ سے ڈرنے والے تھے۔

(أبوبکر الصدیق: للصلابی: صفحہ 144)

بعض گمراہ مؤرخین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خزرج کے سردار ابوقیس سعد بن عبادہ انصاری، خزرجی، ساعدی، مدنی رضی اللہ عنہ 

( سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 270)

مہاجرین کے مخالف تھے، اور غلط طریقے سے خلیفہ بننا چاہتے تھے، اس کے لیے سازشیں کرتے تھے اور تفریق بین المسلمین کا ہر حربہ استعمال کرتے تھے۔

اس آدمی (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو قیس رضی اللہ عنہ کے والد تھے) کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں اور اس رائے کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے کارناموں کی بناء پر آپ کا شمار چنندہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا تھا، دنیا آپ کی سب سے بڑی چاہت اور منتہائے علم نہ تھی، بیعت عقبۂ ثانیہ میں آپ اپنے قبیلے کے ذمہ دار تھے، اسی لیے قریش نے مکہ کے قریب آپ کا تعاقب کیا، ان کی مشکیں باندھ کر قیدی بنا کر مکہ لے کر آئے، پھر انھیں جبیر بن مطعم بن عدی رضی اللہ عنہ نے چھڑایا اس لیے کہ وہ ان کی مدینہ میں مدد کیا کرتے تھے۔ آپ بدری صحابی تھے،

(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب: جلد 2 صفحہ 594)

عنداللہ اہل بدر کا مقام و مرتبہ آپ کو نصیب ہوا، آپ کا تعلق جو دو سخاوت والے گھرانے سے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی گواہی دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بعد آپ پر اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ پر اعتماد کرتے تھے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پر عیینہ بن حصن فزاری کو مدینہ کی تہائی کھجور دینے سے متعلق ان دونوں سے مشورہ کیا، دونوں سعد رضی اللہ عنہ کا جواب پختہ ایمان اور عظیم قربانی کا پتہ دے رہا تھا۔

صفحہ 1 از 2