تنقیح چہارم
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہرہا یہ امر کی جناب خلفاءِ ثلاثہؓ کی بیعت کی یا نہ سو یہ امر مسلمہ فریقین ہے کہ آپ نے اپنے وقت میں ہر سہ خلفاء کی بیعت کر لی ہاں اہلِ سنت کا یہ اعتقاد ہے کہ آپ نے ان کو خلفائے حق سمجھ کر بطيب خاطر بیت قبول فرما لی اور شیعہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ بیعت بطيب خاطر نہیں بلکہ بالجبر کی چنانچہ شیعہ کی تمام کتابوں میں یہ مضمون بالصراحت درج ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے آپ پہلو تہی کرتے تھے لیکن ان کو گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹ کر دربارِ صدیق میں لایا گیا اور اس لیے جبراً و قہراً آپ کو بیعت کرنی پڑی سو کوئی مسلمان جس کے دل میں جناب امیرؓ کی نسبت ذرہ بھی عقیدت سے ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ جناب شجاعت مآب پر کوئی چیره دستی کر کے ان سے بزورِ بيعت منوا سکتا تھا شیعہ کہتے ہیں کہ آپ پر زبردستی کی گئی آپ کو طوق گردن گھسیٹ کر لایا گیا اور آپ نے بالکل ہاتھ پاؤں نہ ہلائے کیونکہ آپ کو صبر کرنے کا حکم تھا لیکن کوئی عقلمند شیعہ رکیک بزرگ کو ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا اس کو صبر نہیں کہتے ایک شخص حق پر ہو اور اس کا حق زبردستی چھین لیا جائے اور نہ حق والے اسے زبردستی اپنا حق منوائیں اس کو یہاں تک کہ بے عزت و ذلیل کیا جائے کہ گلے میں رسی ڈال کر بازار میں گھسیٹا جائے اس عصمتِ مآب بیوی خاتونِ جنت کو کوڑوں سے پیٹا جائے بطن مبارک پر لات مار کر اسقاطِ حمل کیا جائے اور وہ شخص صبر کرتا رہا ایسے شخص کو حلیم اور بردباد نہیں کہا جاسکتا بلکہ ایسے مرد کو پرلے درجے کا بزدل اور بغیرت کہا جاتا ہے حاشا وکلا کوئی مسلمان ایسی دور از عقل ڈھکوسلوں کو تسلیم نہیں کر سکتا بلکہ ماننا پڑتا ہے کہ جناب امیرؓ نے خلافتِ ثلاثہؓ کو صحیح تصور فرما کر بخوشی خود ان کی بیعت کی اور ان کے عہدِ خلافت میں اپنے مفید مشوروں سے خلفائے اسلام کو مستفید کرتے رہے اور ان سے مل کر کام کرتے رہے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھائیں غنائم سے حصہ بخرہ لیتے رہے۔