سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47) - سنی…

سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر: یہ ممتاز قریشی کی طرف سے احتجاجی مراسلہ کل وقت ملا تو تبصرہ کروں گا۔ویسے تو تبصرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔


سنی مناظر ممتاز قریشی کا تبصرہ


 مناظرہ ختم ہوجانے کے باوجود آج تک شیعہ مناظر کی وضاحتوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن میرے سوالات/اشکالات کے نمبر ڈال کر دوٹوک اہل تشیع مؤقف لکھنے کی توفیق پھر بھی نہیں مل سکی۔حتیٰ کے دوسرے شیعہ مناظرین نے بھی اپنے اپنے تبصروں میں ان اشکالات کو چھوا تک نہیں۔ الحمدلللہ۔ یہی میرا مقصد تھا۔ حق واضح کردیا گیا ہے۔
جن دوستوں نے پوری گفتگو نہیں پڑھی ان کی خدمت میں لب لباب پیش کر دیتا ہوں۔اس کے علاوہ اوپر موجود میرے دو آخری تبصرے بھی ضرور پڑھ لیں اور اپنے پاس لازمی محفوظ کر لیں، تاکہ بوقت ضرورت شیعوں کی بولتی بند کی جاسکے۔شیعہ مناظر نے اپنی تحریر میں خود ہی ترتیب اس طرح بیان کی تھی۔
 1۔  (الف)  سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک پھر خلفاء پر الزام کہ انہوں نے نہیں دیا، اس کے بعد سیدہ کی ناراضگی اور بائیکاٹ بیان کر کے عوام تک یہ تاثر پہنچایا کہ اہل بیت کا حق  غضب ہوگیا اور بڑا ظلم ہوگیا۔ 
(ان نکات پر  تین دن کے بجائے پورا ہفتہ تفصیل سے گفتگو کی گئی۔)
2۔ (ب) میں حضرت عمر فاروق کے دور کا واقعہ اور سیدنا علی ، حضرت عباس کے تنازعے کی آڑ میں سیدنا علی کی طرف تین جھوٹی باتیں منسوب کی گئی تھیں۔ (دوران گفتگو شیعہ مناظر بار بار ب کو چھیڑتے رہے جب ب پر باقائدہ گفتگو شروع ہوئی تو واپس الف پر گفتگو کرکے ثابت کردیا کہ انہوں نے ب میں غلط بیانی کی ہے)
مناظرے میں شیعہ مناظر کی اہم غلطیاں اور خیانتیں
♦️ پہلی خیانت: دوران گفتگو جب شیعہ مناظر نے دلیل پیش کی تو اس میں نبی ﷺکے فیصلے کا بھی ذکر تھا، جب پوچھا گیا کہ اپنی تحریر میں یہ اصل نکتہ کیوں نہیں لکھا جبکہ فدک کا فیصلہ ہی اس فرمان نبویﷺ پر تھا، تو شیعہ مناظر لاجواب۔ 
دوران گفتگو پوچھا گیا کہ چھتیس صحیح روایات اہل سنت کتب میں ہیں، کوئی اور طرق پیش کریں ، جس میں امام زہری نہ ہو اور سیدہ فاطمہ کی ناراضگی بیان ہو تو شیعہ مناظر لاجواب، بہت مجبور کرنے پر کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔
پوچھا گیا کہ کیا اہل سنت و اہل تشیع عقائد و نظریات اخبار آحاد سے بناتے ہیں، شیعہ مناظر لاجواب۔

♦️ حقیقت: سُنی و شیعہ دونوں فریقین عقائد و نظریات نصوص صریحہ سے یعنی قرآن و احادیث کے واضح دلائل سے لیتے ہیں۔
شیعہ مناظر سے پوچھا گیا کہ فدک بطور میراث صرف سیدہ فاطمہ کا حق کس طرح بنتا ہے؟ تو پہلے شیعہ مناظر لاجواب، بہت مجبور کرنے کے بعد کہا کہ سیدہ نے مال فئے کا کچھ حصہ طلب کیا تھا۔ وضاحت پوچھی گئی کہ پھر پورے فدک پر سیدہ فاطمہ کا حق کیسے ہوسکتا ہے؟ شیعہ مناظر لاجواب۔
♦️ حقیقت: اگر شیعہ مؤقف تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انبیائے کرام کی مالی وراثت ہوتی ہے تو بنص قرآن نبی کے ورثاء میں 9 ازواج مطہرات، بیٹی سیدہ فاطمہ اور چچا حضرت عباس ہوتے ہیں۔ فدک صرف سیدہ فاطمہ کا حق نہ تھا بلکہ اس کی آمدنی سے کچھ حصے پر اہل بیت کا حق تھا جو نہ صرف دور نبوی ﷺ بلکہ دور خلفائے راشدین میں بھی اہل بیت کو برابر ملتا رہا اور وہ وصول کر کے خرچ بھی کرتے رہے۔

شیعہ مناظر نے اصول کافی کی صحیح روایات کا رد اپنے مدرسے کی کتب سے کرنے کی بھونڈی کوشش کی اور  عورت کو زمین کا وارث ثابت کرنے کے لئے کچھ کتب سے اسکینز رکھتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اہل تشیع کے ہاں بیوی زمین کی وارث نہیں بنتی لیکن بیٹی وارث بنتی ہے۔ (خلاف قرآن مؤقف بیان کردیا)
حقیقت: بنص قرآن عورت بھی ہر قسم کی وراثت کی حقدار ہوتی ہے۔ 

♦️دوسری خیانت: شیعہ مناظر کے اسکینز میں عورت کے غیر منقولہ جائیداد کے متعلق کچھ بھی بیان نہیں کیا گیا تھا۔ شاید اسی لئے انہوں نے عربی عبارت اور ترجمہ پیش کرنے سے پرہیز کیا۔

اس دلچسپ مناظرے کی یہ صرف ایک جھلک ہے ۔ شیعہ مناظر نے اہل سنت کی طرف سے پیش گئے دلائل و اسکینز  اور خود اہل تشیع معتبر کتب کی صحیح روایات کا کس طرح ذاتی تاویلات سے رد کیا  اور طئے شدہ شرائط کی کس طرح دھجیاں اڑاتے رہے اور کاپی پیسٹ ممنوع ہونے کے باوجود ون سائیڈیڈ لمبی لمبی تحاریر پورے مناظرے میں رکھتے رہے یہ سب جاننے کے لئے کچھ دن انتظار کریں، اس مناظرے کی پوری تفصیل پی ڈی ایف میں محفوظ کی جا رہی ہے۔ بہت جلد بمعہ مکمل دلائل اور اسکین پیجز عنقریب عوام تک پہنچائی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔(ممتاز قریشی)


شیعہ مناظر دلشاد کا جواب


سلام علیکم۔اللہ کا شکر ہے ممتاز صاحب کو کچھ نہ کچھ سمجھ میں آیا اور اپنے بہت سے تکراری سوالات کا پھر سے تکرار نہیں کیا۔مثلا رضایت الفاظ سے یا رضایت چہرے سے۔استغفر الللہ
راوی کا گمان، لیکن حسب سابق بعض سوالات کو جواب دینے کے باوجود پھر سے دھرانے میں مصلحت دیکھی تاکہ جن لوگوں نے ہمارے مطالب کا مطالعہ نہیں کیا ہے ان کو یہ تاثر دے کہ ہم ممتاز صاحب کے جواب کے آگے لاجواب ۔وہی مغالطے کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا جبکہ ان میں سے ھر ایک کا جواب ہم دے چکے ہیں لیکن فہرست وار بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔
نمبر1: ہم نے تو صحیح سند روایت اور اپ کے علماء کے بیانات کی روشنی میں خلیفہ کے فیصلہ کے بعد اس پر آپ کی ناراضگی اور پھر ..... کو ثابت کیا۔آپ تو شروع میں استغفار کرتے رہے اور غضبناک اور ناراض ہونے کا سرے سے انکار کرتا رہا لیکن آخر میں رضایت حاصل کرنے والی سند پیش کیا اور  اپنے موقف کو خراب ہوتے دیکھ کر ناراضگی کو قبول کیا اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔جب ہم نے پوچھا ناراض کیوں ہوئی تھیں کتنا عرصہ ناراض رہیں  تو ناراضگی کی وجہ بتانے سے عاجز  اور جناب سیدہ ع کو ایک عام خاتون  کی سطح سے نیچے لاکر پیش کرنے کی کوشش کی جو حق واضح ہونے بابا کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی زنجیدہ اور ناراض رہی(نعوذبالللہ)


(شیعہ مؤقف کو سنی مؤقف بتانے کی مذموم کوشش۔ شدید ناراضگی کے قائل کون ہیں۔ قارئین مناظرہ پڑھ کر خود فیصلہ کریں۔)



راوی کا گمان کہتا ہے  لیکن اس سلسلے میں ہمارے اٹھائے سوالات کے آگے جواب دینے کے بجائے اپنے ہی سوالات کا تکرار۔


(کیا وہ غیر ضروری سوالات تھے؟ یا موضوع سے باہر تھے؟)


صفحہ 1 از 3