سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47) - سنی…

سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3


ہم نے کہا  حتٰی یہاں گمان کا استعمال کرنا بھی صحیح نہیں،ہم نے پوچھا گمان کہنے کی کوئی معقول وجہ تو بتاؤ۔ لاجواب۔


(کون لاجواب؟ اوپر پڑھیں، سیدہ  فاطمہ کے مطالبے کے بعد فدک نبیﷺ کے فیصلے کے بعد نہ دینے سے دلی رنجش ہونا  ممکن ہے اور عین فطرت انسانی، امام زہری کو اسی وجہ سے گمان ہوا)



ہم نے کہا قالت کے بجائے قال کو شاہد قرار دینے کی کوئی معقول وجہ بتاؤ۔کوئی ٹھوس شاہد پیش کرو  لیکن آپ  تو اپنی ذاتی رائے کے ذریعے اپنے ہی بزرگوں اور محدثین کو خطاء کار کہتے رہے۔


(کونسی ذاتی رائے؟ اوپر مناظرہ دوبارہ پڑھیں۔دوران گفتگو قال سے صحیح بخاری کی ایک حدیث بھی پیش کی تھی۔ اس سے زیادہ ٹھوس شاہد کونسا ہوتا ہے؟ رہی بات گمان کی تو وہ کوئی  ایسا گناہ تھوڑی ہے کہ اس کی پکڑ ہو یا سزا ہو۔ اگر ایسا سمجھا جائے گا تو نبیوں کے متعلق قرآن کی کئی آیات کی تفسیر میں مشکل ہوگی بلکہ عصمت انبیائے کرام سے ہاتھ اٹھانا پڑے گا جو کہ  ہم دونوں کے لئےممکن نہیں ہے۔)



ہم نے کہا آپ کی پیش کردہ 36 روایات   سچ اور جھوٹ کا مجموعہ اور مغالط اور دھوکہ بازی ہے ۔


(انا لللہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی حیثیت کیا ہے؟ آپ کی ذاتی رائے شیعوں کے نزدیک حجت ہوگی۔)


ہم نے اس کا پول کھولنے کے لیے بخاری کے پیش کردہ جدول کا اپریش کیا تو پتہ چلا کہ بخاری نے 4 جگہوں پر اس واقعے کا ذکر کیا ہے اور چاروں جگہ ہمارے موقف کی تائید ، آپ کو امام بخاری کے انتخاب پر اعتراض ہے تو ہمارا قصور تو نہیں۔


(آپ کے مؤقف کی تائید؟؟ کس دنیا میں ہیں حضرت؟ دوبارہ دلائل پر غور و فکر کریں۔ 5 احادیث فدک کے  مطالبے کے متعلق ہیں،  ایک طرق کی چند روایات میں امام زہری کا گمان ہے، سیدہ سے ناراضگی آپ ثابت  نہیں کرسکے، پوچھنے پر کہہ دیا کہ ضرورت نہیں ہے۔بس راوی کی بات پر ایمان ہے! چاہے اس کی بات رد دوسرے قرائن سے ہوتا ہو آپ کو قبول ہی نہیں ہے!)



یہ ہم نے بخاری کی روایات کی تحقیق پیش کی اور اس ایک میں اپ کی تحقیق اور جدول کا سچ اور جھوٹ کا مجموعہ ہونے کوثابت کیا ۔اگر ہم بخاری کی طرح باقی کتب سے بھی 36   کی حقیقت کھول دیں تو کیا؟


(کوشش کریں! علمی میدان ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ہم اتنے کم ظرف نہیں ہیں کہ یہ کہہ دیں کہ اب ٹائیم ختم ہوگیا دوبارہ گفتگو نہیں ہوسکتی!!)



جناب امیر المومنین ع کے موقف اور صحیحین  میں موجود احادیث کا حوالہ پیش  کیا ،مسلسل لاجواب۔آخر میں الف  . ب کا بہانہ بنایا۔


(واقعی آپ کا کوئی علاج نہیں۔ ارے عالم صاحب! مناظرے میں  اپنی مرضی چلانےکے باوجود آپ گفتگو نہ کرسکے! میں نے شروع سے آخر تک آپ کی ترتیب کے مطابق ہی گفتگو کی۔ اب آپ جب چاہیں  ترتیب بدل دیں! اب یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ ہر نکتہ الگ الگ بحث کرنے سے گھبراکر فرار کس نے اختیار کیا؟ اوپر اسکرین شاٹ رکھ کر تمام حقائق واضح کردئے ہیں، اللہ شیعوں کو ہدایت دے۔آمین



وہ اپنی تفسیر کے مطابق لیکن ابھی تک للکار اور خطابت کے باوجود کچھ جواب سامنے نہ آیا۔مجھ سے بحث کے آخری مراحل سے متعلق سوالات کے جواب طلب کرتا رہا  لیکن خود میرے مدعا اول کے خود ساختہ الف و ب کی چکر میں!


(یہ الف و ب کا چکر آپ کا ہی چلایا ہوا تھا۔ کیوں عوام کو گمراہ کرتے ہیں؟ ایک دن  ہم سب کو مرنا بھی ہے۔ اللہ باقی کل دنیا فانی ، اپنی قبر میں جاکر اسی مکر و فریب سے  کام چلائیں گے؟ اللہ اللہ کریں۔ دین کی خدمت نیک نیتی سے کریں۔ آیات قرآنی رکھ کر نصیحتیں کرنا آتی ہیں۔ ان پر عمل کرنے کی توفیق نہ ملی۔)



  پہلی خیانت: کئی مختصر مدعا کے بعد اس مدعا کی دلیل پیش کی اور اسی میں خلیفہ کی طرف سے حدیث سے استدلال کا ذکر کیا اور اس کے بعد 20 سے شاید زیادہ مرتبہ اسی حدیث کا مسلسل ذکر ہوتا رہا۔لیکن عجیب منطق ہے پھر بھی کہتا ہے ذکر نہ کر کے خیانت کی۔


(آپ مختلف گروپس میں جو تحریر بھیجتے رہے اور عوام کو جذباتی کہانیاں سنا تے رہے کہ شیعہ یہ کہتے ہیں اور صحیحین سے یہی مطالب ثابت ہیں وغیرہ  وغیرہ، اس تحریر میں پورا سچ نہ لکھ بہت بڑی خیانت کی ہے، مناظرہ تو اسی تحریر پر طئے ہوا تھا۔ اپنے پہلے میسیجز ہی دوبارہ پڑھ لیں۔)


کیا میرے مدعا کی دلیل میری اسی شروع کی گفتگو میں پیش نہیں ہوئی؟  مدعا میرا اور دلیل بھی میری۔


(دلیل دینا تو مناظرے میں آپ کی مجبوری تھی۔ عوام کو بغیر دلیل  گمراہ کرنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں۔یہ دجل، مکر و فریب آشکار کرنا ہی اس مناظرے کا اصل مقصد تھا۔)



ذکر بھی میں نے شروع میں کیا ہے۔لگتا ہے لفظ خیانت سے خاص لگاؤ ہے۔


(خیانت کو ایمانداری تو نہیں کہا جاسکتا۔ جھوٹ کو جھوٹ ہی کہتے ہیں۔ سچ کو سچ کہنا  پڑتا ہے۔رات اور دن کا فرق ضروری ہے۔ حق و باطل میں  فرق کرنا ہم پر لازم ہے۔)



جناب عقائد اور نظریات کی بنیاد کیا مرسل روایت پر بھی رکھی جاتی ہے؟ آپ کے کتنے ایسے نظریات ہے کہ جن کی بنیاد صحیح سند احاد تو چھوڑیں ضعیف روایات پر ہے۔  


(ہرگز نہیں اہل سنت عقائدو نظریات  قرآن و صحیح احادیث نبویﷺ کی روشنی میں پوری  آب و تاب سے  منور ہیں۔باغ فدک پر شیعہ نظریہ ایک سراب ہے۔ہمارا کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو شیعہ عقائد کی طرح ریت کی دیوار ہو! مسئلہ فدک  توکوئی حق و باطل کا معاملہ ہی نہیں تھا۔ آپ کسی ڈھنگ کے عالم کو لائیں جو کاپی پیسٹ کی بھرمار کرنے کے بجائے ایک دو دلائل سے نکتہ بہ نکتہ گفتگو کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اعتراض رکھنے  کے ساتھ ساتھ جوابی اشکال کے جواب بھی دے سکتا ہو، پھر اہل سنت کے کسی بھی عقیدے پر  تفصیلی گفتگو ہوسکتی ہے۔ آپ سے بھی گفتگو کے لئے تیار ہوں لیکن آپ کو  پہلےشرائط کی زنجیروں  میں باندھ کر پابند کرنا ہوگا اور بیچ میں غیر جانبدار ایڈمنز کو مکمل اختیارات کے ساتھ موجود بھی  رہنا ہوگا۔)



  انبیاء کی مالی میراث کو تسلیم کرنے والے صرف شیعہ نہیں ہے،ابن عباس ائمہ اہل بیت اور اہل سنت کے بزرگ علماء کا بھی یہی نظریہ ہے جناب فاطمہ کے مطالبہ کو فدک کے ساتھ ہی مخصوص کہہ کر پیش کرنا علمی خیانت ہے۔جس کا میں کئی دفعہ وضاحت دے چکا ہوں۔


(یہ تو شیعہ کہتے ہیں۔ اصل حقیقت کیا ہے،جب تفصیل سے اس موضوع پر بات ہوگی تو سب جان جائیں گے۔)


سوال تکرار کرنے کا شوق پورا کرنا ہے تو کرتے رہیں۔


صفحہ 2 از 3