شیعہ گروپ لاکڈ اور صرف مخصوص شیعہ ممبرز کو تبصرے کی اجازت! (قسط 46)
جعفر صادقشیعہ گروپ لاکڈ اور صرف مخصوص شیعہ ممبرز کو تبصرے کی اجازت! (قسط 46)
نوٹ: لاکڈشیعہ گروپ میں سنی مناظر کو حق حاصل نہیں تھا کہ ممبرز کے آگے صفائی پیش کرسکے جبکہ شیعہ مناظر دلشاد کو جوابات اور وضاحتیں دینے کا مکمل اختیار تھا۔ حتیٰ گروپ اوپن کرکے عام شیعہ ممبرز کو بھی تبصروں کی اجازت نہیں دی گئی ، کیونکہ کہ خوف تھا کہ ان کے اپنے بھی ان سے وہی سوالات نہ پوچھنا شروع کردیں جن سے وہ پورے مناظرے میں بھاگتا رہا۔اس لئے مخصوص دوستوں کو ایڈمن بناکر ون سائیڈیڈ تبصروں کی اجازت دی گئی!! (اسکرین شاٹ میں ایڈمنز دیکھیں جنہیں تبصروں کی اجازت دی گئی)

ایک سنی ایڈمن ابرار صاحب جس نے یہ مناظرہ منعقد کروایا تھا۔ ان سے پرسنل میں احتجاج کیا گیا تو اس نے اپنی مجبوری اور پابندیوں کا رونا شروع کردیا۔
دلشاد صاحب کا جواب پڑھیں! کیا سنی مناظر بھاگ گیا تھا؟ کیا گفتگو ختم ہونے کے بعد اعلان ہوجانے کے بعدگروپ چھوڑنا بھاگنا ہوتا ہے؟کیا مناظر کو فریق مخالف کے گروپ میں ہمیشہ موجود رہنا چاہئے؟
سنی مناظر کا گروپ چھوڑت وقت آخری میسیج دیکھیں۔ کیا بھاگنے والا اس طرح چیلینج کرتے ہوئے لیفٹ ہوتا ہے؟ (اسکرین شاٹ اگلے پیج پر)

گفتگو مکمل ہونے اور اعلان ہوجانے کے بعد گروپ چھوڑنے کوعزت و احترام سےرخصت ہونا کہتے ہیں۔سنی مناظر زندگی بھر کے لئے گروپ میں شامل تھوڑی ہوا تھا۔
اہلسنت ایڈمن ابرار اتنا مجبور تھا کہ شیعہ دلشاد کی اجازت کے بغیر سنی مناظر کی جوابی تحریر بھی رکھنے کی ہمت نہ کرسکا! اس کے لئے بھی شیعہ مناظر دلشاد کی اجازت درکار تھی!! لاحول ولاقوت
(اسکرین شاٹ اگلے پیج پر ملاحظہ فرمائیں۔)

سنی مناظر نے شیعہ مناظر کی طرف سے یکطرفہ جاری تبصروں اور وضاحتوں پر اپنا نکتہ نظر مختلف شیعہ ایڈمنز کو پرسنل میں بھیجا اور بالآخر شیعہ مناظر کی جانب سے لاکڈ گروپ میں وہ مؤقف ان الفاظ میں پیش کیا گیا۔