خامنائی کے کفریہ عقائد
مامون رشید1: علی خامنائی کہتا ہے:”ومقام الإمامة هو أعلى من مقام الرسالة“
امامت کا منصب رسالت کے منصب سے اعلیٰ ہے!
(25 جون 2024 کو خامنائی کے خطاب سے ماخوذ)
امامی روافض کا یہ عقیدہ ہے کہ ائمہ اہل بیت کا مقام انبیاء و رسل اور فرشتوں سے بالاتر ہے اسی کے پیش نظر خامنائی کا استاد روح اللہ خمینی کہتا ہے:”ومن ضروريات مذهبنا أن لأئمتنا مقامًا لا يبلغه مَلَكٌ مقرَّب، ولا نبي مرسل“ ہمارے مسلک کی بدیہیات میں سے یہ ہے کہ ہمارے ائمہ کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جہاں تک نہ تو کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نبی مرسل(الحكومة الإسلامية: صفحہ 52) چنانچہ خامنائی بھی اپنی اس بات سے اسی باطل عقیدے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
2- خامنائی مزید کہتا ہے: امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں، تقدیرِ الٰہی میں یہ طے تھا کہ ایک ایسی تبدیلی آئے گی جو ائمہ ہدیٰ کے حق میں مفید ثابت ہوگی۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت مروی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس امر (یعنی حقیقی معنوں میں نظامِ امامت کے قیام) کو سن 70 ہجری کے لیے مقدر فرمایا تھا۔ پھر امام فرماتے ہیں: لیکن جب امام حسین علیہ السلام شہید کر دیے گئے، تو زمین والوں پر اللہ تعالیٰ شدید غضبناک ہو گئے، چنانچہ اللہ نے اس (امر) کو مؤخر کر کے سن 140 ہجری تک بڑھا دیا۔
(24 اپریل 2025 کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے خطاب سے ماخوذ)
یہودیوں کی طرح روافض کے ہاں ”بداء“ کا ایک کفریہ عقیدہ ہے، جس کا معنیٰ ہے: ظاہر ہونا اور کسی ایسی نئی رائے کا پیدا ہونا جو پہلے موجود نہ تھی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے کسی چیز سے ناواقف اور لاعلم ہوتے ہیں اور پھر نئے حالات و واقعات کے پیشِ نظر انہیں نیا علم حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنا فیصلہ بدلتے ہیں۔ چونکہ انسانی عقل غیب کی باتوں کے ادراک سے قاصر ہے، اس لیے اگر ان معانی کا اطلاق انسان پر کیا جائے تو اس میں کوئی حرج اور شرعی قباحت نہیں ہے۔
لیکن جہاں تک اللہ عزوجل کی ذات کا تعلق ہے، تو اس پر بداء کا اطلاق کرنا بلاشبہ کفر ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ غیب اور حاضر ہر چیز کا جاننے والا ہے، وہ پوشیدہ اور انتہائی مخفی باتوں کا بھی علم رکھتا ہے، اور جو کچھ ظاہر ہو چکا یا جو مستقبل میں ظاہر ہو گا، وہ ان سب کو یکساں طور پر جانتا ہے۔ اللہ عزوجل کی ذات کے حق میں یہ بات محال ہے کہ اسے کسی چیز کے بارے میں پہلے علم نہ ہو اور بعد میں حاصل ہو۔ جبکہ روافض کہتے ہیں:
ما عُبِدَاللہ بشَيءٍ مِثلِ البَداءِ (الكافي: جلد 1 صفحہ 146)
ماعُظِّمَ اللهُ بمِثلِ البَداءِ (الكافي: جلد 1 صفحہ 111)
یعنی بداء کے عقیدہ سے بڑھ کر کسی اور چیز کے ذریعے اللہ کی عبادت اور تعظیم نہیں کی گئی گویا ان کے ہاں سب بڑی عبادت یہ کفریہ عقیدہ رکھنا ہے۔
لو عَلمَ النَّاسُ ما في القَولِ بالبَداءِ مِنَ الأجرِ ما فتَروا عن الكلامِ فيه (الكافي: جلد 1 صفحہ 115)
اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ”بداء“ کا عقیدہ رکھنے میں کتنا بڑا اجر و ثواب ہے، تو وہ اس بارے میں کلام کرنے سے کبھی نہ تھکیں گے۔
اس عقیدہ کی بنیاد پر خامنائی بھی یہ باور کرا رہا ہے کہ گویا اللہ کو حسینؓ کی شہادت کا علم نہیں تھا اس لیے وہ ستر (70) ہجری میں کسی عظیم تبدیلی کا فیصلہ کر رکھے تھے لیکن جب حسین کو شہید کر دیا گیا تو غصے میں آ کر وہ فیصلہ مؤخر کر دیے
یہی ان روافض کے دین کی حقیقت ہے جس کا ظاہر خوشنما اور باطل کفر و شرک سے بھرا ہوا ہے۔