لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 1 از 6

لغت کی مشہور کتاب المنجد میں مولیٰ کے 22 معنیٰ لکھے ہیں، مگر اس کے معنیٰ حاکم نہیں لکھے یعنی لغت عرب میں مولیٰ کا لفظ حاکم کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے ان معنوں میں آتا ہے۔

سبع معلقات میں طرفہ کے معلقہ میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:

فلو کان مولای امرأ ھو غیرہ لفرج کربی اولا نظرنی عدی ولکن امرأ ھو خانقی علی الشکر او التساؤل او انا مفتدی

ترجمہ: اگر میرا ابن عم کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ضرور میری تکلیف دور کرتا یا دوسرے دن تک مہلت دیتا لیکن میرا ابن عم ایسا آدمی ہے جو میرا گلا گھونٹتا ہے شکریہ پر یا سوال پر یا میں فدیہ دوں۔

پھر حضور اکرمﷺ نے یہ لفظ سیدنا زید بن حارثہؓ کے متعلق بھی فرمایا جیسا کہ انت اخوانا مولانا۔

(مشکوٰۃ: صفحہ 293)

اور قرآن مجید میں آتا ہے:

فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌

(سورۃ التحریم: آیت 4)

اور اِنَّ اَوۡلَى النَّاسِ بِاِبۡرٰهِيۡمَ لَـلَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا

(سورۃ آل عمران: آیت 68)

اگر مولیٰ کے معنیٰ حاکم لیے جائیں تو پہلی آیت کا مطلب ہوگا کہ جبرائیل اور صالح مؤمن نبی کریمﷺ کے حاکم ہیں، اور دوسری آیت کا مطلب ہوگا کہ ابراھیم علیہ السلام کے متبع نبی کریمﷺ کے حاکم ہوں گے، ظاہر ہے کہ لغت کے اعتبار سے مولیٰ بمعنیٰ حاکم استعمال ہونا ثابت نہیں ہے۔

علم معانی کے لحاظ سے تحقیق:

اگر یہ فرض لیا جائے کہ مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ آتا ہے (حالانکہ مفعل بمعنیٰ افعل کسی جگہ کسی مادہ میں استعمال نہیں ہوتا) تو اولیٰ بالتصرف صلہ ٹھہرانا کہاں کی لغت ہے؟ اولیٰ بالمحبت یا اولیٰ بالتعظیم کیوں نہ مانا جائے جسکا قرینہ خود حدیث میں موجود ہے کہ اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ: یعنی اے اللہ تو اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھتا ہے اور تو اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھتا ہے۔

یعنی حضور اکرمﷺ نے خود لفظ مولیٰ کے معنیٰ کی تعیین فرما دی، کہ عداوت کے مقابلے میں یہ لفظ استعمال فرمایا اور ظاہر ہے کہ عداوت مقابلے میں محبت کا لفظ استعمال ہوتا ہے حکومت کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔

روح المعانی میں ایک قول فیصل دیا گیا:

وقد انکر اھل العربیة قاطبۃ بل قالوا کم یجئ مفعل بمعنی افعل اصلاً

ترجمہ: تمام اہلِ عربیت نے مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ کا انکار کیا ہے بلکہ انکا کہنا ہے کہ مفعل بمعنیٰ افعل قطعاً نہیں آتا۔

لفظ مولیٰ کے معانی کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد نے فیصلہ کن بات کہہ دی:

الا تری کیف لم یصرح النبیﷺ بالخلافة بعدہ بلا فصل یوم غدیر واشارة الیھا بکلام مجمل مشترک بین معان یحتاج فی تعیین ماھو المقصود منھا الی قرائن حالیۃ اور مقالیۃ(فصل الخطاب: صفحہ 182)

ترجمہ: کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلافصل کی تصریح نہیں فرمائی بلکہ مجمل مشترک معانی کثیرہ میں جو کلام فرمائی وہ قرائن حالیہ یا مقالیہ کی محتاج ہے جن سے مقصود کا تعین نہیں کیا جا سکے۔

مجتہد صاحب کے فیصلے کا ماحصل یہ ہے کہ جو کلام مقصود کی تصریح میں قرائن کی محتاج ہو اس سے اصولی مسائل ثابت نہیں کیے جا سکتے۔

ایک اور شیعہ مجتہد نے ایک اصولی بات بیان فرمائی ہے کہ:

قال اللہ تعالیٰ یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ الخ

والتبلیغ لا یکون آلا بالتفسیر

(الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ: صفحہ 21)

ترجمہ: پوری تفسیر کے بغیر تبلیغ اصولاً ہوتی ہی نہیں،

اور ظاہر ہے کہ جب حضورﷺ نے لفظ مولیٰ کی تفسیر نہیں فرمائی تو اس حکم کی نہ وضاحت ہوئی اور نہ تبلیغ ہوئی جس لفظ کی وضاحت یا تفسیر خود متکلم نے نہیں فرمائی اس اسے ایک اصولی مسئلہ خلافت بلافصل ثابت کرنا تکلف بےجا یا سینہ زوری کے سوا کچھ نہیں۔

شیعہ علماء میں سے میر حامد حسین لکھنؤی نے اپنی کتاب طبقات الانوار میں اور مولوی علی محمد نے فلک النجات میں سیدنا علیؓ کی خلافت پر سب سے بڑی دلیل اور نص جلی یہی حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ پیش کی ہے اور اس حدیث کا تفصیلی جائزہ لینے سے واضح ہو گیا کہ یہ دلیل مجمل مشترک اور معنیٰ متعین کرنے میں دوسری دلیل کے محتاج ہے پھر خلافت بلا فصل کی دلیل کیسے بن سکتی ہے۔

محدث نوری نے شیخ صدوق پر خوب جرح کی ہے، شیخ مذکور نے تحریف قرآن کا انکار کیا ہے محدث نوری نے فصل الخطاب میں اسکو رد کیا ہے کہ اگر قرآن کی تحریف کا انکار کیا جائے، تو حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کا معاملہ گڑ بڑ ہو جاتا ہے اس لیے تحریف قرآن کا اقرار کرنا درست ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کی آیت قرآن میں موجود تھی مگر صحابہؓ نے وہ آیت نکال دی۔

چنانچہ محدث نوری فصل الخطاب: صفحہ 343 پر شیخ صدوق کے متعلق لکھتا ہے:

قلت لشدة حرصه على اثبات مذهبه يتعلق بكل ما يحتمل فيه تائيدًا لمذهبه ولا يلتفت الى لوازمه الفاسدة التي لا يمكن الالتزام به فان ما ذكره من شبهة هي الشبهة التي ذكرها المخالفون بعينيها و او ردوھا علی اصحابنا المدعيين لثبوت النص الجلى على أمامة مولانا على واجابوها بما لا يبقى معه ريب وقد أحياها بعد طول المدة غفلة او تناسيا مما هو مذكور في كتب الامامية

ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ شیخ صدوق اپنے مذہب کے ثابت کرنے کا اتنا حریص ہے کہ جس بات میں ذرہ بھر احتمال پاتا ہے اپنے مذہب کی تائید میں لے لیتا ہے اور اس کے نتائج فاسدہ کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ ان نتائج کو تسلیم کرنا اس کے امکان میں نہیں جو اعتراض اس نے تحریف قرآن پر کیے ہیں بعینہ وہی اعتراض ہمارے مخالفین حضرت علیؓ کی امامت پر نص جلی کے موجود ہونے پر اصحاب شیعہ پر کرتے ہیں، اور ہمارے اصحاب نے ان کا جواب ایسے عمدہ طریقہ سے مدلل طور پر دیا ہے کہ شبہ کی گنجائش نہیں رہی مگر شیخ صدوق نے ایک طویل زمانہ کے بعد پھر ان اعتراضات کو زندہ کیا ہے اور جو کچھ کتب امامیہ میں کہا ہے اس سے غفلت برتی ہے یا فراموش کر دیا ہے۔

خلافت بلافصل ثابت کرنے کے لیے بلاشبہ بہت کوششیں ہوتی رہیں مگر شریف مرتضیٰ علم الھدیٰ نے ان پر پانی پھیر دیا چنانچہ شافی: صفحہ 115 پر فرماتے ہیں۔

ولا شك في انه علی لم يدع الامامة متظاهر الا عند البيعة۔

صفحہ 1 از 6