لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 6

ترجمہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علیؓ نے کبھی دعویٰ امامت کا اظہار نہیں کیا سوائے اس زمانہ کے جب ان کی بیعت ہوئی۔

ظاہر ہے کہ جس بات کے حضرت علیؓ خود مدعی نہیں ہیں وہ بات ان کے متعلق ثابت کرنے کی کوشش واقعی ایک عجیب حرکت ہے، رہا حدیث پر جرح کا معاملہ تو اصول کے اعتبار سے یہ حدیث مجمل مشترک قرار پائی اس اصطلاح کی حقیقت فںٔی اعتبار سے واضح کر دینا مناسب ہے۔

والمجمل وهو ما خفي المراد منه بنفس اللفظ خفا لا يدرك الا بالبيان من المجمل سواء كان ذلك لتزاحم المعاني المتساوية الاقدام كالمشترك او لغرابة المعاني(نامی شرح حسامی)

ترجمہ: نص مجمل وہ ہے جس سے مراد نفس لفظ میں پوشیدہ ہو اور وہ پوشیدہ معانی اس کے بغیر معلوم نہ ہو سکیں کہ اجمال کرنے والا خود بیان کرے کہ اس سے مراد فلاں معانی ہیں یہ اجمال انبوہ معانی کی وجہ سے ہوگیا ہو تو تمام برابر ہیں مثل مشترک کے یا بوجہ غرابت معانی کے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ حدیث مجمل مشترک ہے اور یہ حضور اکرمﷺ نے فرمائی ہے اس لیے اس اجمال کی تفصیل جب تک حضور اکرمﷺ کی زبان مبارک سے نہ ہو اس کے تفصیلی معنیٰ متعین نہ ہوں گے، یہ بات اصول کے خلاف ہے کہ اجمال تو حضورﷺ کریں اور تفصیل ہرکہ و مہ( ہر خاص و عام) کرنے لگے، لہٰذا اصولاً اس امر کی ضرورت ہے کہ اس اجمال کی تفصیل حضورﷺ کی ایسی حدیث سے کی جائے جو متواتر ہو اور اپنے مدلول مطابقی خلافت بلافصل پر نص صریح غیر مؤول بھی ہو اور حضورﷺ کا ارشاد ہو کہ مولاہ کے معنیٰ خلافت بلافصل ہے۔

لفظ مولیٰ مجمل کے علاوہ مشترک بھی ہے اس لیے مشترک کا حکم بھی اصول فقہ کے قاعدہ سے معلوم کر لینا ضروری ہے: 

حكم المشترك التامل فيه حتى یترجح احد معينه التامل في نفس الصيغة او غيرها من الادلة او الامارات لترجیح احد معنيہ

ترجمہ: مشترک کا حکم یہ ہے کہ اس میں مائل کیا جائے اور یہ غور و فکر یا تو نفس لفظ میں ہوگا اور اشارات اور علامات میں تو ایک خاص معنیٰ کی ترجیح کے لیے دلائل بن سکیں۔

یعنی ایک معنیٰ پر دوسرے معنیٰ کی ترجیح ثابت ہونے یا بیان کے بعد نص قابل عمل تو ہو سکتی ہے مگر اس نص سے اصول یا عقائد ثابت نہیں ہو سکتے۔

اب اس حدیث (من کنت مولاه الخ) کو واقعاتی پس منظر میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ واقعہ ہے کہ یہ الفاظ حضور اکرمﷺ نے غدیر خم پر فرمائے، اور بقول شیعہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور دستار بندی کرائی گئی، یہ تینوں امور وضاحت طلب ہیں۔

اول دستار بندی: دستار بندی سے بالعموم یہی بات یعنی خلافت یا جانشینی سمجھی جاتی ہے مگر یہ بات اس سے پہلے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے ساتھ پیش آ چکی تھی، اس لیے وہ پہلے ہی خلیفہ بلافصل بن گئے، جیسا کہ مشکوٰۃ باب اللباس میں ہے۔

عن عبد الرحمٰن بن عوف عممنى رسول اللہﷺ فندلها بین یدی ومن خلفی

ترجمہ: حضورﷺ نے مجھے پگڑی بندھوائی تھی ایک سامنے کر دیا تھا ایک پیچھے کر دیا تھا۔

دوم بیعت لینے کا معاملہ: علامہ علی الحائری مجتہد شیعہ نے اپنی کتاب موعظہ غدیر میں بیعت کی تفصیل دی ہے کہتے ہیں:

حضرت علیؓ کو ایک خیمہ میں بٹھایا گیا ایک ایک صحابی اندر جاتا اور بیعت کرتا تھا حتٰی کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بیعت کی۔

یہ دلیل اس لحاظ سے وزنی ہے کہ لفظ مولیٰ کی وضاحت حضورﷺ نے گو اپنی زبان مبارک سے نہیں فرمائی مگر اپنے فعل سے فرما دی، مگر عقلی اور عملی اعتبار سے یہ دلیل بناوٹی معلوم ہوتی ہے وہ یوں کہ

1: تصور کیجیے ایک خیمہ میں حضرت علیؓ بیٹھے ہیں، باہر خلقت کا ہجوم ہے اس ہجوم میں سے ایک ایک آدمی خیمہ کے اندر باری باری جاتا ہے، حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور بیعت تو عہد ہے لازماً وہ ہر ایک سے عہد لیتے ہوں گے اگر اس سارے عمل میں کم از کم 3 منٹ صرف ہوں تو ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمیوں سے بیعت لینے میں 6200 گھنٹے یعنی 8 مہینے اور 18 دن اور 8 گھنٹے خرچ ہوئے کتنی طویل نشست تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ تین منٹ میں فارغ ہو کر اپنے کاروبار میں لگ گئے مگر حضرت علیؓ اتنی طویل مدت مسلسل ایک جگہ بیٹھے رہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجتہد لاہوری نے کہیں خواب کا واقعہ بیان نہ کیا ہو۔

2: تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ غدیر کے واقعہ کے بعد صرف 80 دن اس دنیا میں رہے پھر آپﷺ کا وصال ہوگیا۔

3: ان دونوں حقائق کو جمع کرنے سے نتیجہ نکلا کہ حضورﷺ کا وصال بھی ہوگیا تجہیز و تکفین بھی ہو گئی اور ابھی سیدنا علیؓ اسی خیمے میں بیٹھے بیعت لے رہے ہیں اور 178 روز بعد تک بیعت لیتے رہے۔

4:حضورﷺ کا وصال ہوگیا ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ثقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہیں خلافت کا معاملہ زیرِ بحث ہے مختلف رائیں پیش ہوتی ہیں، سیدنا علیؓ تو ابھی غدیر پر ایک خیمہ میں بیٹھے بیعت لے رہے ہیں مگر جو صحابہؓ بیعت سے فارغ ہو کر واپس مدینہ طیبہ پہنچ گئے ہیں وہ تو ثقیفہ میں موجود ہیں مگر ان میں سے کوئی ایک صحابیؓ یہ نہیں کہتا کہ کس جھمیلے میں پڑے ہو بیعت خلافت کچھ تو ہو چکی ہے اور کچھ ہو رہی ہے اور ہوتی جا رہی ہے۔

5: حضرت علیؓ رسولﷺ کے وصال کے بعد 178 دن 8 گھنٹے بیعت میں مصروف رہنے کے بعد غدیر خم سے روانہ ہوتے ہیں اور مدینہ طیبہ پہنچتے ہیں تو خلافتِ صدیقی کے چھ ماہ گزرتے ہیں اور حضرت علیؓ نے یہ نہ کہا کہ بیعت تو میں لیتا رہا ہوں تم کیسے خلیفہ بن گئے ہو بلکہ صدیق اکبرؓ کی بیعت کر لی، اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے 6 ماہ بعد سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیعت کی تھی یہ عقیدہ بھی علامہ الحائری نے حل کر دیا، کہ حضرت علیؓ 5 ماہ 28 دن بعد غدیر خم سے روانہ ہوئے 2 روز سفر میں لگ گئے ہونگے، چھ ماہ بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہیں بلا چوں و چرا سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیعت کر لی۔

6: حضورﷺ کے وصال کے وقت حضرت علیؓ مدینہ منورہ میں موجود ہی نہ تھے کیونکہ خیمہ میں بیٹھے بیعت لے رہے تھے اس لیے حضورﷺ کی تیمار داری اور تجہیز و تکفین اور حضورﷺ کے جنازہ میں بھی حضرت علیؓ شریک نہ ہو سکے۔

صفحہ 2 از 6