لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 3 از 6

یہ تو علامہ حائری کے بیان کا تاریخی اور واقعاتی تجزیہ ہے، ایک اور شیعہ مجتہد "فصل الخطاب" فرماتا ہے کہ اس حدیث سے خلافت علیؓ بلافصل ثابت نہیں ہوتی، پھر ایک اور شیعہ مجتہد "احتجاج طبرسی" اس حدیث کو سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کے بارے میں قابلِ قبول تسلیم نہیں کرتے۔

فبعثه اللہ بالتعريض لا بالتصريح واثبت حجة اللہ تعريضا لا تحريصا بقوله من كنت مولاه الخ(احتجاج: صفحہ 130)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے آپ کو تصریح کے ساتھ نہیں بلکہ تعریض سے مبعوث فرمایا اور اللہ کی حجت تعریض سے ثابت کی تصریح سے نہیں جیسا کہ حضورﷺ نے فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں علی اس کے مولیٰ ہیں

اور صاحب استغاثہ نے یہ اصول بیان کر دیا کہ:

والتبليغ لا يكون الا بالتفسير

ترجمہ: تفسیر اور وضاحت کے بغیر تبلیغ ہو ہی نہیں سکتی۔

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ جس حدیث کو خلافت بلا فصل کے لیے نص کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے خود شیعہ مجتہد اور علماء اس حدیث کو خلافت بلا فصل کے لیے نہ بنیاد تسلیم کرتے ہیں نہ سند اور حجت مانتے ہیں۔

لفظ مولی کی مزید تحقیق:

لسان العرب: باب ولی، جلد 15 صفحہ 415

قال الزجاج الولى والمولىٰ واحد في كلام العرب وقال المنصور و من ھذا قول سيدنا محمدﷺ ایما امراة نکحت بغیر اذن مولها و رواه بعضهم بغیر اذن ولیھا بمعنى واحد وفيه قول سیدنا رسولﷺ من كنت مولاه فعلی مولاه ای من كنت وليه فعلى وليه الخ قال ابو العباس في قوله من كنت مولاه فعلى مولاه اى من احبني و تولانی فلیتولہ والموالاة ضد المعاداة

ترجمہ: زجاج کہتے ہیں کہ کلام عرب میں ولی اور مولیٰ مترادف ہیں منصور کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا قول ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ جس عورت نے بغیر اجازت اپنے مولیٰ کے نکاح کیا اور دوسری میں ہے بغیر اذن ولی کے نکاح کیا کیونکہ دونوں لفظ ایک ہی معنیٰ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں حضورﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہی ہے کہ جس کا میں ولی ہوں علیؓ بھی اسکا ولی ہے،

ابو العباس کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جس نے مجھ سے محبت کی اور دوستی رکھی اس نے علیؓ سے دوستی رکھی اور دوستی کی ضد دشمنی ہے۔

اور تاج العروس باب الولی میں ہے:

اگر ولی بمعنیٰ اسم فاعل ہو تو بمعنیٰ مطیع و فرمانبردار ہوگا اور اگر معنیٰ اسم مفعول ہو تو بمعنیٰ محسن و منعم ہوگا یعنی جس پر احسان یا انعام کیا گیا ہو۔

لغت عرب میں ولایت بکسرہ واؤ یا بفتح واؤ بمعنیٰ حکومت اور سلطنت کے نہیں آتے اور ولایت بالفتح تو ہمیشہ بمعنیٰ نصرت آتا ہے، نیز لفظ مولیٰ مطلق بغیر اضافت بمعنیٰ حاکم نہیں آتا ہاں کسی جزوی امر کی طرف اس کی اضافت ہو تو اس وقت اس کا معنیٰ متولی ثابت ہوگا جیسے ولی المسجد مولیٰ المسجد یا ولی البیت ولی الینم مگر لغت عرب میں مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ نہیں آتا چہ جائیکہ کہ اولیٰ بالتصرف کے معنیٰ لیے جائیں۔

قال تعالى مأواكم النار هي مولٰكم أى مصيركم وتحقيقه ان المولىٰ موضع الولى وهو القرب فالمعنى ان النار هی موضعكم الذي تقربون منه وتصلون اليه وقال الکلبی والزجاج والفراء و ابو عبيدة اللغوی اولی کم وان هذا الذي قالوه معنى وليس بتفسير اللفظ لانه لو كان مولیٰ واولىٰ بمعنى واحد باللغة اصح استعمال كل واحد منهما في مكان الآخر فكان يجب ان يصح ان يقال هذا مولىٰ من فلان وصح ان یقال ھذا اولیٰ فلان کما یقال ھذا مولیٰ فلان ولما بطل ذلک علمنا ان الذی قالوہ معنی لیس بتفسیر (تفسیر کبیر: جلد 8 صفحہ 193)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ان کے قریب ہے یعنی ان کے پہنچنے کی جگہ ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد قرب ہے تو اس کے معنیٰ یہ ہوئے جہنم وہ جگہ ہے جس کے قریب وہ جا رہے ہیں اور اس تک پہنچ رہے ہیں کلبی زجاج فراء اور ابو عبیدہ لغوی کہتے ہیں کہ مولٰکم کے معنی اولٰکم ہے اور یہ جو انہوں نے کہا ہے مفہوم کے اعتبار سے ہے لفظ مولیٰ کی تفسیر کے اعتبار سے نہیں، اگر لغت میں لفظ مولیٰ اور اولیٰ کے لفظ ایک ہی معنیٰ رکھتے ہوں تو ہر جگہ دونوں لفظوں کا استعمال صحیح ہوگا اس لیے جب ہم کہتے ہیں کہ یہ اس سے اولیٰ ہے وہاں یہ بھی صحیح ہونا چاہیے کہ یہ اس سے مولیٰ ہے اسی طرح یہ فلاں کا مولیٰ ہے کی جگہ یہ فلاں کا اولیٰ ہے درست ہونا چاہیے اور جب ایسا کرنا باطل ہے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے مفہوم کے اعتبار سے کہا ہے لفظ کی تفسیر کے اعتبار سے نہیں۔

حاصل کلام یہ ہوا کہ جن حضرات نے مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ کہا ہے انہوں نے حاصل معنیٰ کا بیان کیا ہے لفظ کی تفسیر بیان نہیں کی ورنہ ان کا قول جمہور عرب کے خلاف ہوگا، معلوم ہوا کہ اولیٰ کا صلہ تصرف بیان کرنا بالکل غلط ہے، بفرض محال یہ معنیٰ تسلیم کر لیے جائیں تو اس میں کئی تغیر کرنے پڑیں گے اول مولیٰ بمعنیٰ اولیٰ پھر اولیٰ کو مقید کرنا قید تصرف سے پھر تصرف کو کسی خاص قید سے مقید کرنا پڑے گا، کیونکہ مطلق تصرف تو محال ہے یعنی اولیٰ بالتصرف بالمال يا بالجان، يا بالزوجہ يا بالبنات وغیرہ اگر تصرف مطلق ہو تو اس سے فرد کامل مراد ہوگا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تصرف کرنے میں تمام انسانوں میں ان سے حضرت علیؓ ہی اولیٰ ہیں یعنی سیدنا علیؓ کو انسانوں کی جان میں مال میں بیویوں میں بیٹیوں میں دوکانوں میں مکانوں میں ہر چیز میں تصرف کرنے کا حق ہے، اگر تصرف مطلق مردانہ لیں تو ظاہر ہے کہ نہیں لیا جا سکتا تو تصرف مقید بہ قید خلافت کے ہونا چاہیے یعنی اولٰكم الخلافة بلا فصل من بعدی مگر اس قید سے مقید تصرف کا کہیں وجود ملتا ہے نہ ثبوت پایا جاتا ہے۔ 

اصول روایت کے تحت حدیث کی تحقیق:

فان اعظم ما تمسك الشيعة بها على هدم قواعد الاسلام بادعاء خلافة على بلا فصل ان قصة الغدير كما هو المشهور موضوعة مكذوبة لانه لا يخلو طريق من طرقها من شیعی متهم بالكذب فی نقل وصل على او كذاب او متروك او منكر الحديث و ضعيف الحديث جدا او مجهول لا یدری من هو او ما هو فان قلت قد روى ان عليا انشد الناس فی الرحبة هل سمع احدكم رسول الله يقول یوم غدیر من كنت مولاه الخ۔ 

صفحہ 3 از 6