لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 4 از 6

اقول نعم قد روى ذلك من طرق مختلفة والفاظ متفاوتہ فی بعضها ذكر الغدير و فی بعضه لا اثر فيها للغدير ولكن لایخلو طريق منها من شیعی بالكذب فی رواية فصل على أو کذاب او ضعیف او مجهول و ان الحق مع المحدثين الذين طعنوا فی قصة الغدير كالبخاری و ابی حاتم وابن ابی داؤد و ابراهيم الحربی وابن حزم وغيرهم والذی اثبتوا احظاؤا فيما زعموا والذين جعاره متواترا من المتاخرين الذين هم ليسوا من ائمة النقد فخطئھم اظھر من ان يخفى فلاتفتر باقوال هولاء ای من علماء الروافضتہ وعلماء اهلِ السنۃ الذين لم يبلغو امر تبۃ التنقيد تبعا للحكیم الترمذی و امثالہ من المستاهلين في الرواتہ والتحسين والتصحیح( تصحیح اغلاط حضرت تھانویؒ)

ترجمہ: شیعہ نے قواعدِ اسلام کو متزلزل کرنے اور دین اسلام کو منہدم کرنے کے لیے خلافت بلا فصل کے سلسلے میں جس دلیل سے تمسک کیا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ غدیر کا قصہ جیسا کہ مشہور ہوگیا ہے موضوع اور جھوٹا ہے، کیونکہ اس کی سند کے طرق سے کوئی طریقہ ایسا نہیں جو کسی ایسے شیعہ سے خالی ہو جو سیدنا علیؓ سے روایت کرنے میں متہم بالكذب نہ ہو یا کذاب متروک منكر الحديث ضعیف یا مجہول نہ ہو، اگر تو کہے کہ مروی ہے کہ رحبہ میں حضرت علیؓ نے لوگوں کو قسم دلائی تھی کہ کیا تم میں سے کسی نے سنا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن فرمایا تھا من کنت مولاه الخ میں کہتا ہوں کہ ہاں یہ روایت کی گئی ہے اور مختلف طرق سے اور مختلف الفاظ سے بعض میں غدیر کا ذکر ہے بعض میں مطلق نہیں لیکن ان میں سے کوئی طریقہ سند ایسا نہیں جو کسی ایسے شیعہ سے خالی ہو جو سیدنا علیؓ کے روایت کرنے میں متہم بالکذب نہ ہو یا کذاب ضعیف اور مجہول نہ ہو، اس لیے وہ محدثین حق پر ہیں جنہوں نے قصہ غدیر پر طعن کیا ہے مثلاً امام بخاریؒ، ابو حاتم ابن ابی داؤدؒ، ابراہیم الحربیؒ اور ابن حزمؒ وغیره محدثین نے اسے ثابت کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں ٹھوکر کھائی ہے جس میں انہوں نے زعم کیا ہے اور متاخرین میں سے جنہوں نے اسے متواتر کہا ہے وہ جرح و تعدیل کے امام نہیں ہیں اس لیے ان کی رائے کا غلط ہونا ظاہر ہے، ایسے علماء کی رائے سے دھوکا نہ کھانا چاہیے خواہ علماء شیعہ ہوں یا اہلِ سنت کے ان علماء میں سے جو درجہ تنقید تک نہیں پہنچے، جیسا کہ حکیم ترمذی وغیرہ جو روایت حدیث اور اس کی تحسین و تصحیح میں متساہل ہیں۔

(تصحیح اغلاط حضرت تھانویؒ) 

واقعہ یہ ہے کہ حدیث من کنت مولاہ الخ کا مورد غدیر نہیں بلکہ اور ہے جس کی فصیل یہ ہے:

عن ابن عباسؓ عن بريده قال خرجت مع على الى اليمن و رایت منه جفوة فلما رجعت شكوت إلى النبی صلی اللہ علیہ وسلم فرفع رأسه الی وقال يا بريدة من کنت مولاہ فعلی مولاه ان كان قصة الغدير ثابت فهو في قصة بريدة و معناه ما قلناه يعنى من كان يحبني فليحب عليا لافي احبه فانت تحبنى فاحبب عليا ولا تبغضه

ترجمہ: ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ بریدہؓ سے بیان کرتے ہیں میں حضرت علیؓ کے ساتھ یمن میں گیا، میں نے ان سے کچھ زیادتی دیکھی واپسی پر میں نے حضور اکرمﷺ سے ان کی شکایت کی آپ نے میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا جو مجھے دوست رکھتا ہے وہ علی کو بھی دوست رکھتا ہے اگر غدیر کا قصہ ثابت ہو تو یہ بات بریدہ کے واقعہ میں کی گئی ہے اور اس کا مطلب وہی ہے جو ہم نے کہا ہے کہ جسے مجھ سے محبت ہے اسے علی سے بھی محبت کرنی چاہیے کیونکہ میں ان سے محبت کرتا ہوں جب تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو علی سے بھی محبت رکھ اس سے بغض نہ رکھ۔ 

یعنی حضرت بریدہؓ نے سیدنا علیؓ کے رویہ کے خلاف حضورﷺ سے شکایت کی تو حضورﷺ نے یہ الفاظ فرمائے، ایک شخصی رنجش دور کرنے کے لیے حضورﷺ نے جو الفاظ فرمائے انہیں ایک بنیادی عقیدہ کی دلیل بنا لینا تکلف محض ہے، اب ہم اس روایت کی سند پر تفصیلی بحث کرتے ہیں:

علامہ ابن عقدہ نے یہ روایت سات سندوں سے نقل کی ہے، اور ان سات سندوں میں ایک راوی ابو اسحاق موجود ہے جو شیعہ ہے پھر سعید بن وہب اور عبید اللہ بن موسیٰ بھی ملتے ہیں یہ دونوں شیعہ ہیں۔

فالحاصل ان رواية سعيد و إبى اسحاق لا يعتمد عليه من وجوه احدها ان ابا اسحاق منهم بالتشيع و ثانیها ان سعيد بن وهب لا يعتمد على روایته لانه شیعی و ثالثها ان ابن عقده ساقة لانه رافضی كذاب وعبيد الله بن موسىٰ فوقه من الشيعة

ترجمہ: مختصر یہ کہ سعید اور ابو اسحاق کی روایت پر بوجوہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا اول یہ کہ ابو اسحاق پر تشیع کا اتہام ہے، دوم یہ سعید بن وہب شیعہ ہے اس کی روایت قابل اعتبار نہیں، سوم ابن عقده ساقہ رافضی کذاب ہے اور عبید اللہ بن موسیٰ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ 

اور امام طحاوی کی حدیث من کنت مولاہ الخ میں اخبرنی ابو اسحاق موجود ہے اور محدث عبد الرزاق شیعہ نے اس حدیث کو اخراج کیا ہے۔ 

واخرج عبد الرزاق عن اسرائيل عن ابى اسحاق عن سعيد بن وهب قدر و جملة الروايات على ابى اسحاق وهو رافضى منهم

اب ان اسناد کا جائزہ لیا جاتا ہے:

پہلی سند: اس میں یہ حدیث زید بن ارقم سے چھ سندوں سے منقول ہے،

1: ما رواه عطبه العوفى ثم الكوفی قال سئلت زید ابن ارقم من كنت مولاه الخ

عطیہ کے متعلق تفصیلی بیان تحقیق فدک میں ہوگا

دوسری سند: ما رواه ابو عبيد عن ميمون إلى عبد الله قال قال زيد بن ارقم الخ۔ 

میمون ابو عبداللہ، امام شیعہ اس سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔ 

قال احمد احاديث مناكير وقال يحيىٰ بن حصين لا شيئ وقال النسائي ليس بالقوى وقال الحاكم ابو احمد لیس بقوى سقا حديثہ

تیسری سند: ما روي على بن الحسين قال حدثنا ابراهيم بن اسماعیل عن ابیہ عن سلمة قال سمعت زید بن ارقم الخ۔

اسمٰعيل بن يحيىٰ وسلمة متروكان وابراهيم الراوي عند ضعیف بروى احاديث مناكیر فسقط ھذہ الطریقۃ

چوتھی سند: مارواہ ابو اسحاق السبعي عن زيد بن ارقم اخرجه احمد بن محمد العاصمي قال اخبرنی الشيخ احمد بن محمد بن اسحاق قال اخبرنا على بن الحسين بن على الورسکی الراحی عن محمد بن کرام عن علی بن اسحاق قال ثنا حبيب بن حبيب اخو حمزه الزيات عن ابی بن اسحاق إبى زيد بن أرقم

محمد بن کرام: فرقہ کرامیہ کا پیشواء اور مقتداء ہے۔ 

پانچویں سند: ما رواه سلیمان الاعمش عن حبيب بن ابی ثابت من ابی الطفيل عن زيد

صفحہ 4 از 6