لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 5 از 6

ابو طفيل: شیعہ رافضی تھا فلا يجتح بروايتہ

چھٹی سند میں بھی میں ابو طفیل موجود ہے، روایت کا دوسرا طریقہ براء بن عازب سے ہے۔

روى عنه على بن يزيد و ابو هارون العبدى عن عدي بن ثابت جرح: قال يزيد بن رابع رايته ولم احمل عنه لانه كان رافضیا وھو یروی حدیث اذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ولا شك في كوفه كاذبا وابو ھارون العبدی اصوء حالا منہ عدى بن ثابت ايضاً كان من كبار الشيعة فسقط حديث براء بن عاذب

 روایت کا تیسرا طریقہ سعد بن ابی وقاص سے ہے تین سندوں سے منقول ہے 

1: رواه موسى بن يعقوب الزمعى عن مهاجر بن سماء عن عائشة بنت سعد عن ابيها 

 جرح: موسى قال ابن المديني صيف الحديث منكر الحديث وقال النسائي ليس بالقوى سعد ضعيف الحديث منكر الحديث

2: احرجہ الحاكم عن إبى زكريا يحيىٰ بن محمد العنبري عن ابراهيم بن إبى طالب عن على بن المنذر عن فضيل عن مسلم الملائي من خيثمه بن عبد الرحمٰن عن سعد بن ابي وقاص

 جرح: اما خیثمة بن عبد الرحمن فكذبها بين

 مسلم امور متروك الحديث و منكر الحديث 

على بن المنذر شیعی محض وكذا ابن فضیل شیعی

3: ما رواه احمد بن محمد العاصي بسنده ابی ابن عقده عن ابراھیم بن وليد بن حماد قال اخبرنا ابى عن يحيىٰ بن يعلى عن يجرب بن صبيح عن اخت حمبد الطویل عن ابن جدعان عن سعيد بن مسيب عن سعد ابن ابي وقاص

جرح: ابن عقدة شیعہ ہے وضاع ہے کذاب ہے۔ 

یحییٰ بن یعلی، وهو شیعی فسقط قعۃ غدیر الی سعد بن ابى وقاص۔ 

چوتھا طریقہ: حذیفہ بن اسید ہے

رواه عنہ ابو طفیل اس پر جرح گذر چکی ہے

پانچواں طریقہ: اخرج ابن عقده عن عامر بن يعلى بن حمزة روايۃ طويلۃ من طريق عبد الله بن سنان عن ابى الطفیل واخرج ابن عساكر عن معروف بن خربوز عن ابى الطفيل 

چھٹا طریقہ: روی بکر بن احمد العصری عن فاطمہ بنت علی بن موسیٰ الرضا عن فاطمہ و زینب و ام کلثوم بنات جعفر بن کاظم

جرح: بکر بن احمد العصری شیعہ ہے

ساتواں طریقہ: عن ابى هريرة اس سند میں مطر الوراق عن شهر بن حوشب عن ابي ھریرہ یہ دونوں رافضی ہیں۔

معلوم ہوا کہ اصول روایت کے اعتبار سے یہ حدیث من كنت مولاه الخ ساقط الاعتبار ہے، اصول درایت کے لحاظ سے عقلی معیار پر پوری نہیں اترتی اور واقعات کے لحاظ سے جو تفصیل علامہ الحائری نے دی ہے وہ حقیقت سے زیادہ خواب کی بات معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ایسی حدیث سے خلافت بلافصل کا بنیادی اور اعتقادی مسئلہ ثابت کرنا کسی طرح معقول نظر نہیں آتا۔ 

علماء شیعہ کی طرف سے خلافت علیؓ کے ثبوت میں چار اور احادیث بیان کی جاتی ہیں جو فتح الباری: جلد 8 صفحہ 106 پر یکجا بیان کی گئی ہیں۔

1: ما اشاعته الرافضیۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اوصیٰ الى على بالخلافة وان يوفى ديونه وقد اخرج العقيلی وغيره في الضعفاہ في ترجمه حکیم بن جبیر عن طريق عبد العزيز بن مروان عن ابي هريرة عن سلیمان انه قال قلت یا رسول اللہ ان اللہ تعالیٰ لم یبعث نبیا الا بين له من یلى بعده فهل بين لك قال نعم علی ابن ابى طالب

ترجمہ: جو بات شیعہ نے رائج کر رکھی کہ نبی کریمﷺ نے اپنے بعد خلافت کی وصیت کی تھی اور یہ کہ سیدنا علیؓ حضورﷺ کا قرض بھی ادا کریں گے اس حدیث کو عقیلی وغیرہ محدثین نے ترجمہ حکیم بن جبیر میں درج کر کے ضعیف قرار دیا ہے۔

2: عن سلمان قلت یا رسول الله من وصیك قال وصيى و موضع سرى و خليفتى على اه‍لى و خير من اخلفه بعد على ابن ابى طالب

ترجمہ: سلیمان بیان کرتا ہے کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہﷺ آپ کے بعد آپ کا وصی کون ہوگا فرمایا علی یہ وصی ہوگا جو میرے اسرار کی جگہ ہے میرا خلیفہ ہوگا اور بہت اچھا خلیفہ ہوگا۔ 

3: عن ابی بریدہ عن ابيه رفعه لكل نبي وصى و ان عليا وصیی وولدی۔

ترجمہ: ابن بریدہ اپنے والد سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ہر نبی کا وصی ہوتا ہے اور میرا وصی علی ہے۔ 

4: عن ابی ذر رفعه انا خاتم النبیین و علی خاتم الاوصیاء او ردھا و غيرها ابن الجوزي في موضوعات

ترجمہ: ابو ذر رسول کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور علی خاتم الاوصیاء ہیں یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔

مختصر یہ کہ یہ چاروں حدیثیں وضعی ہیں جھوٹی ہیں، اور اصولی مسئلہ کی بنیاد صرف دلیل قطعی بن سکتی ہے جو نص صریح غیر مؤدل اور اپنے مدلول پر واضح ہو، اس لیے خلافت بلافصل کے لیے یا تو قرآن کی آیت ہو جیسے يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ(سورۃ ص: آیت 26)

ایسے ہی یا علی انا جعلناك خلیفہ من بعد محمد یا حضور اکرمﷺ کی متواتر حدیث ہو اور یہ دونوں چیزیں آج تک تو مل نہیں سکیں ممکن ہے آئندہ کوئی ڈھونڈ نکالے۔ 

3: ان چار احادیث کے علاوہ تیسرے نمبر پر ایک اور حدیث بطور دلیل پیش کی جاتی ہے اللألى المصنوعہ: جلد 1 صفحہ 325 حدیث لیلتہ الجن عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: 

كنت مع النبی صلی الله علیہ وسلم لیلۃ وفد الجن فلما انصرف بدون الا ان اتصرف فتنفس قلت ما شائك يا رسول الله قال نعيت الى نفسي قلت فاستخلف قال من قلت ابا بکر فسکت ثم مضى ساعة ثم تنفس قلت ما شانك قال نعیت إلى نفسي قلت فاستخلف قال من قلت عمرؓ فسکت ثم مضی ساعة ثم تنفس فقلت ما شاںٔك قال نعیت علی نفسی قلت فاستخلف قال من قلت علی ابن ابی طالب قال اماہ والذی نفسی بیدہ لںٔن اطاعوہ لیدخلو الجنۃ اجمعین، موضوع الحمد فیه علی مینا مولیٰ عبد الرحمن بن عوف قال فی التشیع لیس بثقۃ

ترجمہ: جس رات جنوں کا وفد آیا میں حضورﷺ کے ہمراہ تھا واپسی پر حضورﷺ نے ٹھنڈا سانس بھرا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا بات ہے فرمایا موت قریب معلوم ہوتی ہے میں نے عرض کیا خلیفہ مقرر فرما دیجیے فرمایا کس کو میں نے عرض کیا ابوبکر کو آپ خاموش ہو گئے پھر کچھ وقفے کے بعد ایسا ہی سانس لیا میں نے عرض کیا حضورﷺ کیا بات ہے وہی جواب ملا میں نے پھر وہی بات کہی فرمایا کسی کو عرض کیا عمرؓ کو پھر آپ خاموش ہو گئے پھر یہی ہوا میں نے عرض کیا علی کو فرمایا خدا کی قسم لوگ اگر اس کی اطاعت کریں گے تو وہ سب کو جنت میں لے جائے گا۔ یہ حدیث موضوع ہے اس میں علی بن مینا مولٰی عبد الرحمن بن عوف راوی ہے جو غالی شیعہ تھا قابل اعتبار نہیں ہے۔ 

صفحہ 5 از 6