لفظ مولیٰ کی تحقیق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ مولیٰ کی تحقیق

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 6 از 6

میزان الاعتدال میں ہے کہ وہ ساقط الاعتبار ہے، تنزیہہ الشریعۃ میں کذاب لکھا ہے، ذخیرہ احادیث میں صحابہؓ کا ایک عام رویہ جابجا ملتا ہے کہ حضورﷺ کوئی بات پوچھتے تو صحابہؓ کہہ دیتے کہ اللہ و رسولہ اعلم خواہ صحابہؓ کو اس سوال کا جواب معلوم بھی ہوتا اپنے فہم پر اعتماد کرنے کی جگہ اللہ اور رسولﷺ کے سپرد کرتے تھے، اس حدیث میں ابن مسعود جیسے مزاج شناس رسول حضورﷺ کو پے در پے تین مرتبہ ایک اہم مشورہ دیتے ہیں اور حضورﷺ کے خاموش ہو جانے سے بھی یہ اشارہ نہیں پاتے کہ مجھے خاموش رہنا چاہیے، حدیث کے موضوع ہونے کی ایک عقلی دلیل تو یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ 

ابن مسعود کی دوسری روایت اسی مضمون کی ہے جس میں ہے حدثنا یحییٰ بن یعلی الاسلمی اور ابی عبد الله الحزلی عن ابن مسعود ہے

اول الذکر کے متعلق: جلد، 11 صفحہ، 304 پر ہے کہ کوفی شیعہ تھا اور ثانی الذکر کے متعلق: جلد، 12 صفحہ، 142 پر ہے کہ صحابہ سے بعض رکھنے والا شیعہ تھا۔ 

اسی کتاب کے صفحہ 326 پر ابن مسعود کی روایت یوں بیان ہوئی ہے: 

قال لي رسول الله سالت اللہ تعالیٰ ان يقدمك ثلاثا فابی على الا تقديم إبى بکر

ترجمہ: میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ علی کو خلفائے ثلاثہ سے پہلے خلیفہ بنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار ہوا اور خلافت صدیقی کی سے تقدیم کا حکم ہوا۔

اس روایت سے تو خلافت صدیقی کے منصوص ہونے اور مامور من اللہ ہونے میں کوئی شعبہ نہیں رہ جاتا۔ 

4: ایک اور حدیث خلافت بلا فصل کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے: 

انا مدينة العلم وعلى بابها قال يحيیٰ بن معین لا اصل له وقال البخاري انه منكر ولیس وجه صحيح وقال الترمذى انه منكر غريب وذكره ابن الجوزي في الموضوعات وقال الشيخ تقى الدين ابن دقيق العيد هذا الحديث لم يثبقوه وقال الذهبي في الميزان انه موضوع وقال شمس الدين الجزری انه موضوع وقال الذهبي في المیزان داؤد بن سليمان الغازي له نسخة موضوعة عن على بن موسى الرضا و قال ابن عساكر منكر جدا اسناد و متنا وكان ابو اسد اسمٰعيل بن المثنی الاستر آبادي بخط دمشق فقام اليه رجل فقال ایها الشيخ ما تقول في قول النبي صلی الله علیہ وسلم انا مدينة العلم وعلى بابھا قال فاطرف لحظۃ ثم رفع رأسه و قال نعم لا نعرف ھذا الحدیث علی التمام قال الجوز ما فی ھذا حدیث منکر مضطرب وقال المؤلف (والسیوطی) موضوع اضطرب فیه الرواۃ و فی سنده فضیل صحته یحییٰ بن معین،وقال ابن حبان یروی الموضوعات 

ترجمہ: یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر ہے اس کے صحیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں، امام ترمذیؒ نے فرمایا منکر ہے غریب ہے، شیخ تقی الدینؒ نے فرمایا یہ حدیث نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں ابن جوزیؒ نے اسے موضوعات میں لکھا ہے امام ذہبی نے میزان میں فرمایا یہ موضوع ہے، ابن جزریؒ کہتے ہیں یہ موضوع ہے، امام ذہبیؒ نے فرمایا کہ داؤد بن سلیمان غازی کا ایک نسخہ موضوعہ تھا جو اس نے علی بن موسیٰ الرضا سے لیا تھا ابن عساکرؒ کہتے ہیں کہ سند اور متن کے اعتبار سے نہایت منکر ہے، ابو اسعد اسماعیلؒ استر آبادی دمشق میں وعظ کہہ رہے تھے کہ ایک آدمی اٹھا سوال کیا کہ شیخ اس حدیث کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں آپ تھوڑی دیر سر جھکائے خاموش رہے پھر کہا ہمیں یہ حدیث معلوم نہیں، الجوزمانی نے کہا ہے یہ حدیث منکر مضطرب ہے سیوطیؒ کہتے ہیں کہ موضوع ہے اس کی سند میں فضیل ہے جو موضوع حدیثیں بیان کرتا تھا ابن حبان کہتے ہیں وہ موضوع روایات بیان کرتا تھا۔

میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 193 پر ہے ہذا موضوع اس موضوع حدیث سے زیادہ سے زیادہ حضرت علیؓ کی فضیلت کا بلافصل کا تو اشارہ تک نہیں ملتا۔

5:ایک اور حدیث بیان کی جاتی ہے 

عن بریده قال قال رسول اللہﷺ ان علیا منى وانا من علی وهو ولی كل مؤمن من بعدی۔

ترجمہ: حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی ہر مومن کا دوست ہے۔

میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 37 پر اس حدیث کے راوی افلج کے متعلق درج ہے 

قال ابن عدي شيعی قال الجوزماني مفند قال الترمذي هذا حديث غريب لا نعرفه الا من سليمان بن جعفر قال ابو حاتم ليس القوى وقال ضعیف

کتاب شیعہ محمد بن علی الدرد بیلی: جلد، 1صفحہ، 152 پر لکھا ہے کہ شیعہ تھا شیعہ راوی کی اس ضعیف حدیث سے بھی حضرت علیؓ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے خلافت بلافصل کی دلیل بنانا تو تکلف محض ہے۔ 

ان تمام احادیث کی تفصیلی جرح و تعدیل مطلوب ہو تو ذیل کی کتب رجال دیکھ لیں: 

میزان الاعتدال: امام ذہبیؒ

لسان الميزان: ابن حجرؒ 

تہذيب التہذيب: ابن حجرؒ 

تنزيہہ الشريعہ عن اخبار الموضوعہ: علامہ ابن عراق



صفحہ 6 از 6