سید حسین رضوی شیعہ اور دیگر ممبرز کے تبصرے(قسط 43) - سنی…

سید حسین رضوی شیعہ اور دیگر ممبرز کے تبصرے(قسط 43)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

آپ نے دلشاد صاحب کو جو مشورہ بار بار  دیا اس پر خود بھی عمل نہیں کیا  کہ کسی بات کو سمجھنے کے لئے تمام قرائن کا مطالعہ ضروری ہے ۔ (واضح قول نبویﷺ پرقرائن!! قرائن، سیاق و سباق کی ضرورت غیر واضح باتوں کے متعلق  ہوتی ہے)

آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے پاس بیٹی کی وراثت پر کئی احادیث ہیں ان سب کو چھوڑ کر کچھ متشابہ حدیث سے چمٹ گئے ۔ (اصول کافی کا پورا  باب اور اتنی ساری صحیح روایات سب خلاف قرآن۔ اللہ کی پناہ)

اس کے علاوہ آپ پوری تاریخ میں ایک شیعہ مجتھد کو بھی نہیں دیکھا سکتے ہیں جس نے بیٹی کی عقار میں میراث کی نفی کی ہو۔(آپ پوری شیعہ تاریخ میں کسی مجتہد سے بیٹی کی عقار میں میراث کی تائید دکھادیں)

  آپ کا یہ کہنا کہ حضرت زہرا کی ناراضگی کا ذکر زہری کا گمان ہے، یہ اپنے گذشتہ صحیح بخاری کے بڑے بڑے شارحین پر نا سمجھی کے الزام کے ساتھ ساتھ زہری پر بھی الزام ہے یا وہ جھوٹا ہے یا متوہم  دونوں صورتوں میں وہ موثق نہیں ہے ۔  (میں نے بے دلیل کچھ بھی نہیں کہا۔ مناظرہ پھر دیکھیں)

تعجب کی بات یہ ہے کہ اپنے اس واہی ادعا کو ثابت کرنے کے لئے انبیاء کرام کو بھی مجتھدین کی صف میں کھڑا کرکے ان پر بھی خطا اور توہم کا الزام لگایا ۔ (واہ۔۔ قرآن کی آیات سے انبیائے کرام کے جو غلط گمان دکھائے ہیں اس پر کیا رائے دیں گے؟)

پہلی بات تو یہ ہے کہ روای اور مجتھد میں فرق ہوتا ہے،  مجتھد اپنے پاس موجود ادلہ کے ذریعے سے احکام کو کشف کرتا ہے،  ممکن ہے کہ یہاں پر وہ استنباط میں خطا کریں،  لیکن ایک راوی کسی واقعے کی خبر  دیتا ہے یا خود واقعے کا شاہد ہے یا اس سے خبر دے رہا ہے جو اس واقعے کا شاہد ہے،  یہاں پر راوی اگر اپنی طرف سے کسی چیز کو کم یا زیادہ کرے تو اسے جھوٹا کہا جاتا ہے نہ مخطی ۔ (ادراج ایک اصطلاح ہے۔ اس پر تحقیق کریں)

اور جہاں تک انبیاء کرام کی بات ہے تو  وہ وحی الہی سے مرتبط ہیں،  ان کی شان اس سے اجل ہے کہ وہ ظنون پر عمل کریں،  جبکہ قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ : إن الظن لا يغني من الحق شيئا "

(گمان بذات خود خطا نہیں ہے۔ اوپر تفصیل اور مثالیں موجود ہیں۔)

جناب ممتاز صاحب آپ بار بار کہتے ہیں کہ  دوسروں نے ناراضگی کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال وہاں پر پیش آتا ہے جب کسی بات کو بیان کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو،  جبکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بات حکومت وقت کے خلاف ہے لہذا اس کو عام لوگ ذکر نہ کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔(کمزور تاویل،  کسی حکومت کے کنٹرول میں پوری عوام  نہیں ہوسکتی، ناممکن اور غیر منطقی بات ہے۔)

  انشاءاللہ ان سوالات کا اگر کوئی قانع کنندہ جواب موصول ہوا تو باقی سوالات بھی پوچھیں گے ۔

سید رضوان یوسف:

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔اسلام و علیکم سب بھائیوں کو ۔یہ جو مناظرہ  شیعہ برادر اور سنی برادر کے درمیان ہوا جسکا عنوان جناب فاطمہ زہرا سلام اللّٰہ علیہا کا حق فدک تھا ۔اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ جو ہمارے شیعہ مناظر محمد دلشاد ہیں انہوں نے جو دعویٰ لکھا اس میں پوائینٹس ( الف ، ب، پ) کے حساب سے موضوع کو تقسیم کیا گیا تاکہ گفتگو آرام سے اور مدلل ہو تو اس پر شیعہ مناظر کی طرف سے ( الف ) پر گفتگو شروع ہوئی جس پر شیعہ مناظر نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللّٰہ علیہا کا اپنے حق کے لئے جانا اور حق نہ ملنے پر شیخین سے ناراض ہو جانا اور ایسے ہی وفات پا جانا ان روایات کا کتب اہل سنت میں صحیح سند موجود ہونا  ہاں یا ناں میں جواب طلب کیا اور اس روایت پر گفتگو کا کہا لیکن اہل سنت مناظر  نے شروع سے ہی موضوع کو خراب کرنے اور اپنی عوام کو حق سے دور رکھنے کے لئے سارے پوائنٹس ( الف ، ب، پ) کو یک دم ہی موضوع بحث لانا شروع کیا اور گفتگو کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی یہ جانے یا انجانے میں تھا چلو لیکن جہاں تک ہم نے دیکھا کہ اہل سنت مناظرہ ممتاز قریشی صاحب کو بیک اپ پر سپورٹ کرنے والے کچھ کم فہم اور دین سے نا شناس اور اہل بیت علیہم السلام کی عظمت و رفعت سے نا واقف اور اس کے علاوہ وہ اپنی ہی کتب اہل سنت سے بھی واقف نہیں دکھائی دیئے اس پر اور ان بیک اپ والوں کی کم علمی دیکھیں کہ ممتاز قریشی صاحب کو لائن سے اتارنے اور اپنے لوگوں کو دجل وفریب سے شیعہ موقف سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئیں۔ (شیعہ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔ مجھے کسی نے پرسنل میں کوئی اسکین نہیں بھیجا اور نہ کوئی دلیل  یا تحریر وغیرہ بھیج کر مدد کی البتہ ایک گروپ سے ایک اسکین  اور اس کی وضاحت اور چند آیات قرآنی کو کاپی ضرور کیا ، اور ظاہر ہے یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ باقی تمام دلائل، اسکینز اور جوابات میرے اپنے ہیں اور مختلف کتب کی مدد سے تیار کئے گئے ہیں۔الحمدلللہ)

اور شیعہ کتب سے عورتوں کی وراثت اور علماء کی وراثت پر روایات لگائیں جنکا ان اہل سنت کو خود بھی نہیں پتہ کہ ان روایات سے یہاں استدلال کرنا ہی نہیں بنتا وہ اس موضوع سے ہی ربط نہیں ان روایات کا جواب بھی شیعہ مناظر محمد دلشاد نے بہت خوب طریقے سے دیا اور علماء تشیع کا ان روایات کو باب علم و باب زواج میں آنا اور ان روایات کا مطلب سمجھایا اور شیعہ مناظر نے اپنے موقف کا دفاع اچھے سے کیا ۔(اگر یہ دفاع اچھا ہوتا ہے تو برا دفاع کیا ہوتا ہے؟ شیعہ مناظر نے وہ عبارات کہاں دکھائیں جن کے اسکینز وہ پیش کرتے رہے؟ بلکہ چند صفحات آگے روشنی کا کہا لیکن اندھیرے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اب اتنا ظلم تو نہ کریں۔ حمایت کریں غلو نہ کریں۔)

اہل سنت مناظر کو بار بار سمجھایا کہ جوابات کو پڑھیں پھر جواب دیں جو پوائنٹ ( الف) کے مطابق ہوں ان پر آئیں لیکن بات وہیں رہی سنی مناظر کو آخر تک سمجھ نہیں آئی وہ کن پوائنٹس پر گفتگو کر رہے ہیں یا شائد جان بوجھ کر وہ اس گفتگو کو خراب کر رہے تھے ۔(آپ کو پتہ ہے کہ الف میں نکات کونسے تھے؟ دوبارہ مناظرہ پڑھ لیں)

صفحہ 2 از 3