Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ورع و پرہیز گاری

  علی محمد الصلابی

احنفؒ انتہائی ایمانی قوت کے مالک اور پرہیز گار مؤمن انسان تھے۔ جیسے ہی اسلام کی دعوت آپ کو پہنچی آپ نے قبول اسلام میں جلدی کی اور آپ کے اشارے پر آپ کی پوری قوم نے اسلام قبول کر لیا۔

(شذرات الذہب فی اخبار من ذہب، ابو الفلاح عبدالحی: جلد، 1 صفحہ، 78)

آپ نے داعیانِ حق کی بھرپور حمایت کی۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 314)

رسول کریمﷺ‏ کی وفات کے بعد اکثر عرب اور آپ کی قوم کے لوگ جب ارتداد کا شکار ہوئے تو آپ اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہے، اور عقیدۂ برحق کے دفاع اور اس کی نشر و اشاعت میں ڈٹ کر جہاد کیا، اور اس راہ میں خوب شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ حسن بصری رحمۃاللہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: میں نے کسی قوم کے شریف کو آپ سے افضل نہیں دیکھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 331)

احنفؒ کا بیان ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے مدینہ میں ایک سال تک اپنے پاس رکھا، ہر شب و روز میرے پاس تشریف لاتے، اور آپؓ کو مجھ سے وہی چیز ملتی جو آپؓ کو محبوب ہوتی۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 314)

جب فاروقی امتحان میں احنف رضی اللہ عنہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے، یہ امتحان کس قدر سخت رہا ہو گا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ امیرِ بصرہ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام خطوط ارسال کیے اور امیرِ بصرہ کے نام لکھا کہ ’’احنف اہلِ بصرہ کا سردار ہے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 314) 

اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تحریر فرمایا: تم احنف کو اپنا مشیر بنا لو اور ان کے مشورہ کو سنو۔

(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 12)

ایک سال تک بطورِ امتحان آپ کو اپنے پاس رکھنے کے بعد فرمایا: اے احنفؒ میں نے تمہیں آزمایا، اور تمہارا امتحان لیا، لیکن میں نے تم سے خیر ہی پائی، تمہارے ظاہر کو اچھا دیکھا، اور امید ہے کہ تمہارا باطن بھی تمہارے ظاہر کی طرح اچھا ہو گا۔

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 7 صفحہ، 94)

سیدنا احنفؒ انتہائی صالح شخص تھے راتوں کو قیام فرماتے چراغ جلاتے اور صبح تک نماز پڑھتے رہتے اور روتے رہتے۔ چراغ کی لو میں اپنا ہاتھ دے کر فرماتے جب تم چراغ کی سوزش کو برداشت نہیں کر سکتے تو بھلا جہنم کی سوزش کو کیسے برداشت کرو گے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 331)

آپ سے کہا گیا: آپ کثرت سے روزہ رکھتے ہیں اور یہ معدہ کو کمزور کر دے گا۔ آپ نے فرمایا: میں اسے ایک طویل سفر کے لیے تیار کر رہا ہوں۔

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 7 صفحہ، 94 قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 315)

آپ کو خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا، جب آپ فارس پہنچے تو ایک رات جنابت لاحق ہو گئی اور کڑاکے کی سردی تھی، آپ نے اپنے خادموں اور لشکر کے لوگوں میں سے کسی کو بیدار نہیں کیا، خود پانی کی تلاش میں نکل پڑے، خار دار جھاڑیوں سے گزرنے کی وجہ سے پیر زخمی ہو گئے، خون بہنے لگا آخر میں برف ملی اس کو توڑا اور پھر اسی سے غسل فرمایا۔

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 7 صفحہ، 94)

آپ بار بار قرآن کو طلب کرتے تاکہ اس کی تلاوت فرمائیں اور سلف صالحین کی عادت تھی کہ وہ قرآن کی ناظرہ تلاوت فرماتے تھے۔

(طبقات ابنِ سعد: جلد، 7 صفحہ، 95)

آپ کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی:

اللهم ان تغفر لی فانت اھل ذاک و ان تعذبنی فانا اھل ذاک 

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 315 احنف کی سیرت بعض دوسرے مراجع کی طرف رجوع کرنے کے ساتھ اسی کتاب سے تلخیص کی ہے۔)

ترجمہ: اے اللہ اگر تو مجھے بخش دے تو تو اس کا اہل ہے اور اگر تو مجھے عذاب میں مبتلا کر تو میں اس کا اہل ہوں۔

اسی طرح یہ دعا بھی آپ کی دعاؤں میں سے ہے:

اللهم ھب لی یقینا تھون بہ علی مصیبات الدنیا 

(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 16)

ترجمہ: اے اللہ! مجھے ایسا یقین عطا کر جس کی وجہ سے دنیا کی مصیبتیں مجھ پر آسان ہو جائیں۔

ایک مرتبہ آپ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے آج جیسے دن کے لیے اپنے نفس کو تھکا دیا۔

(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 16) 

آپ کہا کرتے تھے کہ مجھے تعجب ہے کہ انسان کیسے تکبر کرتا ہے جب کہ پیشاب کے راستے سے اس کا گزر دو مرتبہ ہوتا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 331)

یہ احنفؒ کی شخصیت کی بعض صفات ہیں جس کے ذریعہ سے انہوں نے لوگوں کا اعتماد و محبت اور احترام و تعظیم حاصل کی۔ جو ان صفات کا حامل ہو وہ قوی و بااثر شخصیت ہوتی ہے جو ہر زمان و مکان میں نادر الوجود رہی ہے۔ زمانے میں نادر لوگ ہی ایسی شخصیت کے مالک ہیں۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 316)

احنفؒ دورِ عثمانی کی فتوحات کے قائدین میں سے ہیں، صحیح اور مناسب منصوبہ تیار کرنے اور بر وقت درست قرار داد پاس کرنے کے اعتبار سے مشرقی محاذ کی فتوحات میں اسلامی لشکر کی قیادت کرنے والوں میں آپ کی شخصیت ممتاز رہی ہے، اور ان قرار دادوں اور منصوبوں کو بروئے کار لانے میں آپ کی شخصی شجاعت و پیش قدمی کا بڑا اثر رہا ہے۔ عسکری منصوبہ تیار کرنے اور ہر ذی رائے کو اس کا حق دینے میں پوری کوشش صرف کرتے بلکہ راتوں کو خفیہ طور سے اپنے لشکر کے درمیان چکر لگاتے، ان کی باتیں سنتے اور جب بھی ان کی آپس میں گفتگو میں کوئی اچھی رائے پاتے تو اس کو نافذ کرنے میں جلدی فرماتے، آپ کو اس کی پروا نہ ہوتی کہ حکمت کی باتیں کہاں سے لے رہے ہیں۔ عہدِ عثمانی کا یہ جرنیل، دشمن سے ایک ساتھ اپنی تلوار و عقل سے قتال کرتا تھا، آپ شجاعت و پیش قدمی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، خطرناک مواقع پر خود آگے بڑھتے اپنے جرنیلوں کو راحت و امان میں رکھتے، آپ انتہائی ہوشیار و زیرک تھے، اپنی ہوشیاری اور زیرکی سے اپنی فوج کو بہت سی مشقتوں اور پریشانیوں سے بچا لیتے تھے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 320)

آپؒ اپنی شخصیت میں تنہا ایک امت تھے، آپ اہلِ مشرق کے سردار تھے، جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے۔

(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 322)