قبرص کی جنگ
علی محمد الصلابیسیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے غازیوں کے لیے کشتیاں تیار کیں اور عکا کی بندرگاہ کو روانگی کے لیے منتخب فرمایا، کشتیاں بڑی تعداد میں تھیں، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ اپنی بیوی سیدہ فاختہ بنتِ قرظہ کو بھی لیا، اسی طرح سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سیدہ اُمِ حرام بنتِ ملحان رضی اللہ عنہا کو اس غزوہ میں اپنے ساتھ رکھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 159)
حضرت اُمِ حرام رضی اللہ عنہا ہی وہ خاتون ہیں جن کا واقعہ مشہور ہے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سیدہ اُمِ حرامؓ کے گھر تشریف لے جاتے وہ آپﷺ کے لیے کھانا پیش فرماتیں، یہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں، ایک روز آپﷺ ان کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے آپﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر بیٹھ کر آپﷺ کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں، اور آپﷺ سو گئے۔ پھر آپﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ عرض کیا: یا رسول اللہﷺ آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟
ارشاد فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جو سمندر کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت شاہی پر ہوتے ہیں۔ حضرت اُمِ حرامؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ آپ دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہی میں سے کر دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر آپﷺ اپنا سر رکھ کر سو گئے، اس مرتبہ بھی آپﷺ جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! کس بات پر آپﷺ ہنس رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کیے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے تھے۔ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی فرمایا: سیدہ اُمِ حرامؓ کہتی ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجیے کہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم پہلی فوج میں شامل ہو گی، چنانچہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے زمانہ میں حضرت اُمِ حرامؓ نے بحری جنگ میں شرکت کی اور پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنی سواری سے گر کر وفات پا گئیں۔
(صحیح البخاری: حدیث، 2788، 2789)
باوجود یہ کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے جبراً کسی کو اس مہم میں شامل نہ کیا لیکن لوگوں نے اپنی رضا و رغبت سے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور ایک عظیم فوج آپؓ کے ساتھ روانہ ہوئی۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، د۔ محدم السند الوکیل: صفحہ، 356)
جو اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں دنیا کی کوئی حیثیت نہ تھی، باوجود یہ کہ دنیا کے دروازے ان پر کھل چکے تھے، اس کی نعمتیں ان کو حاصل تھیں لیکن انہوں نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی۔
مسلمانوں کی تربیت اس فکر و عقیدہ پر ہوتی تھی کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اللہ نے انہیں اپنے دین کی نصرت، اقامتِ عدل، فضائل و مکارم کی نشر و اشاعت اور اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ ذمہ داری ان کا حقیقی مشن ہے، اللہ کی راہ میں جہاد اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگر انہوں نے اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کی اور اپنے فرائض کی ادائیگی سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں ان سے اپنی مدد روک لے گا اور آخرت میں اپنی رضا سے محروم کر دے گا، اور یہ سب سے بڑا خسران و گھاٹا ہو گا۔ اسی لیے وہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے تابی کے ساتھ نکل پڑے، اور کشتیوں پر سوار ہونے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگے، شاید سیدہ اُمِ احرام رضی اللہ عنہا کی حدیث ان کے دل و دماغ میں گھر کیے ہوئے تھی، جس نے انہیں اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا اور رسول اللہﷺ کی حدیث سچ ثابت ہوئی۔ یہ واقعہ موسم سرما کے اختتام کے بعد 28ھ مطابق 649ء میں پیش آیا۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر خلفاء الراشدین: دیکھیے۔ محمد السند الوکیل: صفحہ، 356)
مسلمان شام سے روانہ ہوئے اور عکا کی بندرگاہ سے سوار ہو کر قبرص کا رخ کیا، اور وہاں پہنچ کر مسلمان ساحل پر اترے، سیدہ اُمِ حرامؓ آگے بڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہونے لگیں، اسی اثنا میں سواری بدک گئی اور حضرت اُمِ حرام رضی اللہ عنہا زمین پر گر پڑیں، ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وفات پا گئیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 159 لیکن البدایہ والنہایہ کی عبارت اس کے خلاف ہے، جس کا ماحصل یہ ہے کہ فتح قبرص کے بعد جب وہاں سے واپسی ہونے لگی تو حضرت اُمِ حرامؓ کے لیے خچر لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہو جائیں، آپ اس سے گر پڑیں اور گردن ٹوٹ گئی، پھر وفات پا گئیں، وہیں ان کی قبر ہے۔ یہاں مصنف کی عبارت اور البدایہ والنہایہ کے بیان کے مطابق سیدہ اُمِ حرامؓ کی وفات قبرص ہی میں ہوئی اور ان کو وہیں دفن کر دیا گیا، لیکن صحیح بخاری کی روایت اس کے خلاف ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: فلما انصرفوا من غزوتھم قافلین فنزلوا الشام فقربت الیھا دابۃ لترکبھا فصرعت فماتت۔ (صحیح البخاری: حدیث نمبر، 2799، 2800) جب قبرص کی جنگی مہم سے واپس ہوئے اور شام کے ساحل پر اترے تو سیدہ اُمِ حرامؓ کے لیے سواری پیش کی گئی وہ اس سے گر کر وفات پا گئیں۔ اس روایت سے واضح ہے کہ سیدہ اُمِ حرامؓ کی وفات شام کے ساحل پر پہنچ کر ہوئی تھی، پس ایسی صورت میں قبرص کے بجائے شام میں آپ مدفون ہوئیں، چنانچہ حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس حالت میں دلیل ہے کہ ثواب کے اعتبار سے جہاد سے لوٹنے والا جہاد میں جانے والے کے حکم میں ہے۔ (الفتح: جلد، 6 صفحہ، 73 (مترجم)
سیدہ اُمِ حرام رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد جزیرہ قبرص میں مسلمانوں نے ان قربانیوں کا ایک نشان چھوڑا جو انہوں نے دین کی نشر و اشاعت کے لیے پیش کیں، آپ کی قبر وہاں نیک خاتون کی قبر سے معروف ہوئی۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 357)
سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک اجتماع کیا جن میں سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری، سیدنا ابودرداء،سیدنا ابوذر غفاری، سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا واثلہ بن اسقع، سیدنا عبداللہ بن بشر مازنی، سیدنا شداد بن اوس بن ثابت، سیدنا مقداد بن اسود، سیدنا کعب الاحبار بن ماتع اور سیدنا جبیر بن نفیر حضرمی رضی اللہ عنہم شامل تھے۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 357)
ان حضرات نے آپس میں مشورہ کیا اور اہلِ قبرص کو یہ پیغام بھیجا کہ اس جنگی مہم سے قبرص پر قبضہ کرنا ان کا مقصد نہیں، بلکہ انہیں اللہ کے دین کی طرف دعوت دینا اور شام میں اسلامی حدود کا تحفظ مقصود ہے۔ (ایضاً) کیوں کہ بیزنطینی شام پر حملہ آور ہونے کے لیے قبرص کو جنگی اسٹیشن کے طور پر استعمال کرتے تھے، یہاں آرام کرتے اور وہاں سے رسد حاصل کرتے تھے۔ اس اعتبار سے یہ شام کے لیے خطرہ بنا ہوا تھا، اس کا اسی حالت میں باقی رہنا شام کے لیے خطرہ تھا، اگر مسلمان اس جزیرہ کو تابع کر کے اطمینان کی سانس نہ لیتے تو یہ ان کی پشت پر خنجر کی طرح باقی ہوتا اور اسلامی حدود کے لیے خطرہ بنا رہتا، لیکن قبرص والوں نے مجاہدین کے سامنے خود سپردگی نہ کی بلکہ اپنے صدر مقام میں قلعہ بند ہو گئے، مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے نہ نکلے بلکہ رومیوں کے انتظار میں رہے تاکہ وہ ان کے وفاع کے لیے پہنچیں اور مسلمانوں کے حملہ کو روکیں۔ (ایضاً)