شیعہ مناظر دلشاد کی طرف سےاہلسنت ممبرز کو دئے…

شیعہ مناظر دلشاد کی طرف سےاہلسنت ممبرز کو دئے گئے جوابات(قسط 41)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

کیا شیعہ عورت کے لئے زمین سے وراثت کے قائل ہیں ؟ پہلی بات ہماری بحث آپ سے اس میں ہے کہ جناب فاطمہ نے حقوق کا مطالبہ کیا اب اس میں زمین بھی ہے اور دوسرے امول بھی   لہٰذا یہ ایک انحرافی سوال ہے ۔ دوسری ہماری آپ لوگوں سے بحث بیٹی کی وراثت میں ہے ۔ شیعہ مسلمات میں سے ہے کہ بیٹی کو باب کے ماترک اور میراث سے سب کچھ ارث میں ملتی ہے چاہئے زمین ہو یا ۔ (دلیل؟؟) اگر کوئی اس حقیقت سے جاہل ہے تو وہ پھر اپنی جہالت کا علاج کرائے ۔ اصول کافی میں میراث نساء کے باب میں بعض احادیث کا جواب ۔ یہ صرف زوجہ کی میراث کی بحث ہے جیساکہ اسی باب میں زوجہ کئی جگہوں پر استعمال ہوا ہے لیکن کہیں ام ، اخت ، بنت کے الفاظ نہیں ہیں۔ (شیعہ علماء کی تصریح؟؟) شیعوں کے ہاں اس سلسلے میں قرآن اطلاق کے خلاف بعض روایات موجود ہیں کہ جو زوجہ کو زمین وراثت سے منع کرتی ہیں اور شیعہ فقہاء کے درمیان بھی یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ۔ (دلیل؟؟ کسی ایک فقیہ کا قول؟؟) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بیٹی کو بھی زمین کی وراثت نہ ملنے کا شیعوں کا کوئی نظریہ ہو   ہر گز ایسا نہیں ہے ۔(دلیل؟؟)   لہذا اولا اس کا ہماری بحث سے کوئی تعلق نہیں اور اگر اس قسم کی احادیث کا شیعہ کتب میں ہونے سے شیعوں پر اعتراض ہوتا ہے تو شیعہ بھی تو یہی نحن لا نورث والی حدیث کو قرآن کے خلاف مانتے ہیں قرآن نے بیٹی کو وراثت کا حکم دیا ہے یہ روایت اس قرآنی حکم کے خلاف ہے۔ قرآن نے انبیاء کی وراثت کا واضح حکم دیا ہے اورابن عباس اور  اہل سنت     کے بڑے بڑے مفسرین نے قرآن میں انبیاء کی مالی وراثت کے حکم کا اعتراف کیا ہے {جس کی سند میں پیش کرچکا ہوں }   اب یہ حدیث اس واضح قرآنی حکم کے خلاف ہے ۔(شیعہ مجتہدین نے خلاف قرآن حدیث کی توثیق کیسے کردی؟) اسی طرح اہل سنت کے ہاں بہت سی ایسی روایتیں ہیں کہ جو واضح قرآنی حکم کے خلاف ہیں  تو کیا اس سے ہم وہی سوال اور اعتراض اہل سنت سے کرنے کا حق رکھتے ہیں ؟  انصاف پسندی سے کام لیا کرو  اپنی جہالت کو علم کا درجہ مت دو ۔  (کوئی ایک مثال۔ روایت قرآن کے خلاف اور صحیح روایت بھی ہو؟)

اب فدک کے سلسلے میں سوالات کا جواب:پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری بحث اس میں ہے کہ جناب فاطمہ نے فدک سمیت اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اور پھر۔۔۔لہٰذا  فدک کے بارے میں خصوصی روایات ہو ں یا نہ ہوں اس سے ہماری اصلی بحث کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔ اصل یہ دکھانا ہے کہ خلفاء اور اہل بیت کا موقف کیا تھا اور شیعہ کس موقف کی حمایت کرتے ہیں اور اھل سنت والے کس موقف کی حمایت کرتے ہیں   لیکن پھر بھی وضاحت کی خاطر ۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ فدک کو رسول اللہ ص نے اپنی زندگی میں جناب فاطمہ س کو دیا تھا ۔ شیعہ کتب میں تو یہ مسئلہ کلیئر ہے ۔(ہبہ فدک اہل تشیع روایات: مناظرے کا چیلینج ہے)  اب ہم جب اہل سنت کی کتابوں سے اس پر دلیل پیش کرتے ہیں تو ہمارے پاس دو قسم کے دلائل ہیں  الف ۔اصحاب سے منقول احادیث : اب ان کی سند میں اگر بعض بحث کرتے ہیں تو بہر حال ان کی سند شعبی والی روایت سے قوی ہے اور اہل سنت کے علماء کے بنائے ہوئے قواعد کی روشنی میں ہم اس کو اہل سنت کے حجت کے طور پر پیش کرسکتے ہیں ۔

 ب ۔ جناب فاطمہ س کی طرف سے فدک کو عطاء رسول اللہ ص کے عنوان سے مطالبہ : جیساکہ اس سلسلے میں بھی بہت سے اسناد طرفین کی کتابوں میں موجود ہیں   لہٰذا صرف ان کی طرف سے اس عنوان سے مطالبہ ہی اس کی دلیل ہے  کیونکہ صداقت کے پیکر سے صداقت کی دلیل کا مطالبہ ہی  صحیح نہیں ہے ۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلامی دنیا کی خاتون اول اور سب سے بافضیلت خاتون ،جنت کی عورتوں کی سردار ، کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرے جو ان کا نہیں ہے اور ایسی چیز کا ادعا کرئے جس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو ؟؟؟(اہلسنت بھی یہ نہیں کہتے۔ سیدہ کا مطالبہ حق بجانب تھا، لیکن اس کے سامنے فیصلہ خود نبیﷺ کا تھا)

 فیصلہ ضمیر کا  ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ۔(نبیﷺ کے فیصلے کے آگے شیعہ کے ضمیر کی کوئی اہمیت نہیں)

  باقی ناراضگی الفاظ،چہرے  والا سوال،کیا جناب فاطمہ اپنے والد کے کے فیصلے پر...استغفار۔راوی کا گمان حجت ہے یا نہیں؟ اس قسم کے سوالات کا جواب دے چکا ہوں۔باقی یہ کہنا کہ شیعہ نعوذباللہ جناب فاطمہ ع کو لالچی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔نہیں جناب حق کا مطالبہ کرنے کو لالچ نہیں کہا جاتا یہ جناب فاطمہ ع کی تاریخ ساز ذمہ داری تھی جو آپ ادا کررہی تھیں (اہلسنت بھی یہی سمجھتے ہیں ،لیکن شیعہ مؤقف کے مطابق فدک نہ ملنے پر سیدہ شدید ناراض ہوگئیں یہ کیسے ممکن ہے جبکہ بیٹی کی خدمت میں فیصلہ والد نبیﷺ کا پیش کیا گیا تھا)

آپ لوگ ممتاز کی طرح جناب فاطمہ ع کا ایک عام خاتون کی سطح سے نیچے لاکر یہ نہ کہیں  تو اچھا ہے کہ حق واضح ہونے اور بابا کا فیصلہ سن کر بھی آپ ناراض ہوگئیں  اور بعد میں جناب خلیفہ نے پھر بھی انہیں راضی کیا۔ (سنی مناظر  اگر شیعوں کی طرح سیدہ کا شدید ناراض ہونا  تسلیم کرتے تو یہ الزام درست ہوتا، یہ الزام تو شیعوں پر عائد ہوتا ہے کہ معاذاللہ سیدہ کو عام عورت کی طرح سمجھ کر شدید ناراض ہونا مانتے ہیں! اہل سنت تو دوٹوک اس کا انکا کرتے ہیں)

  باقی شیعہ حضرات میں سے دس بندوں کو صرف موقف پیش کرنے کی اجازت دیں گے....گروپ کل کی طرح کھول کر نہیں رکھیں گے۔ انشاء اللہ

  دس اھل تشیع والوں کو اظہار نظر کرنے کے لیے ایڈمن بنا رہا ہوں۔اھل تشیع کے کوئی دوست اگر اظہار نظر کرنا چاہے تو رابطہ کرنا۔لیکن دورانیہ اج ایک گھنٹے کا ہوگا۔انشاء اللہ بعد میں مناسب وقت پر گروپ کھول دیں گے۔


صفحہ 2 از 2