Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ مناظر کا  آخری جواب (قسط 38)

  جعفر صادق

شیعہ مناظر کا  آخری جواب (قسط 38)


دوران مناظرہ سنی مناظر نے دو چارٹ پیش کئے تھے۔ایک چارٹ میں فدک کے متعلق تمام معتبر کتب میں موجود صحیح روایات کی تعداد واضح دکھائی گئی ہے اور دوسرے چارٹ میں صرف صحیح بخاری میں موجود پانچ طرق دکھائے گئے تھے۔حیرت کی بات ہے شیعہ مناظر کو پانچ کی بجائے چار روایات فدک پر ملی ہیں۔ اس کے علاوہ باقی کتب میں موجود صحیح روایات شاید ان کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ صحیح بخاری میں صرف وہی ایک طرق میں صرف اسی گمان پر شیعہ ایمان رکھتے ہیں جن کا رد نہ صرف اہل سنت بلکہ شیعہ کتب سے بھی ہوجاتاہے! جسے جو ملے یہ سب نصیب کی بات ہے۔


شیعہ مناظر: دیکھا بخاری کے جدول  کا آپریشن ہوا  تو ڈاکٹر صاحب نے پھر رویہ بدلا۔میں نے کل آدھے گھنٹے میں یہ تحقیق کی لیکن ڈاکٹر صاحب کو کسی نے جدول بنا کر دیا ہوا ہے،جب میں نے آپریشن کیا تو ڈاکٹر صاحب حسب عادت لفاظی اور خطابت کرنے لگا۔جناب۔ بخاری میں حضرت فاطمہ ع اور خلیفہ کے درمیان کا معاملہ چار جگہوں پر ذکر ہے۔3 میں ناراضگی کا ذکر ہے ایک میں جناب فاطمہ ع کے رد عمل کا تذکرہ نہیں یعنی ناقص طور پر واقعہ ذکر ہوا ہے لیکن پھر بھی اس میں خلیفہ کے استدلال کے بعد جناب فاطمہ ع کی طرف سے مطالبہ جاری رکھنے کا ذکر پھر بھی موجود ہے لہذا اس میں موجود چار کے چار روایات میرے موقف کے حق میں ہیں۔

 

جی آپ کے امام بخاری نے باقی طرق اور اسناد کو چھوڑ کر آپ کے برخلاف ایسے طرق کا انتخاب  کیوں کیا ؟ اور جو طرق آپ کے بقول زیادہ اہم ہیں ان کا انتخاب کیوں نہیں کیا۔پس آپ کا وہ جدول  مغالطہ آمیز ہے،جھوٹ اور سچ کو ملا کر پیش کیا ہے لہٰذا امام بخاری کے انتخاب کو قبول نہ کریں  آپ کی مرضی ،اب جب اس واقعے کو ذکر کرنے کے اعتبار سے اپ نے جو تحقیقی تحریر پیش کی تھی اس کی حالت بھی واضح ہے۔


اہل تشیع کے علماء کا یہ حال ہے تو عام شیعوں کا کیا قصور! کیا امام بخاری نے یہ دعوی کیا ہے کہ اس نے تمام صحیح روایات کو اپنی کتاب میں شامل کیا ہے اور اس کے علاوہ باقی طرق اور باقی کتب میں صحیح روایات نہیں ہوسکتیں؟ عقل نہ ہو تو موجاں ہی موجاں!!

 سنی مناظر کا جدول اگر غلط ہے تو اسے ثابت کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ شیعہ مناظر دلشاد پورے مناظرے میں صرف اپنی کہانیاں سناتا رہا اور علمائے اہل سنت کے اقوالات سے اپنی مطلب کی عبارتیں پیش کرتا رہا!! 


سچ اور جھوٹ کا مجموعہ اور مغالطہ،دھوکہ بازی۔

 یہ ایک حقیقت ہے اہل سنت کا موقف ایک مرسل اور مدلس کی روایت پر کھڑا ہے۔آپ کے بڑے بڑے علماء نے ناراضگی کو اسی زہری کی روایت سے ثابت کیا ہے یعنی صحیح سند روایت سے اور پھر رضایت کو ثابت کرنے کے لیے ایک مدلس کی ایسی روایت کا سہارا لیتے ہیں کو مرسل ہے اور پھر شعبی کے مرسل کو بھی ابن حجر,ذھبی البانی حجت نہیں مانتے ۔لہذا جو شاخ نازک پر اشیانہ بنائے۔کہاں ہے یقینی شواہد؟  لفاظی اور خطابت سے کام نہیں چلے گا ڈاکٹر صاحب۔اپنے موقف سے غبار ہٹاؤ، سیدہ کیوں ناراض اور رنجیدہ ہوئی تھیں۔کب رنجیدہ ہوئی تھیں ،یہ رنجیدہ ہونے کیسے ثابت ہوا،ناراضگی چہرے اور الفاظ سے معلوم ہوگا ہے،کس نے دیکھا کس نے سنا؟ ان تینوں کو واضح کرے۔واضح جواب دو۔رنجیدہ کیوں ہوئی تھی۔کیوں آخری عمر میں یعنی چھے ماہ بعد راضی کرنے کی ضرورت پیش آئی؟آپکی نظر اور خلفاء کی نظر میں اختلاف کیوں ہے۔کیا یہ کہنا چاہتے ہو کہ جناب فاطمہ کو حق واضح ہونے اور اپنے والد محترم کے فیصلے کو سن کر آپ رنجیدہ ہوئی ،

غضبناک  ہوئیں، ناراض ہوئیں؟

خلیفہ کی طرف سے حدیث سے استدلال کو سننے کے بعد اس حکم کو قبول کرنے کے بعد آپ پر حق واضح ہونے کے بعد آپ ناراض ہوئیں رنجیدہ ہوئیں؟ 


قارئین! شیعہ مناظر کی غلیظ سوچ ملاحظہ فرمائیں!خود ہی اپنے جملے سنی مناظر کی طرف منسوب کر کے خود ہی نتیجہ نکالتے ہوئے  کہہ رہا ہے کہ سنی مناظر سیدہ فاطمہ کی شان میں توہین کر رہا ہے۔ شیعوں کی رگوں میں یہ خباثت رچی بسی ہوئی ہے کہ جب علمی میدان میں شکست کھاتے ہیں تو پھر اس طرح کی اوچھی حرکتیں شروع کردیتے کرتے ہیں!

!اللہ کی پناہ! کوئی خوف خدا تک نہیں ہے!


 ڈاکٹر صاحب اپنے باطل گمان اور نظریے کو ثابت کرنے کے لیے اس خاتون کی شان میں توہین کرتے ہو جو جنت کی تمام عورتوں کی سردار اور  سب سے افضل ہیں؟ ڈاکٹر صاحب اس طرح کہنا تو ایک عام مسلمان خاتون کے لیے بھی مناسب نہیں۔ڈاکٹر صاحب شرم کی بات ہے۔خاتون جنت کو ایک عام اور معمولی عورت سے نیچے دکھانے کے چکر میں ہو!

 

سنی مناظر پر لگائے گئے اس سنگین الزام کا اسکرین شاٹ اگلے پیج پر دیکھیں۔

شیعہ مناظر:  اپ سے پوچھا تھا ،امام زہری کو گمان کیسے ہوا۔وہ تو عینی شاید نہیں تھا۔کسی سے کچھ سنے بغیر اس نے اتنی بڑی بات کو حدیث کا حصہ بنایا ہے۔کیا یہ کہانی سنانی والا کوئی انسان تھا۔کیا یہ اتنا غیر ذمہ دار آدمی تھا کہ اپنی طرف سے اس نے ایک جھوٹی بات کو حدیث کا حصہ بنایا اور خلفاء پر طعن کے دروازے کھول  یا ؟


قارئین ! یہ بھی  پڑھیں۔ سنی مناظر نے پورے مناظرے میں سیدہ فاطمہ کی شان میں کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ان کی عظمت و شان میں ذرا برابر بھی حرف آئے۔ شیعہ مناظر دلشاد دراصل اپنے بغض میں اندھا اور شکست کے غم میں عقل کھو بیٹھا ہے۔ اسے یہ تک احساس نہیں ہو رہا کہ وہ کتنے سنگین الزام سنی مناظر پر لگا رہا ہے۔ایسے الزام جو وہ ثابت بھی نہیں کر سکتا!


   جانتے ہو کس فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں یہ بکواس کہہ رہے ہو۔

 

جنت کی عورتوں کی سردار

اہل سنت کی کتابوں میں واضح طور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اس فضیلت کا ذکر ہے، آپ کی یہی فضیلت صحیح بخاری میں موجود ہے اور یہ کتاب بی اہل سنت کے نذدیک قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب ہے۔

فَقَالَ «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِى سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ»

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : «کیا آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ جنت کی عورتوں کی یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہو ؟

»البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 3، ص 1326، ح3426، كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ في الْإِسْلَامِ، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جناب خدیجہ اور عائشہ سے زیادہ  بافضیلت

بدر الدين عينى نے صحيح بخارى کی شرح میں اہل سنت کے نذدیک جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ، جناب خدیجہ اور عائشہ پر برتری کے بارے میں لکھتا ہے۔

أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة، قال الكرماني: فهي أفضل من خديجة وعائشة، رضي الله تعالى عنهما.

یقینا فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ، کرمانی نے کہا ہے : اس حدیث کے مطابق حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جناب خدیجہ اور جناب عائشہ سے برتر ہے ۔

العيني، بدر الدين أبو محمد محمود بن أحمد الغيتابى الحنفى (متوفاي 855هـ)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 16، ص 154، ناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت

 ملا علي هروى نے بھی اس سلسلے میں لکھا ہے :

وقال الحافظ ابن حجر: فاطمة أفضل من خديجة وعائشة بالإجماع، ثم خديجة ثم عائشة.

حافظ ابن حجر نے کہا ہے : فاطمہ سلام اللہ علیہا، خديجه اور عائشه سے افضل ہیں ان کے بعد خدیجہ ہے اور خدیجہ کے بعد عائشہ افضل ہے۔

القاري، علي بن سلطان محمد الهروي، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 10، ص 403، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.

 قاضي عبد النبى حنفى لکھتا ہے

:وقال الإمام علم الدين العراقي رحمه الله إن فاطمة وأخاها إبراهيم أفضل من الخلفاء الأربعة بالاتفاق.

وقال الإمام مالك رضي الله عنه ما أفضل على بضعة النبي أحدا.

وقال الشيخ ابن حجر العسقلاني رحمه الله فاطمة أفضل من خديجة وعائشة بالإجماع ثم خديجة ثم عائشة.

واستدل السهيلي بالأحاديث الدالة على أن فاطمة رضي الله عنها بضعة رسول الله.

 امام علم الدين عراقی سے نقل ہوا ہے : فاطمہ اور ان کے بھائی ابراہیم خلفاء اربعہ سے افضل ہیں۔امام مالك سے نقل ہوا ہے :  کوئی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے جسم کے حصے {جناب فاطمہ } سے زیادہ افضل نہیں ہے۔ابن حجر عسقلاني نے کہا ہے : اہل سنت کے علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جناب فاطمہ، خدیجہ ور عائشہ سے افضل ہیں، ان کے بعد جناب خدیجہ اور پھر جناب عائشہ افضل ہے ۔ سهيلي نے بھی ان کے افضل ہونے کو ثابت کرنے کے لئے ان احادیث سے استدلال کیا ہے کہ جو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم کے جسم ک حصہ بتاتی ہیں ۔

الأحمد نكري، القاضي عبد النبي بن عبد الرسول الحنفي الهندي، دستور العلماء أو جامع العلوم في اصطلاحات الفنون، ج 1، ص 12، : تحقيق: عرب عباراته الفارسية: حسن هاني فحص، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م.

مناوى نے بھی جناب فاطمہ کا خلفاء پر برتری کے بارے میں لکھا ہے

 :وذكر العلم العراقي أن فاطمة وأخاها إبراهيم أفضل من الخلفاء الأربعة بالاتفاق.

علم الدين عراقي نے کہا ہے : اہل علم کا اتفاق نظر ہے کہ جناب فاطمہ اور ان کے بھائی ابراہیم خلفاء اربعہ سے افضل ہیں ۔

المناوي، محمد عبد الرؤوف بن علي بن زين العابدين (متوفاي 1031هـ)، فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 4، ص 422، ناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر، الطبعة: الأولى، 1356هـ.

  عبد الرحمن سيوطى نے بھی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا تمام صحابہ سے افضل ہونے کے بارے میں اہل سنت کے نظرئے کو بیان کرتے ہیں ۔

قال مالك رضي الله عنه: لا أفضل على بضعة من النبي صلى الله عليه وسلّم أحداً.

امام  مالك نے کہا ہے : کوئی بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود کے حصے سے افضل نہیں ہے .

السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفاي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 2، ص 280، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2000م

آپ سے پوچھے میرے سارے لا جواب سوالات بھی اور میری طرف سے اٹھاے شبھات بھی انشاء اللہ پی ڈی ایف کی صورت میں پیش کروں گا۔لیکن آپ کی پی ڈی ایف آنے کے بعد۔صرف اتنی گزارش ۔ کسی پاکستانی عدالت میں جاکے شکایت نہ کرنا۔

خانه،:قال رسول اللّه (ص(: إذا كانَ يَوْمُ القيامَةِ نادي مُنادٍ: يا أَهْلَ الجَمْعِ غُضُّوا أَبْصارَكُمْ حَتي تَمُرَّ فاطِمَة۔

رسول خدا نے فرمایا ہے کہ: روز قیامت ایک منادی نداء دے گا کہ: اے اہل قیامت اپنی آنکھوں کو بند کر لو، کیونکہ اب یہاں سے فاطمہ کا گزر ہونے والا ہے۔

كنز العمّال ج 13 ص 91 و 93، منتخب كنز العمّال بهامش المسند ج 5 ص 96،الصواعق المحرقة ص ،190، أسد الغابة ج 5 ص 523، تذكرة الخواص ص 279،ذخائر العقبي ص 48،مناقب الإمام علي لابن المغازلي ص 356،نور الأبصار ص 51 و 52

 


شیعہ مناظر کی طرف سے اہل سنت احادیث سے شان سیدہ فاطمہ دکھانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اہل سنت ہی حقیقی عاشقان اہل بیت ہیں۔اس بات کا اقرار دشمن بھی کرتے ہیں۔ اہل بیت کے فضائل پر جتنی کتب علمائے اہل سنت نے مرتب کی ہیں اس کا آدھا بھی شیعہ مصنفین نے مرتب نہیں کیں، آزمائش شرط ہے۔


(نوٹ:اس کے بعد شیعہ مناظر نے ایک لنک بھیجا جس میں اہل سنت کتب سے سیدہ فاطمہ کے فضائل پر احادیث موجود ہیں۔)