Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یمن و حضر موت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یمن کے گورنر یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طلب پر مدینہ جا رہے تھے اور راستہ ہی میں انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان نامہ ملا جس میں حضرت عمر فاروقؓ کی وفات اور حضرت عثمانؓ کے لیے بیعتِ خلافت اور صنعاء پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بحیثیت گورنر کے تقرری کی خبر تھی، چنانچہ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی وفات تک صنعاء کے گورنر رہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 442)

اور شہر ’’جند‘‘ پر عبداللہ بن ربیعہؓ گورنر تھے، یہ حضرت عثمان غنیؓ کے پورے دور خلافت میں وہاں کے گورنر رہے۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 179)

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یمن کے دوسرے شہروں پر بھی آپ کے گورنر مقرر تھے لیکن مرکزی اور اہم مراجع میں صرف انہی دونوں گورنروں کا اکثر ذکر آیا ہے، اور اسی طرح مراجع کے اندر حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں یمن کے حالات و واقعات کی تفصیل مذکور نہیں، اور اسی طرح ان مراجع و مصادر کے اندر حضرت عثمانؓ اور یمن کے گورنروں کے مابین خط و کتابت کا بھی بہت کم ذکر وارد ہے، صرف ان اوامرو فرامین کا تذکرہ مذکور ہے جو خلافت کے تمام گورنروں کو ارسال کیے گئے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 172)

عہدِ عثمانی میں اہلِ یمن کے سلسلہ میں اپنے گورنروں کی اطاعت و فرماں برداری مشہور و معروف ہے، اس پر یہ واقعہ دلیل ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ثقفی شخص کو یمن روانہ کیا، جب وہ واپس آیا تو حضرت عثمانؓ نے اس سے یمن والوں سے متعلق دریافت کیا، تو اس شخص نے بتلایا: میں نے ان کو ایسی قوم پایا کہ ان سے جو کچھ مطالبہ کیا جائے وہ اس کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں خواہ وہ حق ہو یا باطل۔

(تاریخ الیمن السیاسی فی العصر الاسلامی: حسن سلیمان: صفحہ 79)

اہل یمن سے متعلق یہ بات معروف ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے دور خلافت میں ان کے بہت سے قبائل نے عراق، مصر اور شام کے مختلف نئے شہروں کی طرف ہجرت کی، جس کی وجہ سے ان کے تعلقات ان شہروں کے ساتھ مسلسل قائم رہے جیسا کہ ان کی ہجرت بھی دوسرے شہروں کی طرف حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں مسلسل جاری رہی اور جب آپ کے آخری دور میں جو فتنہ رونما ہوا، اس میں یمن کے بعض یہودیوں کا انتہائی خطرناک کردار رہا، جس کے نتیجہ میں سیدنا عثمانؓ کی شہادت پیش آئی۔ ان فتنہ پروروں کی قیادت عبداللہ بن سبا کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد بہت سے گورنر یمن کو خیرباد کہہ کر حجاز آ گئے تاکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات میں حصہ لے سکیں، انہی میں سے یعلی بن منیہ اور عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 442)