شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر…

شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر ہے

  شیخ عبد اللہ بن محمد

صفحہ 6 از 7

حسین نبی ﷺ کے انگھوٹے سے دودھ پیتے تھےجو دو تین دن کے لئے کافی ہوتا تھا۔ ((دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۱؍۴۶۵)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا مسلمانوں کی تکفیر کرنا اور ان سے حقد وحسد کرنا
٭شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ اور ان کے پیروکارشیعہ امامیہ کے علاوہ کوئی ملّت اسلام پر نہیں ہے۔ (دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۱؍۲۲۳،۲۲۴)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امام مہدی عنقریب واپس آئیں گے اور شیعوں کے دشمن اہل اسلام سے انتقام لیں گے،رہی بات یہود ونصاریٰ کی تو ان سے وہ مصالحت ومسالمت کرلیں گے۔(دیکھں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۵۲؍۳۷۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ہماری تردید کرنے والا گویا اللہ کی تردید کرنے والا ہے، اور یہ شرک باللہ کی حد تک پہنچا ہواہے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی۱؍۶۷)۔

٭اسی طر ح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے علاوہ سارے لوگ اولاد زنا ہیں۔ (دیکھیں: کتاب(الروضۃ من الکافي) للکلینی،۸؍۲۸۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جوبھی بچہ پیدا ہوتا ہے ابلیسوں میں سے کوئی نہ کوئی ابلیس اس کے پاس حاضر رہتا ہے، پس اگر اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ نومولود شیعہ میں سے ہے تو اسے اس شیطان سے روک دیتا ہے،اور اگر یہ نومولود شیعہ کی جماعت سے نہیں ہوتا تو شیطان اس کی شرمگاہ میں اپنی انگلی کو داخل کرتا ہےچناں چہ وہ مابون(متّہم) ہوجاتا ہے اور اسی طرح لونڈی کی شرمگاہ میں انگلی داخل کرتا ہے تو وہ فاجرہ وبدکارہوجاتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب(تفسیر العیاشي) محمد العیاشی،۲؍۲۱۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اگر کوئی شخص شیعہ اثناعشریہ نہیں ہے، یا ائمہ اثنا عشریہ میں سے کسی ایک پر ایمان نہیں رکھتا، یا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے،اور آخرت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ (دیکھیں:کتاب(جامع أحادیث الشیعۃ) للبروجردی، ۱؍۴۲۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اخبار سے زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوتا کہ آخرت میں کافر اور مشرک کا حکم ہراس شخص پر جاری ہوگا جو اثناعشریہ میں سے نہیں ہوگا۔(دیکھیں: کتاب( تنقیح المقال) لعبد اللہ المامقانی،۱؍۲۰۸)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا اہل سنّت کےخلاف اس قدر حقد کرنا جو وصف سے باہر ہے
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

بے شک ناصبی مسلم کا خون حلال ہے، لیکن میں تجھے تقیہ اختیار کرنے کو کہوں گا ،اگر تو اس ناصبی مسلم پر کسی دیوار کو گراسکے،یا اسےکسی پانی میں غرق کرسکے تاکہ تیرے خلاف اس فعل پر کوئی گواہی نہ دے تو اسے انجام دے، پوچھا گیا: تمہارا اس کے مال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: جس مال پرتو قادرہو اسے ہلاک وبرباد کردے۔ (دیکھیں: کتاب( وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۱۸؍۴۶۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

سنّی کی دیت بکرا کی طرح ہے، بلکہ بکرااس سے بہتر ہے، اور یہ ان کے چھوٹے بھائی کی دیت کے مساوی نہیں ہے، اوروہ شکاری کتّاہے، اور نہ ہی ان کے بڑے بھائی کی دیت کے مساوی ہے، اور وہ یہودی ہے۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ناصبی مسلمان کے مال کو جہاں پاؤ لے لو اور اس کا خمس ہمیں ادا کرو۔(دیکھیں: کتاب (وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۶؍۳۴۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک روزِ قیامت سنیّوں کی نیکیاں شیعوں کو دیدی جائیں گی،اور شیعوں کی برائیاں سنّیوں پر لاد دی جائیں گی اور پھر انہیں جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۵؍۲۴۷،۲۴۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اہل سنت نجس ہیں اور ان کے خون ومال مباح ہیں، بلکہ وہ مخلّد فی النار ہیں، اوروہ اس میں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ (دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۲؍۳۰۶، وکتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲؍۱۸۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

جب شیعی کسی شیعی سے کہے (اے سنُّی) تووہ اسے سزا دے رہا ہوتا ہے،اور شرعاً ثابت ہے کہ اس کی تعزیر کرنا اسے دھمکانا اور ڈانٹناہے۔(دیکھیں: کتاب(حیاۃ المحقق الکرکي وآثارہ) ،۶؍۲۳۷)۔

شیعہ اثناعشریہ کے خُرافات
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

فرشتوں کی ایک جماعت نے کسی چیز کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تو انہوں نے آدمیوں میں سے کسی کو حکم بننے کا سوال کیا تو اللہ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم لوگ خود انتخاب کرو تو انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ (دیکھیں: کتاب(مسند فاطمۃ) لحسین تویسرکانی،ص۲۹۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

عفیر گدھے نے رسولﷺسے ہم کلام ہوکر کہا: میرے ماں باپ آپ پرفداہوں، میرے باپ نے اپنے باپ کے واسطے سے،اپنے دادا کے ذریعہ، ان کے والد کے توسّط سے روایت نقل کی ہے کہ:وہ سفینہ نوح میں نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے،نوح علیہ السلام ان کے پاس آئے،اور اس کے سرین پر ہاتھ پھیرا اور کہا:اس گدھے کی ذریت میں ایک ایسا گدھا ظاہر ہوگا جس پر سیدالمرسلین وخاتم النبیین سواری کریں گے،پس اللہ کی تعریف ہے کہ اس نے مجھے وہ گدھا بنایا (دیکھیں :کتاب(أصول الکافی)للکلینی،۱؍۲۳۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ان کے امام باقرؒ نےمٹی سے ایک ہاتھی بنایا اور اس پر سوار ہوکر مکّہ گئے۔ (دیکھیں: کتاب(مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی،۵؍۱۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ (اثناعشریہ) کے پیشاب وپاخانہ میں کوئی خباثت،بدبواور گندگی نہیں پائی جاتی، بلکہ مشک عنبر کی طرح ہے،اورجس نے ان کے پیشاب وپاخانہ اور خون کو نوش کیا اللہ اس پر جہنم حرام کردے گا اور جنت میں دخول کو واجب کردے گا۔

(دیکھیں: أنوار البھیّۃ) لآیت اللہ الآخوند ملازین العابدین الکلبایکانی،ص۴۴۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا(ریح)یا غلیظ وغلاظت (گوز وپاخانہ)مشک عنبر کی طرح ہوتی ہے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

کالا جوتا پہننے میں تین باتیں پائی جاتی ہیں: میں نے کہا: تین باتیں کون سی ہیں آپ پر میری جان قربان ہو؟؟ فرمایا: نگاہ کمزور کرتا ہے، آلہ تناسل کو ڈھیلا کردیتا ہے، اور غم لاحق کرتا ہے۔ (أصول الکافي)للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

صفحہ 6 از 7