Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نئی نسل کا ظہور

  علی محمد الصلابی

معاشرہ میں بڑا تغیر رونما ہوا، نئی نسل کا ظہور ہوا اور یہ نسل معاشرہ میں مقام حاصل کرنے لگی، یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نسل نہ تھی، ان کا دور، صحابہ کے دور سے مختلف تھا، ان کے اوصاف صحابہ کے اوصاف سے مختلف تھے، یہ نسل مجموعی طور سے ان صحابہ سے کم تر تھی۔

(الدولۃ الامویۃ: یوسف العش: صفحہ 132)

جنھوں نے اسلامی سلطنت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر سنبھالی تھی۔ مسلمانوں کی پہلی نسل قوت ایمان، اسلامی عقائد کا فہم سلیم اور کتاب و سنت پر مشتمل اسلامی نظام کی اتباع کی صفات سے مکمل طور سے متصف تھی۔ یہ خصوصیات اسی نئی نسل میں بہت کم تھیں جو اسلامی فتوحات کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی تھی، اس کے اندر ذاتی اغراض ظاہر ہوئیں، ان کے اندر قومی اور نسلی عصبیتیں ابھریں، دورِ جاہلیت کے بہت سے اثرات ان کے اندر باقی رہ گئے، اور ان میں سے بعض کی تعلیم و تربیت اس طرح نہ ہو سکی جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک پر ہوئی تھی، اس کی وجہ یہ رہی کہ ایک طرف یہ کثیر تعداد میں تھے اور دوسری طرف فاتحین صحابہ کرامؓ جنگوں اور فتوحات میں مشغول تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 356) 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعد کے لوگوں سے زیادہ اختلاف سے محفوظ تھے، جس طرح زمانہ دورِ نبوت سے دور ہوتا رہا اختلاف و افتراق بڑھتا رہا۔

(ذوالنورین عثمان بن عفان: محمد مال اللہ: صفحہ 99)

یہ نئی نسل اس صورت حال سے راضی نہ تھی جو سابقہ لوگوں نے اختیار کر رکھی تھی، یہ اس کے برعکس کے عادی تھے، جس سے نئی عقلیت نے جنم لیا، اور زندگی کا نیا مفہوم سامنے آیا، اور یہ مفہوم اس عقلیت سے دور تھا جو عقلیت سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں پائی جاتی تھی۔ اس عقلیت کو سمجھنے اور اختیار کرنے کے لیے اور اس کے حکم کو ماننے کے لیے یہ نئی نسل تیار نہ تھی۔

(الدولۃ الامویۃ: یوسف العش: صفحہ 133) 

اس لیے نئی نسل کے منحرف لوگ داعیان فتنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔