امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29) - سنی شیعہ مناظرے |…

امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 7

امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)

شیعہ مناظر:  میں نے مسلک ادراجی گمانی  کا رد ،امام زہری کی روایت پر اشکال کے جواب کے عنوان سے پیش کیا  اور جواب کے  چار حصوں میں 20 کے قریب دلائل پیش کیے  اور یہ ثابت کردیا کہ ادراج نام کی کوئی چیز نہیں ،اگر ادراج ہو بھی  تو پھر بھی  سب حقیقت پر مبنی ہے  اور راوی نے غلط بات نقل نہیں کی ہے۔

اس پر اسی روایت کے اندر اور اس سے باہر بہت سے شواہد موجود ہیں۔

جیساکہ مناظر کے جواب سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے میرے مطالب کا یا مطالعہ نہیں کیا ہے یا مطالعہ کیا ہے لیکن جواب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ہی سوالات دہرانے میں اور ایک دو شبہات اٹھاتے رہنے میں مصلحت دیکھی تاکہ اصل موضوع کا  ناظرین کو پتہ ہی نہ چلے اور اپنے کمزور دلائل پر پردہ ڈالےلیکن مناظر کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہوں نے ہی بعد میں ایسے مطالب اپنے مدعا کی دلیل کے طور پر شیئر کیے کہ جو اس کے اپنے موقف کا رد اور موصوف کے اپنے مدعا کے سست ہونے کی دلیل ہے کیونکہ موصوف نے خاص چالاکی سے بحث کا غلط نتیجہ نکالا لہذا دوستوں کی خاطر اور موصوف کی خام خیالی اور  غلط فہمی کو دور کرنے کی خاطر کتب ادراجی کے رد پر اپنے دلائل کو  فہرست   اور مختصر انداز میں  بیان کرتا ہوں۔

 سب سے پہلے مسلک ادراج کی نفی کے دلائل اور پھر بعد میں بحث کے اس مرحلے سے متعلق شبہات کے جوابات:ادراج کی نفی پر دلائل کا خلاصہ  :

الف:عدم ادراج پر زہری کی حدیث کے اندر کے شواہد

الف:بخاری کی جس روایت کو میں نے سند کے طور پر پیش کیا اس میں کہیں پر ادراج پر شاہد نہیں ہے لہٰذا امام بخاری کی دقت نظر کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہے۔

ب:  جن لوگوں نے حدیث کے بعض نقولوں میں ایک( قال ) دیکھ کر ادراج کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اس سے بھی ناراضگی ہی ثابت ہوتی  ہے ۔

جیساکہ امام بیہقی نے {و عاشت} کے بعد ادراج کا  ادعا کیا ہے  جبکہ اسی مذکورہ روایت اور دوسری روایات میں( فغضبت یا وجدت ) و عاشت سے پہلے ہے۔ اسی بخاری کی حدیث میں ملاحظہ کریں  

فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ   و عاشت .

لہذا غضبت ادراج کو قبول کرنے کی صورت میں بھی ثابت ہے۔ اس سلسلے کا ایک اہم شاہد مسند ابوبکر کی روایت ہے۔

  جس میں قال کی جگہ

قَالَتْ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ , فَلَمْ تُكَلِّمْهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى مَاتَتْ , فَدَفَنَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلًا , وَلَمْ يُؤْذَنَ بِهَا أَبُو بَكْرٍ

کا لفظ ہے لہذا صاف ظاہر ہے کہ یہ راوی کا قول نہیں ہے بلکہ جناب عائشہ کہہ رہی ہے کہ جناب فاطمہ ناراض ہوئیں اور مکمل بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں اور جنازے میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

{ مسند أبي بكر الصديق (ص: 88):،المؤلف: أبو بكر أحمد بن علي الأموي المروزي (المتوفى: 292هـ)

 اس سلسلے میں ایک قابل توجہ بات یہ ہے جن لوگوں نے فضغبت اور بعد کے جملوں کو راوی کا ادراج کہا ہےلیکن اہل سنت کے  دوسرے محدثین نے بعد کے جملوں کو قالت کہہ کر نقل کیا  ہے یعنی خود جناب عائشہ کا قول ۔جیساکہ امام طبرانی اور خود امام بہیقی نے

(قالت عائشة أن فاطمة عاشت)  

نقل کیا ہے۔ المعجم الكبير 22/ 398 :.. سنن البيهقى 2/ 93

 اسی طرح روایت کے آخری حصے کو (و لم یاذن ابابکر ) کو المصنف میں عبد الرزاق نے (عن عائشہ ) کے ساتھ نقل کیا ہے یعنی جناب عائشہ نے کہا کہ ابوبکر کو جنازے میں شرکت کرنے نہیں دیا دیکھیں

 {المصنف۔حدیث۔ ۶۶۶۰}

 اس سلسلے کی ایک اہم بات بخاری کی اسی حدیث میں جناب عائشہ کا (قالت کانت فاطمہ تسال ابابکر) کا جملہ ہے یعنی جناب عائشہ کہہ رہی ہے کہ جناب فاطمہ ع کی طرف سے مطالبہ اور خلیفہ کی طرف سے حدیث (نحن معاشر الانبیاء) سے استدلال کے باوجود معاملہ جاری رہا اور جناب فاطمہ ع نے مطالبہ جاری رکھا۔ اگر مسلک ادراجی کے قول کے مطابق معاملہ اسی حدیث کے سنانے سے ہی ختم ہوا تھا تو جناب عائشہ کو کہنا چاہیے تھا کہ فاطمہ ع خاموش ہوگئی اور راضی ہوکرچلی گئیں۔جب کہ اس معاملے کے عینی شاہد کا یہ کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ اب ارباب انصاف کو خود ہی سوچنا چاہے کہ بخاری کی حدیث میں موجود اس قالت کانت فاطمہ اور مسند ابوبکر کی روایت کے مطابق سب ایک{ قالت} ہی کا تسلسل ہے۔اب ان سب کے باوجود ایک مخصوص گروہ ایک (قال ) کو لے کر اس کو ایک راوی کا گمان کہنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟

کیونکہ جناب عائشہ کی بات کو جو قالت سے شروع ہوتی ہے اس کو ایک راوی کا گمان کہہ کر رد کرتے ہیں۔

یہ کیوں نہیںِ کہتے کہ یہ قال ممکن ہے کسی اور راوی کی غلطی ہو یا کسی نسخہ لکھنے والے یا نقل کرنے والے کی غلطی سے ذکر ہوا ہو اور اصلی وہی جو امام بخاری کی مذکورہ روایت اور مسند ابوبکر کی روایت ہو؟ کیوں اس کو گمان نہیں کہتے ؟؟کیا امام زہرہ کے لیے کیا قال اور قالت دونوں فعل کا  استعمال کرنا صحیح ہے ؟؟لہذاصاف ظاہر ہے یہ ادراج نہیں ہے بلکہ روایت کا ہی حصہ ہے اور اس کے اصل راوی یعنی جناب عائشہ کے ہی الفاظ ہیں۔

 موصوف کا علمی مقام دیکھیں۔ ایک قابل توجہ بات : 

یہاں اس کو جناب زہری کا گمان کہنا اسی لئے بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ تو اس وقت تھا ہی نہیں لہذا اس کے بارے {گمان ہوا } کہنا اور اس لفظ کا استعمال ہی صحیح نہیں۔مثلا جناب عائشہ کے بارے میں یہ کہنا ایک حد تک صحیح ہے کہ ان کو ایسا گمان ہوا جناب فاطمہ ناراض ہوئی۔{ جیساکہ اہل سنت کے بعض نے ایسا کہا بھی ہے } یا خلیفہ دوم کے بارے میں یہ کہنا کہ انہیں حضرت علی ع کے طریقہ کار سے یہ گمان ہوا کہ آپ انہیں جھٹلاتے ہیں لہذا کہا {رایتمانی کاذبا ،غادرا} ۔جیساکہ نقل ہوا کہ جب منی میں رسول اللہ ﷺ فرمارہے تھے { میرے بعد بارہ جانشین ہوں گے } اتنے میں شور مچا تو راوی کو گمان ہوا کہ آپ نے اس کے بعد {کلہم من قریش }فرمایا ہے ۔

صفحہ 1 از 7