امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29) - سنی شیعہ مناظرے |…

امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 7

شیعہ مناظر:  اب تک کی سب سے بڑی علمی اور وزنی بات آپ نے کی ہے۔ آدھا گھنٹے تک باقی حصہ بھی دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔


سنی مناظر نے اسکرین شاٹ رکھ کر ثابت کیا کہ گفتگو31 مئی رات 2 دو بجے ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔دوسرے دن سنی مناظر نے ساڑھے  12 بجے یہ بھی اعلان کیا کہ دوسرے مرحلے ب پر جمعہ کے دن سے باقائدہ گفتگو شروع کی جائے گی۔



نیچے شیعہ مناظر دلشاد
 کا میسج پڑھیں، ایک گھنٹے  بعد سنی مناظر کے آخری جواب کا علمی رد کر کے گفتگو کو ختم کرنا تھا۔

یاد رہے کہ آخری جواب میں نئے دلائل پیش نہیں جاتے۔ مناظروں کے اصولوں کے سخت خلاف ہے۔

اب شیعہ مناظر کی طرف سے اپنے آخری جواب میں نئے دلائل المصنف اور مسند ابوبکر کے اسکینز ملاحظہ فرمائیں۔

31 مئی 2021 دن ایک بجے موصوف نے پرسنل میں کسی اور کے بھیجے گئے دلائل رکھنا شروع کردئے۔سنی مناظر نے جب انہیں احساس دلانے کی کوشش کی تو موصوف مکر گئے!!

شیعہ مناظر:  جناب! سب آپ کے انباکس میں نہیں ہیں۔ سب دوستوں کے سامنے ہیں۔ تمام دوست حقیقت کیا ہے خود ہی دیکھ سکتے ہیں۔اب گفتگو ختم ہونے کے بعد طے یہ ہوا تھا فیصلہ دوستوں پر چھوڑنا ہے۔

میں نے آپ کے نتیجہ گیری پر الگ سے تبصرہ نہیں کیا ہے ورنہ میں ایک ہی جملے میں کہہ دیتا ہوں۔آپ نے جو نتیجہ گیری کی ہے وہ ہمارے مناظراتی گفتگو کا نتیجہ نہیں ہے۔آپ کی ذہنی تخلیق ہے  اور آپ کے  ہرایک بات کے خلاف ہونے کو میں  دکھا سکتا ہوں۔ لہٰذا الگ سے تبصرہ کا سلسلہ چھوڑ دیں  خود دوستوں کو آپ کے نتیجہ گیری اور میرے نتیجہ گیری کے درمیان فیصلہ کرنے کا موقع دیں۔

دوسرا حصہ:پارٹ 1

ب :  ادراج اور گمان نہ ہونے پر دوسرے شواہد:صحیحین میں موجود وہ احادیث کہ جو خلیفہ دوم کے دور تک امیرالمومنین (ع) کی طرف سے جناب فاطمہ (س) کے مطالبے کو دھرانے اور جناب فاطمہ (س)کے موقف کی حمایت اور خلفاء کے استدلال کو رد کرنے کو بیان کرتی ہیں۔ اس کے اسناد پہلے بیش کرچکا ہوں۔

ملاحظہ کریں:

  وَأَتَى هَذَا يَسْأَلُنِى نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا۔ {صحيح البخارى  کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ ۔۔ صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ۔

اب یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ اسی وقت ختم نہیں ہوا تھا اور جناب فاطمہ ع اور امیر المومنین ع نے خلیفہ کے موقف کو قبول نہیں کیا تھا اور دونوں سمجھتے تھے کہ خلیفہ نے ان کا حق نہیں دیا ہے اور ان کے بارے میں غلط فیصلہ کیا ہے ۔ اب موصوف کی طرف سے اپنے غیر متعلقہ سوالات کے جواب کا بار بار  مطالبہ اور میری طرف سے اسی {مطالبہ جاری رہنے کے بارے }بنیادی سوال کے جواب دینے سے دوری کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس چیز کا اقرار کرنا کہ جناب فاطمہ ع اور جناب امیر اس اس حدیث سے استدلال کے باوجود اس استدلال کو قبول نہیں کرتے تھے اور  حق سے محروم ہونے کے نظریے پر قائم تھے۔یہی وجہ ہے موصوف کی طرف سے بحث کے  اس مرحلے سے متعلق میرے سوال کا جواب نہ دینا اور بحث کے اس مرحلے سے تعلق نہ رکھنے والے سوالات کا بار بار تکرار حقیقت میں اسی حقیقت کو چھپانے کا چکر ہے لیکن کامیاب نہیں ہوا کیونکہ میں جس موضوع کو شروع کرتا ہوں اس پر آخر تک ڈٹ کر رہتا ہوں موضوع سے اگلے کو بھی واپس آنے پر مجبور کرتا ہوں   لہٰذا معاملہ اور مطالبے کا جاری رہنا خود ہی موصوف کی رائے کا گمان ہونے اور اس گمان کے بطلان کی دلیل ہے ۔  بہت سے علماء کے اس سلسلے میں حوالے پیش کرچکے ہیں کہ جو بخاری کی اسی حدیث کے مطابق عدم رضایت کو قبول کرتے ہیں اور بہت سے شارحین نے مسلک ادراج کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اس مورد نزاع جملات کو حدیث کا ہی حصہ سمجھ کر حدیث کی تشریح اور تفسیر کی ہے۔اس سلسلے کے اسناد بھی پیش کرچکا ہوں

{ عمدة القاري شرح صحيح البخاري (17/ 258}  

ابن حجر نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ غضبت والا جملہ راوی کا اندراج ہے بلکہ وہ اس کو باقاعدہ صحیح حدیث کو حصہ قرار دے کر امام ترمذی کی حدیث کا بھی یہی بائیکاٹ والا معنی کرتے ہیں ۔

وتعقبه الشاشي بأن قرينة قوله: "غضبت" تدل على أنها امتنعت من الكلام جملة وهذا صريح الهجر وأما ما أخرجه أحمد ۔۔۔ فلا يعارض ما في الصحيح من صريح الهجران ولا يدل على الرضا بذلك۔۔۔

{فتح الباري - ابن حجر (6/ ۔202}

ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں یہاں تک لکھا ہے:

أجاز أكثر العلماء الدفن بالليل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة ليلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن يصلى عليها، كان بينهما شىء.

صفحہ 3 از 7