امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29) - سنی شیعہ مناظرے |…

امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 7

 فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے { فَرَّ بِهَا }چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔ إبن بطال البكري القرطبي (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 325 ۔ اور بھی بہت سے ایسے نمونے موجود ہیں کہ سب میں شارحین نے اس حصے کو اصل حدیث کا حصہ قرار دیا ہے ،اندارج کے نظریے کی بنیاد پر اس حدیث کی شرح نہیں کی ہے ۔جیساکہ شارحین اور محدثین کے علاوہ اہل سنت کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ابن عربی. ابن کثیر ، ابن عثیمین جیسے بہت سے علماء بھی اسی صف میں کھڑے ہیں کہ جنہوں نے مکتب ادراجی کے خلاف سب کو حدیث کا ہی حصہ قرار دیا ہے یہاں تک کہ ابن  تیمیہ نے  جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے اس احتجاج کو دنیا پرستی اور منافقانہ کام سے تشبیہ دی ہے اور ابن عثیمین نے تو آپ پر اس وقت عقل سے کام نہ لینے کی تہمت لگائی ہے اور ان کے لئے اللہ سے استغفار کیا ہے ۔اگر ہم اس سلسلے میں آپ کے علماء  کی فہرست پیش کریں  تو مکتب ادراجی والے ان کی نسبت سے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لہٰذا ان سب بزرگوں کے خلاف موقف اپنا کر خود کو ہی اہل سنت  ترجمان کے طور پر پیش کرنا ایک لطیفہ سے کم نہیں۔ اب جب یہ بات روشن ہوئی کہ  پہلی بات تو یہ ہے یہاں ادراج ہی نہیں ہے اگر ادراج کو قبول کیا جائے تو بھی اس بات پر بہت سے شواہد موجود ہیں کہ جناب زہری کی بات ٹھیک ہے۔ لہذا ان تمامتر شواہد کے باوجود اس کو راوی کا گمان کہہ کر رد کرنا تعصب اور شیعہ منطق اور دلائل کے آگے بے بسی  کے علاوہ کچھ نہیں اور جیساکہ بیان ہوا کہ اگر یہ اس کی ہی رائے ہو تو بھی یہ اتنا غیر ذمہ دار تو نہیں کہ اپنی طرف سے ان باتوں کو حدیث کا حصہ قرار دے  جبکہ اس کے خطرناک نتائج میں سے ایک خلفاء کی شان میں طعن ہے ۔اب کیسے اس شخص کے بارے ایسا ہو سکتا ہے کہ جس سے  بخاری میں 1000کے قریب احادیث نقل ہوئی ہیں اور صحاح ستہ میں اس سے ہزاروں کی تعداد میں روایات موجود ہیں۔ اب یہ اتنا غیر زمہ دار ہو اور کسی قابل اعتماد سے سنے بغیر ایسی بات نقل کرے جو خلفاء کی شان میں طعن شمار ہوتی ہو؟ لہٰذا اندراج کی صورت میں بھی اگر اس کی خبر کو مرسل نہ مانا جائے تو اہل سنت کے اس مایہ ناز راوی اور امام کی وثاقت خطرے  میں پڑ سکتی ہے۔{ کہ جو اہل سنت کے لئے انتہائی درد ناک ہے }

 جی وہ معصوم نہیں، خطا بھی  کرسکتا ہے لیکن  اتنی خطرناک خبر کو بغیر کسی سند اور مدرک کے اس طرح نقل کرنا کہ گویا اس نے یہ سب صحیح سند کے ساتھ سنی ہے تو اس میں خطا  اور گمان چہ معنی دارد۔مغالطہ پر مغالطہ؟؟

سنی مناظر کا سوال: کیوں امام زھری کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا؟کسی اور طریق سے بھی ناراضگی کو ثابت کر کے دکھاؤ۔

 پہلی بات :     ناراضگی کو اب کسی اور طریق سے مجھے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے خود ہی ادراج کے دوسرے شواہد اور جناب فاطمہ {س} کی رضایت حاصل کرنے کی بحث میں ایسی اسناد پیش کی ہیں اور یہ اقرار کیا ہے کہ آپ ناراض ہوگئی تھیں ۔ آپ نے خلفاء کی طرف سے ان کی زندگی ہے آخری لمحات میں

 { یعنی اس واقعے کے تقریبا چھے ماہ بعد } ان کو راضی کرنے کی کوشش اور ان کی رضایت کے حصول کا دعوا یٰ کیا ہے ۔اب آپ کا یہ مدعا اور اس کے دلائل { کہ جو سب کے سب مرسل ہیں} صحیح ہو اور آپ کے نزدیک حجت ہو تو خود بخود یہ بھی ثابت ہوا کہ {غضبت } راوی کا ادراج بھی مان لیا جائے پھر بھی حقیقت پر مبنی ہے لہٰذا کسی اور سند کا مطالبہ کرنے کا کیا معنی ہے جبکہ آپ خود ہی مان چکا ہے کہ تقریبا چھے ماہ تک آپ ناراض رہی اور پھر رضایت حاصل کر لی گئی۔ مرحبا لناصرنا۔

دوسری بات:  کسی نے ذکر نہیں کیا ہو تو نہ کرنے والا مجرم ہے یا حقیقت کو بیان کرنے والا؟جناب ایک نے ایک حصے کو ذکر کیا ہو اور ایک  نے وہ ذکر نہ کیا ہو  تو کیا ہوا؟  آپ کی صحیحین میں کتنے اتنے نمونے ہیں کہ ایک راوی نے روایت میں ایک حصہ بیان کیا ہے اور دوسرے راوی نے بیان نہیں کیا ہے ۔ لیکن علماء  ذکر ہونے والے حصہ کو دوسرے ذکر نہ ہونے والی روایت کا حصہ سمجھ کر  اس مذکور کو دوسرے کی تفسیر اور تشریح کے لیے استفادہ کرتے ہیں؟  نمونے طور پر ذکر کیا ہے ۔ امام بخاری نے خلیفہ دوم کے اعتراف کو { و کذا کذا } کہہ کر ذکر نہیں کیا ہے جبکہ آپ کے صحاح کے بعض محدثین نے اس حصہ کو ذکر کیا ہے۔ تو کیا ذکر نہ کرنے والا اور کذا کذا کذا کہنے والا مجرم ہے یا ذکر کرنے والا اور حقیقت کو بیان کرنے والا ؟؟

تیسری بات:دوسروں نے ذکر بھی کیا ہے ، جیساکہ سننن ترمذی میں بھی مطالبہ رد ہونے کی وجہ سے احتجاجا  بات نہ کرنے کے الفاظ موجود ہیں، آپ کے بعض علماء اس کی غلط توجیہ کریں  تو  مقصر کون ہے؟ جبکہ حیساکہ بیان ہوا ابن حجر کے نقل کے مطابق امام ترمذی کی طرف سے  معاملہ ختم ہونا اور رضایت لینا ، امام ترمذی کا اپنا غلط گمان ہے ۔

چوتھی بات : کسی اور نے ذکر نہ کیا تو کیا ہوا ؟ جبکہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جناب فاطمہ {ع} اور مولی علی {ع} نے  مذکورہ حدیث سے استدلال کے باوجود  مطالبےجاری رکھے اور خلفاء کو اپنے حق سے محروم کرنے والے سمجھتے ہیں اور دونوں اسی نظریے کے ساتھ  دنیا سے چلے گئے، یہاں تک کہ جناب فاطمہ {ع} کے جنازے میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی گئی   تو کیا جو کسی کو اپنے والد کے ترکہ سے محروم کرنے والا سمجھ کر مطالبہ کرتے کرتے دنیا سے چلا جائے تو اس پر راضی ہوتا ہے ؟یا ناراض ہی رہتا ہے ؟  جناب عقل بھی تو کوئی شئےہے ۔ جناب بقول آپ کے دوسرے شواہد کو بھی دیکھا جاتا ہےکیوں یہاں آپ اپنا بیان کردہ اصول بھول گئے  ؟  تعصب کی مرض کا کوئی علاج نہیں ۔

صفحہ 4 از 7