امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29) - سنی شیعہ مناظرے |…

امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 7

سنی مناظر  کا اشکال: امام بیہقی نے شعبی سے ایک مرسل روایت نقل کی ہے جس کے مطابق زندگی کآ اخری ایام میں خلفاء ان کی عیادت کے لیے گیے اور سیدہ فاطمہ  راضی ہو گئیں۔یہ مرسل اور  حسن روایت ہے اور شعبی کی مرسل روایت، صحیح روایت کی طرح حجت ہے ،جیساکہ امام عجلی نے ایسا کہا ہے اور بھی سند شیعہ کتابوں سے بھی ہم پیش کرتے ہیں۔شعبی کی مرسل روایت کے جس راوی کے بارے  میں مدلس ہونے کا اعتراض ہے وہ صحیح بخاری کا راوی ہے۔پس بات ختم ۔لہذا ثابت ہوا کہ جناب سیدہ راضی ہوگئی تھیں۔

شیعہ مناظرواہ جی واہ کھودا پہاڑ نکلا۔ اب تک موصوف زور لگا رہا تھا غضبناک ہونا راوی کا گمان ہے اور سیدہ حدیث( نحن معاشر الانبیا  ) سن کر خاموش ہوگئی تھی،ں کوئی ناراضگی نہیں تھی  استغفر اللہ  کیا سیدہ بابا کے فیصلے کو ٹھکراسکتی ہے ،حدیث کا انکار کرسکتی ہے؟ناراضگی یا الفاظ سے یا چہرے سے  ثابت ہوتی ہے روای تو اس کے عینی شاہد نہیں اور کوئی لفظ بھی سیدہ سے ایسا ذکر نہیں ہوا ہے کہ جو ناراضگی کو بیان کرے۔سب اشکالات کا جواب دیا ۔ناراض نہیں ہوئی تھی تو رضایت لینے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ بھی موصوف کے بقول زندگی کے آخری لمحات میں یعنی تقریبا چھے ماہ بعد جبکہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہے ۔ جناب اب بھی استغفار، ناراضگی کو چہرے یا  الفاظ سے ناراضگی کے بارے میں  سوالات کا آپ کو جواب چاہیے؟ کیا یہ ان تمام تر حقائق اور اعترافات کے باوجود ایسا سوال دہرانا  لکیر کے فقیر ہونے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہونے اور عقل کے بجائے تعصب اور ہٹ دھرمی کے خچر پر سوار ہونے کی دلیل نہیں ؟

جناب آپ کے نزدیک اگر چھ ماہ بعد رضایت دینا اور رضایت حاصل کرنے کی داستان صحیح ہو تو یہ تو ثابت ہوا کہ چھے ماہ تک ناراض رہیں واہ جی واہ ۔ پس اس وقت غضبناک ہونا راوی کا گمان اور وہ بھی باطل گمان نہیں تھا جناب قرآن مجید میں ۳۰۰ سے زیادہ مرتبہ عقل سے کام لینے اور عقل کی اہمیت کو بیان کیا ہے ۔

 لہذا قصور آپ کا اور مکتب ادراجی کے بانیوں کا ہے ۔ کیا آپ راضی ہوگئی تھی اور شعبی کی مرسل روایت کا مضمون صحیح ہے ؟ کیا امام عجلی کی طرف سے اس کے مرسل روایت کو حجت قرار دینے کی کوئی اہمیت ہے ؟

ہمارا جواب سنیں :پہلی بات :   اس کو قبول کرنا ، غضبناک ہونے کو ادراج اور راوی کا باطل گمان ثابت کرنے کی سارے کوششوں پر پانی پھیرنا ہے۔{کیا اس نتیجے کو قبول کرتے ہو }

دوسری بات :     جیساکہ سابقہ گفتگو سے واضح ہوا ۔اس کا مضمون صحیح اور مسند روایات کے خلاف ہے لہذا اس کی مرسل روایت کی کوئی اہمیت نہیں ۔

تیسری بات :    اگر سند کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سب مرسل ہے ،ممکن ہے شعبی نے کسی غیر موثق آدمی سے سنا ہو اور کیونکہ خلفاء پر طعن کو دور کرنے کے لئے ایک بہانہ ہے لہذا راوی کا نام ذکر کیے بغیر اس کو آگے نقل کیا ہو اور اصلی راوی کا ذکر نہ کر کے حقیقت کو چھپایا ہو کیا شعبی معصوم تو نہیں ہے ۔جب انبیاء آپ کے نزدیک خطاء سے منزہ نہیں تو شعبی کہاں سے بے خطاء ہوگا ؟

چوتھی بات :      ہم نے گزشتہ کے مطالب میں یہ بھی ثابت کیا کہ اس کی سند میں ایک مدلس راوی بھی ہے ۔ اب اس مدلس راوی سے بخاری میں روایت نقل ہوئی ہو تو اس کا غیر مدلس ہونا تو ثابت نہیں ہوگا ۔ کیا بخاری کے سارے راویوں کا غیر مدلس ہونے کا ادعا کرتے ہو ؟ کیا بخاری کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ اس میں تو ناصبی اور مولی علی ع کی شان میں توہین کرنے والے راویوں سے بھی روایت نقل ہوئی ہے ۔ کیا آپ کی نظر میں ایسا راوی قابل اعتماد ہے ؟

پانچویں بات  :     ہم نے یہ بھی گزشتہ مطالب میں دکھا دیا کہ آپ کے ہی بڑے علماء میں سے امام ذہبی ،ابن حجر اور البانی عجلی کی طرف سے شعبی کے مرسلات کو صحیح کا درجہ دینے کے خلاف ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ عجلی ، ابن حبان کی طرح تساہل سے کام لیتے تھے لہذا ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے ۔

چھٹی بات :   یہی شعبی حدیث {نحن معاشر الانبیاء } کے مضمون کو قبول نہیں کرتا اور قرآن میں انبیاء کے مالی ارث ہونے کا قائل ہے۔جیساکہ اس کی سند بھی میں آپ کو پیش کرچکا ہوں ۔ کیا خیال ہے بقول آپ کے حضور ﷺ کی صحیح اور صریح حدیث کے مضمون کو قبول نہ کرنے والے کی بات قابل اعتماد ہے ۔؟؟   

جناب ممتاز قریشی صاحب ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ ۔ان حقائق کی روشنی میں اب آپ کی مرضی ہے ۔ امام زہری کے قول کو ان کا گمان ، جناب عائشہ کی خبر کو ان کا گمان اور جناب خلیفہ دوم کے واضح اعترف کو ان کا گمان کہیں اور اپنے مسلک ادراجی گمانی پر قائم رہیں  یا حقیقت کو قبول کریں  اور یہ تسلیم کریں کہ جو میرا مدعا ہے وہ ٹھوس دلائل سے ثابت ہے اور اپنے مسلک کو خدا حافظ کہہ کر اپنے اسلاف کی روش پر چلیں  اور خلفا ء کے فیصلے کو صحیح اور جناب فاطمہ اور مولا علی کے موقف کو خطا کہنے کی جرات کریں  اور مجھ سے تیسرے مرحلے میں گفتگو کے لئے تیار ہو جائیں لیکن آپ نے اپنے اپنی کٹ ہجتی پر ہی برقرار رہنا ہے تو  میں آپ کے باقی شبہات کا بھی جواب دیتا ہوں اور پھر گفتگو کو ختم کرتے ہیں۔ میرا کام آپ کی پوزیشن اور آپ جیسے لوگوں کے اس موضوع پر بحث کے غلط روش کو بتانا  اور شیعوں کے خلاف غلط تبلیغ کے ذریعے حقائق کو پوشیدہ رکھنے کے طریقہ کار کا مقابلہ کرنا تھا   اور یہ بتانا تھا کہ اہل سنت  عوام کو   دھوکے میں رکھتے ہیں اور حقائق کو چھپانے کے لئے سب چیزوں کو شیعوں کی باتیں اور شیعوں کی طرف سے خلفاء کی شان میں گستاخی کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ شیعہ اس سلسلے میں جو بھی کہتے ہیں وہ آپ کی ہی صحیحین سے ثابت ہے۔

صفحہ 5 از 7