حق زہرا : سُنی و شیعہ لاجواب مناظرہ (شیعہ مناظر ہر دلیل پر…

حق زہرا : سُنی و شیعہ لاجواب مناظرہ (شیعہ مناظر ہر دلیل پر لاجواب)(قسط 27)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

شیعہ مناظر کا اعتراض:  تمام روایات مرسل اور ضعیف ہیں پھر امام زہری کی مرسل روایت قبول کیوں نہیں ہے؟

سُنی مناظر:

پہلی بات امام زہری کی روایت مرسل نہیں ہے۔ دوسری بات شعبی کی مرسل روایت ہمارے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی ہے۔ (دلیل معرفتہ الثقات، تذکرہ الحفاظ)، میری دلیل کا رد اہل سنت اصولوں کے مطابق کریں اپنی ذاتی تاویلات اپنے پاس رکھیں۔

شیعہ مناظر: لاجواب

 

شیعہ مناظر کا ایک اور اعتراض:  شعبی کی روایت میں اسماعیل بن خالد پر جرح ہے۔

سُنی مناظر:

اسماعیل بن خالد صحیحین کا راوی ہے۔ اعتراض باطل ہے۔ (دلیل صحیح بخاری 7489) ہر راوی پر جرح و تعدیل موجود ہے، اس منطق سے تو اہل سنت و اہل تشیع کے تمام راوی ضعیف ہوجائیں گے۔

 

سُنی مناظر نے مالی وراثت پر شیعہ مناظر کے دلائل پر الگ سے بحث رکھ کر گفتگو کرنے کو کہا۔گفتگو یہاں ختم ہوجانے کے بعد یہ طئے ہوا کہ اب اس تحریر کے اگلے حصے (ب) پر گفتگو کی جائے گی۔

لیکن شیعہ مناظر نے دوسرے دن مزید کچھ نئے دلائل رکھنا شروع کردئے جن کا کوئی تعلق (ب)  کے حصے سے نہ تھا۔سُنی مناظر نے سمجھانے  کی کوشش کی تو شیعہ مناظر نے کم ظرفی دکھاتے ہوئے سُنی مناظر کو گروپ کی ایڈمن شپ سے نکال دیا، جس پر احتجاج کرتے ہوئے سُنی مناظر نے گروپ لیفٹ کردیا، بعد میں جب معلوم ہوا کہ شیعہ مناظر خوشی سے جھوم کر اپنی فتح ظاہر کر رہا ہے تو دوبارہ سُنی مناظر گروپ میں آیا اور شیعہ مناظر کو وائسز میں کھری کھری سنا کر اصل صورتحال گروپ ممبرز تک پہنچائی۔

 

شیعہ مناظر کی طرف سے طئے شدہ شرائط کی خلاف ورزی

شرط نمبر 1 : کاپی پیسٹ ممنوع

سُنی مناظر نے شیعہ مناظر کو کاپی پیسٹ کا ثبوت دیا گیا اور پھر انہوں نے کاپی پیسٹ کرنا تسلیم بھی کر لیا۔

 شرط نمبر 5 : دونوں فریق ایک دوسرے کو وضاحت دینے کے پابند ہوں گے۔

سُنی مناظر بار بار نمبر ڈال کر وضاحتیں پوچھتا رہا لیکن شیعہ مناظر شروع سے آخر تک لاجواب ہی رہا۔

آخری نتیجہ

سیدہ فاطمہ کی ناراضگی صحیحین میں صرف ایک طرق اور صرف ایک راوی کے ذاتی گمان سے ثابت ہے۔  شیعہ دجل سے کام لیکر سادہ لوح مسلمانوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے  ہیں اور مکمل حقائق چھپاتے ہوئے  آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتاکر عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور مکر و فریب سے اپنے دین کی تبلیغ کرتے ہیں ۔

علمائے اہل سنت امام زہری کے گمان کو دیگر صحیح روایات سے رد کرتے ہیں۔ اگر فدک واقعی سیدہ فاطمہ کا حق تھا تو کس حیثیت سے تھا؟ کیونکہ میراث نبوی میں 9  ازواج مطہرات، بیٹی  سیدہ فاطمہ اور چچا حضرت عباس بھی فدک کے حصہ دار بنتے  ہیں۔

جب پورا باغ فدک سیدہ فاطمہ کا حق  ہی نہیں بنتا تو پھر شیعوں کی طرف سے  صدیوں سے جاری فتنہ و فساد کیوں؟ اس مقدمے کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیق نے سنایا ضرور تھا لیکن فیصلہ کرنے والے خود نبی  صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ نبیوں کی مالی وراثت نہیں ہوتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خلفائے راشدین نے فدک کا وہی حق اہل بیت کو دیا جو خود نبی کریم ﷺ  انہیں دیتے رہے ، پھر غصب کیا ہوا جسے شیعہ عوام کو بتا کر گمراہ کرتے ہیں۔ سوچئے گا ضرور۔


صفحہ 3 از 3