مسند ابوبکر اور المصنف عبدالرزاق کی اس روایت میں کوئی شبہ…

مسند ابوبکر اور المصنف عبدالرزاق کی اس روایت میں کوئی شبہ ہی باقی نہیں ہے کہ یہ ادراج راوی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ناراضگی اور بائیکاٹ اور نماز میں شرکت کی اجازت نہ دینا اس واقعے کی عینی شاہد یعنی جناب عائشہ کا ہی قول ہے ۔شیعہ مناظر(قسط 25)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

حسن بن محمد نے نقل کیا ہے  كه فاطمہ بنت رسول خدا ﷺ کو راتوں رات دفن کیا : علي [عليه السلام] نے اس کام کو انجام دیا تاکہ ابوبکر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا جنازہ نہ پڑھنے پائے ، کیونکہ ابو بكر  اور  فاطمہ کے درمیان کچھ ہوا تھا۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 3، ص521، تحقيق : حبيب الرحمن الأعظمي، دار النشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة : الثانية 1403

  اس روایت کی سند صحیح ہے نیچے کی لنک پر رجوع کر کے دوست و احباب اطمنان حاصل کر سکتے ہیں ۔

لنک

 اسی سلسلے کی ایک اور اہم سند سنن ترمذی کی وہ روایت ہے جس میں امام زہری نہیں ہے اور ابوھریرہ سے نقل ہوئی ہے ۔

ملاحضہ کریں  

دَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالاَ: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي لاَ أُورَثُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلاَ تُكَلِّمُهُمَ

سنن الترمذي

أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  : 44- بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

 نوٹ:  خود امام ترمذی نے{ لاَ أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا} بات نہ کرنے کو ان کی طرف سے خلیفہ کی بات کو قبول کرنے کا معنی کیا ہے جبکہ یہ اس سلسلے کی دوسری روایات کے خلاف معنی ہے  حتیٰ ترمذی کی دوسری روایات کے بھی خلاف ہے اور اس پر بہت سے شواہد ذکر کر چکا ہوں لہذا یہاں پر بات نہ کرنے کا مطلب وہی ہے جو ناراضگی اور بائیکاٹ کی حالت کو بتاتی ہے۔امام ترمذی کے گمان کی کوئی حیثیت نہیں جیساکہ ابن حجر نے بھی امام ترمذی کی اس بات کو رد کیا ہے۔اس کی اسکین پہلے پیش کرچکا ہوں ۔

 آگے سے آپ نے شواہد پیش کرنے کا کہا تھا اور شواہد شواہد کا رٹ تو بہت لگایا بعد میں ایک مرسل روایت پیش کی اس کا حشر بھی معلوم ہے ۔صحیح سند اسناد کے مقابلے میں ایک مرسل روایت کی کیا حیثیت ہے۔ ہاں تعصب سے کام لینا چاہئے تو کوئی علاج نہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہے۔ اب آپ کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ایک دفعہ آپ کے مرسل کا حشر دیکھاتا ہوں ۔

 فِي التَّمْهِيدِ - ِلابْنِ عَبْدِ البَرِّ - ج 22 :320 - م "ومَرَاسِيلُ الشَّعْبِيِّ لَيْسَتْ عِنْدَهُمْ بِشَيْءٍ".

: وَجَاءَ عَنْ القَسطَلانِي - إِرْشَادُ السَّارِيِ 6 :475 - مَا نَصُّهُ: "وَأَمَّا مَرَاسِيلُ الشُّعْبِيِّ لَيْسَتْ بِحُجَّةٍ

مُطْلَقًا َلا سِيَّمَا مَا عَارَضَهُ الصَّحِيحُ". انْتَهَى.

وَهُنَا فِي مَوْرِدِنَا قَدْ عَارَضَ مُرْسَلَ الشُّعْبِيِّ الظَّاهِرُ مِنْ صَحِيحِ البُخَارِيِّ النَّافِي لِرِضَى الزَّهْرَاءِ

(عَلَيْهَا السَّلامُ) عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُطْلَقًا حَتَّى المَمَاتِ.

 قَالَ الأَلْبَانِيُّ فِي إروَاءِ الغَلِيلِ - ج 5 - ص 288 – 289 :

"وَثَّقَهُ العَجلِيُّ"! قُلْتُ: وَهُوَ مِنْ المَعْرُوفِينَ بِالتَّسَاهُلِ فِي التَّوْثِيقِ، وَلِذَلِكَ لَمْ يَتَبَنَّ الحَافِظُ تَوْثِيقَهُ

. انْتَهَى.

 وَالمُرَادُ بِالحَافِظِ ابْنُ حَجَرٍ.

 وَجَاءَ فِي "تَمَامِ المِنَّةِ"- لِلأَلْبَانِيِّ أَيْضًا - ص 400 - 401:

" وَقَدْ وَثَّقَهُ العَجلِيُّ". قُلْتُ: تَوْثِيقُ العَجلِيُّ فِي مَنْزِلَةِ تَوْثِيقِ ابْنِ حَبَّانَ، وَلِذَلِكَ لَمْ يَعْتَمِدْهُ هَهُنَا

الذَّهَبِيُّ وَغَيْرُهُ مِنْ المُحَقِّقِينَ". انْتَهَى.

فَهَذِهِ شَهَادَةُ ثَلاثَةٍ مِنْ كِبَارِ عُلَمَاءِ أَهْلِ السُّنَّةِ المُتَقَدِّمِينَ وَالمُتَأَخِّرِينَ: ابْنُ حَجَرٍ وَالذَّهَبِيُّ وَالأَلْبَانِيُّ عَلَى عَدَمِ الأَخْذِ بِتَوْثِيقَاتِ العَجلِيِّ، فَكَيْفَ يَكُونُ كَلامُهُ مَقْبُوًلا عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِ السُّنَّةِ؟!!!

 آپ کے تین بزرگوں کی طرف سے مراسیل شعبی کے عدم اعتبار پر تصریحات   اور کیا چاہئے آپ کو آپ کے امام ذھبی اور ابن حجر ، البانی نے واضح طور پر اس کے مراسیل کو رد کیا ہے  لہٰذا جو شاخ نازک پر آشیانہ بنائے  ۔ جناب ممتاز صاحب یہ آپ کے ادراج اور اس کے شواہد کا حشر ہے   لیکن تعجب اس بات کی ہے کہ آپ ان سب حقائق سے چشم پوشی کر کے ادراج ادراج کا رٹ لگارہے ہیں ۔ میں تو آپ کو اس نعرے اور مسلک ادراجی اور گمانی سے دست بردار ہونے پر مجبور تو نہیں کرسکتا لیکن الحمد لللہ دوستوں تک آپ کے بہانے   حقیقت کو روشن کرنے میں کامیاب ہوا  ہوں۔اس پر آپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔اگر اس مکمل سند کا مطالبہ کریں  تو پیش کرسکتا ہوں ۔ابھی نماز کا وقفہ ۔ آپ فلحال کچھ نہ لکھیں ۔ ممتاز صاحب۔ کچھ نہ لکھنا ۔ خلاف ورزی نہ کرنا ۔

سنی مناظر: چلیں آپ بضد ہیں تو فی الحال ب پر گفتگو شروع نہیں کرتے۔اب آپ دوبارہ رونا روتے ہوئے سیدنا علی اور حضرت عمر فاروق والی حدیث کو بار بار بیچ میں نہ لانا کیونکہ جب معاملہ سیدہ فاطمہ کے مطالبہ فدک والا ہی بحث کرنا ہے تو وہیں تک رہیں تاکہ ایک ایک نکتہ کلیئر ہوجائے۔ جب دور حضرت عمر فاروق شروع ہوا تو اس کے حقائق آپ نے خود ب میں لکھے ہیں اس لئے ب کا واقعہ الف سے جوڑ کر الف کو سمجھنے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ختم کردیں۔

شیعہ مناظر کی طرف سے سنی مناظر کو زبردستی جواب دینے سے روکنا اور ایڈمن شپ سے ہٹادینا

آدھا گھنٹے بعد آپ کو دوبارہ ایڈمن بنا دوں گا ۔ 

اس نامناسب حرکت پر بطور احتجاج سنی مناظر نے گروپ لیفٹ کردیا!


صفحہ 2 از 2