Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اگر سیدہ ناراض نہیں ہوئیں تو اسے راضی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟، رضایت پر روایت مرسل ہے، اس لئے قبول نہیں ہے، پھر ابن شھاب کی مرسل روایت قبول کیوں نہیں ہے؟ (قسط 24)

  جعفر صادق

اگر سیدہ ناراض نہیں ہوئیں تو اسے راضی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟، رضایت پر روایت مرسل ہے، اس لئے قبول نہیں ہے، پھر ابن شھاب کی مرسل روایت قبول کیوں نہیں ہے؟ (قسط 24)

  سنی مناظر:  شیعہ مناظر کی تحریر کے  پہلے مرحلے (الف) پر گفتگو ختم کرنے کا اعلان اور آخری جواب

اللہ عزوجل ہم سب کو دین کی درست سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

 آج آپ کے تمام جوابات میں سے جو اہم جواب طلب نکات ہیں، میں ان کے جوابات دیکر آپ کی تحریر کے (الف) کا اختتام کرتا ہوں کیونکہ بات سے بات نکلتی رہے گی اور ہر روز نئے نئے اعتراض پیش کرتے رہنے سے یہ موضوع کبھی بھی ختم نہیں ہوگا اور ممبرز بھی بور ہوتے رہیں گے۔

اعتراض  

اگر سیدہ ناراض نہیں ہوئیں تو اسے راضی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب: سیدہ فاطمہ دنیا کی ملکیت کی خاطر اور اپنے مرحوم والد کا فیصلہ سن کر بھی ناراض ہوں ، یہ ممکن نہیں ہے۔ ایسا تو ہم کسی عام عورت کے لئے بھی تصور نہیں کر سکتے اور شیعہ رافضی  خاتون جنت کے لئے یہ تصور کرتے ہیں! اللہ کی پناہ۔ اگر ناراضگی اتنی شدید ہوتی تو پورے مدینے میں پھیل جاتی اور کئی طرق سے راویوں نے بیان بھی کی ہوتی جبکہ ایسا بھی نہیں ہے ، تین دن سے آپ نے بھی کم کوششیں نہیں کی ہوں گی۔

اگرچہ فدک نہ دینے  کا فیصلہ خود نبی کا تھا، اس کے باوجود سُنی و شیعہ کی روایات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی جائیداد تک نہایت عاجزی سے سیدہ کی خدمت میں پیش کردی تھی، اس کے باوجود یہ امکان موجود تھا کہ سیدہ کو شاید رنجش ہوئی ہو تو اسی رنجش کو دور کرنا مقصود تھا۔

اعتراض 2۔   

   رضایت پر روایت مرسل ہے، اس لئے قبول نہیں ہے، پھر ابن شھاب کی مرسل روایت قبول کیوں نہیں ہے؟

جواب: پہلی بات ابن شھاب کی روایت مرسل نہیں ہے، بلکہ روایت میں راوی نے اپنی طرف سے جو اضافہ کیا ہے اور تین گمان بیان کئے ہیں، وہ درست نہیں ہیں کیونکہ کئی قرائن اس کے خلاف ہیں۔

دوسری بات شعبی کی مرسل روایت ہمارے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی ہے اور قبول کی جاتی ہے۔  میں دو عکس رکھ کر دکھا رہا ہوں، اس لئے آپ کے انکار سے یہ روایت مسترد نہیں ہوجائے گی۔

 

اس کے علاوہ آپ نے اسماعیل بن ابی خالد پر کمزور اعتراض بھی کیا ہے جبکہ یہ صحیحین کا راوی ہے۔

 آپ نے نبی کے مالی ملکیت پر کچھ روایات اور حوالے دئے ہیں، بہتر ہوگا کہ اس موضوع پر ہم الگ سے گفتگو کریں تاکہ قرآن و احادیث سے تمام دلائل پر باری باری تفصیل سے گفتگو کی جاسکے۔ فی الحال آپ کی تحریر کے (ب) میں سیدنا علی اور حضرت عمر فاروق کے متعلق گفتگو کرنی ہے تاکہ آپ کی دو  تین دن سے  جاری بے چینی ختم ہوسکے۔

 الحمدلللہ ۔۔۔گفتگو یہاں پر اختتام پذیر ہوئی۔

 آپ نے بہت اچھے انداز سے گفتگو کی اور بہت کوشش کی کہ میرے تحفظات کو دور کر سکیں، اس میں کتنی کامیابی ہوئی یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ میری طرف سے دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت قبول کیجئے گا۔  کل آپ (ب) کے متعلق اپنی تحریر کا حصہ ، دعوی اور اپنے دلائل و استدلال پیش کیجئے گا، پھر ہم باقائدہ اس پر بھی تفصیل سے گفتگو شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ۔

وَ مَا عَلَیۡنَاۤ  اِلَّا  الۡبَلٰغُ  الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۷

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ (سورہ يس : آیت 17)