پہلا خلیفہ ابوبکر سقیفہ بنی ساعدہ میں کس قرآن کی آیت پہ خلیفہ بنا؟
جعفر صادقشیعہ سوال
پہلا خلیفہ ابوبکر سقیفہ بنی ساعدہ میں کس قرآن کی آیت پہ خلیفہ بنا؟
♣جواب اہلسنّت♣
خلافت پر عقیدہ اہل سنت
خلافت کا مطلب حکمرانی ہے۔ اللہ تعالی نے حسب وعدہ اس عرصہ میں خلفائے راشدین کو ان کے مراتب کے اعتبار سے مسند خلافت پر فائز فرمایا۔ آیت استخلاف میں اللہ رب العزت نے جو وعدے فرمائے تھے وہ سب اس مدت میں پورے فرمادئے۔ خلافت کا عہدہ منصوص من اللہ نہیں ہے۔
آیت استخلاف
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔
(سورت النور 55)
♦️ نبی کریمﷺ کے دور میں فتوحات اسلامی:
ھجرت کے بعد دس سال کے اندر مکہ، خیبر،بحرین،یمن اور پورا جزیرہ عرب پر اللہ عزوجل نے فتح عطا فرمادی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ ہجر کے مجوسیوں اور شام کے کئی علاقوں سے جزیہ وصول کرنے لگے۔ روم کے بادشاہ ہرقل، مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے بادشاہ نے آپﷺ کی خدمت میں ہدیے ارسال کیے۔
♦️ خلفائے راشدین نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے پر چل کر انھوں نے مشرق و مغرب کا بہت سا حصہ فتح کرلیا۔
اس وقت کے سب سے مضبوط حکمران کسریٰ کے تخت پر قبضہ کرلیا اور قیصر کو اس کے مملوکہ علاقوں شام وغیرہ سے ایسا نکالا کہ اسے قسطنطنیہ میں پناہ لینا پڑی۔
مشرق میں چین اور مغرب میں افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔
ارشاد ربانی ہے ’’وامرھم شوری بینھم‘‘ ’’وہ جن کے کام باہم مشوروں سے طے پاتے ہیں‘‘اور ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وشاورھم فی الامر‘‘ ’’اور خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖرِ﴾--آل عمران159
’’اور معاملہ میں ان سے مشورہ لے‘‘ نیز اللہ جل وعلا کا قول ہے :
﴿وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ﴾--شورىٰ38
’’اور ان کا کام آپس کی صلاح سے چلتا ہے‘‘
الیہ یرد : سورۃ الشورى : آیت 38
وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾
وہ اپنے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کرتے ہیں اور اس چیز کو اسلامی نظام اجتماعی کی اہم امتیازی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
سورة آل عمران ( آیت 159) میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ (رض) سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر (رض) کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا