مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 10 از 20
ترجمہ: خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ نے عجمی سپاہ کے مقابلے میں بنفسِ خود جانا چاہا اوراس امر میں سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا تو آپؓ نے فرمایا: دینِ اسلام کا غالب آجانا اور مغلوب ہو جانا کچھ سپاہ کی کثرت و قلت پر منحصر نہیں یہ اسلام اس خدا کا دین ہے جس نے اس کی ہر جگہ مدد اور اعانت کی، اسے ایک بلند مرتبہ پر پھنچا دیا، ان کا آفتاب وہاں طالع ہوگیا جہاں ہونا لازم تھا، ہم لوگ اس وعدہِ خداوندی پر کامل یقین کے ساتھ ثابت ہیں، اس نے غلبہِ اسلام کے بارے میں فرمایا۔ بے شک وہ اپنے وعدوں کا وفا کرنے والا ہے، وہ اپنی سپاہ کا مددگار ہے دینِ اسلام کے بزرگ اور صاحب اختیار کا مرتبہ رشتہ مروارید کی مانند ہے جو موتی کے دانوں کو ایک جگہ جمع کر کے باہم پیوست کر دیتا ہے، اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو تمام دانے متفرق ہوکر کہیں کہیں بکھر جائیں گے پھر اجتماعِ کامل نصیب نہ ہوگا، آج کے روز اہلِ عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی شوکت انہیں کثیر ظاہر کرطرہی ہے۔ یہ اپنے اجتماع کی وجہ سے یقیناً دشمن پر غالب ہوں گے، اب تو ان کے لیے قطب آسیا بن جا اور آسیائے جنگ کو گروہِ عرب کے ساتھ گردش دے اور اپنے سوا کسی دوسرے شخص کے ماتحت بنا کر انہیں لڑائی کی آنچ سے گرم کر، کیونکہ اگر تو مدینہ سے باہر چلا گیا تو عرب کے قبیلے اطراف و اکناف سے ٹوٹ پڑیں گے، اس وقت پیچھے رہ جانے والی عورات سپاہ کی حفاظت تجھ پر اس شے سے مقدم ہوجائے گی۔ جو تیرے سامنے جنگِ فارس کہ موجود ہے اور دوم یہ امر ہے کہ جب ایرانی کل تجھ کو دیکھیں گے تو آپس میں یہی کہیں گے کہ پس یہی ان عربوں کا سردار ہے اگر تم نے اسے کانٹ چھانٹ دیا تو پھر راحت ہے۔ بیشک یہ اقوال تیری لڑائی پر انہیں حریص کر دیں گے وہ تیری گرفتاری کی حد سے بڑھی ہوئی طمع کریں گے الخ۔
(نیزنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ: صفحہ، 158 مطبع یوسفی دہلی)
سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ کے متعلق فرمایا:
سیدنا عمرؓ مسلمانوں کے حامی بنے، پس آپؓ نے دین کو قائم کیا اور خود سیدھے چلے یہاں تک کہ دین اپنی بنیاد پر مضبوطی سے قائم ہوگیا۔
(نہج البلاغہ: صفحہ، 952 فرمودہ نمبر: 467، فیض الاسلام، شرح نہج البلاغہ: صفحہ، 1300)
مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا عمرؓ کے شہروں میں برکت دے ، بیشک انہوں نے کجی کو سیدھا کیا، گمراہوں کو راہِ راست پر لائے اور بیماری کی دوا کی اور فتنوں سے پہلے چلے گئے اور سنت کو قائم کیا، فتنہ و تباہ کاری اور فساد کے امور کو پسِ پشت ڈال دیا، بالکل صاف اور بے عیب دنیا سے چلے گئے، خلافت کی خوبیاں حاصل کر گئے اور اس کے فتنہ اور فساد سے پہلے ہی چلے گئے، اور خلافت کو منظم طور پر سر انجام دیا اور اس میں کوئی خرابی اور خلل نہ آنے دیا اللہ کی فرمانبرداری کا حق ادا کیا اور اللہ سے پوری طرح ڈرتے رہے۔
(نہج البلاغہ: حصہ اول، خطبہ نمبر: 219، فیض الاسلام جلد، 4 صفحہ، 711، 712)
سیدنا محمد باقرؒ سیدنا جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کو غسل دے کر کفن پہنایا گیا تو اس وقت سیدنا علیؓ آئے اور انہوں نے فرمایا: ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو میرے نزدیک کوئی شخص اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں تو اس کفن پوش (سیدنا عمرؓ) جیسے اعمال نامے کے ساتھ ملاقات کروں۔
(معانی الاخبار: صفحہ، 412 تلخیص الشافی: صفحہ، 219)
سیدنا ابنِ عباسؓ سیدنا عمرؓ کے پاس ان پر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد حاضر ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم تمہارا اسلام عزت والا، تمہاری ہجرت فتح کی پیشِ خیمہ اور تمہاری ولایت سراسر عدل تھی، آقا کے وصال تک تمہیں آپﷺ کی صحبت نصیب رہی اور آپﷺ دنیا سے رخصت ہوتے وقت تم سے راضی ہوگئے پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی صحبت میں رہے تو وہ بھی خوشی راضی تم سے الوداع ہوئے، تم جب خلیفہ بنے تو پوری خلافت میں دو آدمی بھی آپؓ سے ناراض نہ ہوئے، یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا کیا آپؓ اس کی گواہی دیتے ہیں؟ سیدنا ابنِ عباسؓ خاموش ہوئے تو سیدنا علیؓ نے فرمایا ہاں! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 146 لابنِ ابی حدید)
سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ان کے انتظامات اور کارکردگی کی تعریف فرماتے ہیں اور ان کے لیے دعائے خیر و برکت بھی فرماتے ہیں۔
بطورِ مثال یہ جملہ ملاحظہ ہو!
وقال علیہ السلام فی کلام لہ وولیھم وال فاقام واستقام حتیٰ ضرب الدین بجیرانہِ۔ 
یہ نہج البلاغہ کی عبارت ہے۔ اس کی شرح کرتے ہوئے فیض الاسلام علی نقی نے لکھا ہے:
امام علیہ السلام درسخنی(دربارہ عمر بن خطابؓ) فرمودہ است و(بعد از ابوبکرؓ) فرمان رواشد بر مردم فرماندھی (عمرؓ بمقام خلافت نشست) پس (امرِ خلافت را) برپا داشت واپشادگی نمود (برہم تسلط یافت) تا آنکہ دین قرار گرفت (ہم چنانکہ شتر ہنگام استراحت پیش گردن خودرا بر زمین نہما اشارئہ باینکہ اسلام پس ازفتنہ و (فساد) بسیار ازا و تمکین نمودہ زیر بارش رفتند)
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے سیدنا عمر بن خطابؓ کے متعلق ارشاد فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ کے بعد لوگوں پر ایک ایسا فرما نروا خلافت پر مسند نشین ہوا جس نے امرِ خلافت کو قائم کیا اور اس پر ثابت قدمی دکھائی۔ یعنی تمام پر تسلط حاصل کیا۔ یہاں تک کہ دین مضبوط و مستحکم ہوگیا۔ جیسا کہ اونٹ آرام کرنے کے لیے اپنی گردن زمین پر رکھ دیتا ہے اور خود زمین پر بیٹھ جاتا ہے اس طرح دینِ اسلام زمین پر مستحکم طریقہ سے متمکن ہوگیا۔ پس مسلمان بہت سے فتنوں اور سازشوں کے بعد سکون پذیر ہوئے اور سیدنا عمرؓ کے احسان مند ہوئے۔
(فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ: صفحہ، 1290 مطبوعہ ایران)
اسی طرح نہج البلاغۃ کا خطبہ نمبر، 228 ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:
اللہ بلاد فلان فلقد قوم الاودو داوی العمدو اقام السنۃ وخلف الفتنۃ ذھب نقی الثوب قلیل الغیب اصاب خیرھا وسبق شرھا ادی الی اللہ طاعتہ واتقاہ بحقہ۔
شیعی مجتہد فیض الاسلام علی نقی اس خطبہ کی شرح فارسی میں کرتے ہوئے لکھا ہے:
صفحہ 10 از 20