مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 11 از 20
خدا شہرہائے فلاں (عمر بن خطابؓ) رابرکت دیدنگاہ دارد کہ کجی را راست (گمراہاں رابراہ آورو) نمود و بیماری رامعالجہ کرو (مردم شہرہائے رابدین اسلام گرداند) وسنت رابر پاداشت (احکام پیغمبررا اجرا نمود) وتباہ کاری راپشت سراند اخت (در زمان او فتنہ رونداد) پاک جامہ وکم عیب ازدنیا رفت نیکوئی خلافت رادریافت وازشرآں پیشی گرفت (تابوداد خلافت منظم بودہ واختلافی درآں راہ نیافت) طاعت خدا راجا آوردہ از نافرمانی او پرہیز کردہ حتشی را ادا نمودہ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فلاں شخص یعنی سیدنا عمر بن خطابؓ کے شہروں میں برکت دے اور ان کا تحفظ رکھے، جس نے کجی کو درست فرمایا گمراہوں کو راہِ راست پر لائے، بیماری کا علاج کیا شہر کے رہنے والوں کو مسلمان کیا، سنت طریقہ کو جاری فرمایا، یعنی احکامِ پیغمبر کو جاری فرمایا، فتنہ وتباہ کاری اور فساد کے امور کو پسِ پشت ڈال دیا، اس دریا سے پاک دامن اور کم عیب ہو کر رخصت ہوئے، اس نے خلافت کی خوبیوں کا پایا، اس کے شر سے پہلے ہی رخصت ہوگئے اور خلافت کو منظم طور پر سر انجام دیا، اور اس میں کوئی خرابی اور اختلال نہ آنے دیا۔ خدا تعالیٰ کی اطاعت بجالائے، اس کی نافرمانی سے دور رہے اور اس کے حق کو ادا فرمایا۔
(فیض السلام شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 711، 712، مطبوعہ ایران)
سیدنا امیرِ معاویہ نے کہا اے ابنِ عباس! سیدنا عمر بن خطاب کے بارے میں تو کیا کہتا ہے فرمایا سیدنا ابو حفص عمر پر خدا کی رحمت ہو، اللہ کی قسم وہ اسلام کے سچے خیرخواہ، یتیموں کے ماویٰ، احسان کے منتہیٰ، ایمان کے محل، ضعیفوں کی جائے پناہ اور سچے لوگوں کی پناہ گاہ تھے، اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر، صبر اور استقامت سے قائم رہے۔ یہاں تک کہ دین واضح ہوا، شہر فتح کئے، بندوں کو چین نصیب ہوا جو سیدنا فاروق اعظم میں نقص و خرابی نکالے اس پر اللہ تعالیٰ کی قیامت تک لعنت ہو۔ 
(مروج الذہب للمسعودی جلد، 3صفحہ، 51)
سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ کے داماد بھی ہیں کیونکہ آپؓ کی شہزادی سیدہ امِ کلثومؓ سیدنا عمرؓ کے نکاح میں تھیں۔
(فروع کافی جلد، 2صفحہ، 141، 311)
حضراتِ شیخین رضوان اللہ علیہم اجمعین:
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برحق ہیں لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کا مقام باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بلند ہے جیسا کہ ذیل کی عبارات شیعہ سے بھی واضع ترہورہا ہے چنانچہ ملاحظہ ہو!
حضور اکرمﷺ سے پوچھا گیا کہ مردوں میں سب سے زیادہ محبوب کسے رکھتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا سیدنا ابوبکرؓ پھر عرض کیا ان کے بعد کس کا مقام ہےتو فرمایا سیدنا عمر بن خطابؓ کا۔
(تاریخ روضۃ الصفاء جلد، 2صفحہ، 380)
حضور اکرمﷺ نے سیدہ حفصہؓ سے فرمایا کے میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت ملے گی ان کے بعد تمہارے والد سیدنا عمرؓ کو خلافت ملے گی انہوں نے عرض کیا حضور آپ کو کس نے بتایا؟ فرمایا اللہ علیم و خبیر نے۔ 
(تفسیر قمی: جلد، 2صفحہ، 392، تفسیر مجمع البیان: جلد، 10 صفحہ، 314، تفسیر صافی: جلد، 4صفحہ، 716، تفسیر منہج الصادقین: جلد، 9 صفحہ، 330)
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے انہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مجلس میں آتے وقت ارشاد فرمایا کہ انہیں سیدنا ابوبکر صدیق کو جنت اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری سنا دو اور سیدنا عمر فاروقؓ کو جنت اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد خلافت کی بشارت دو۔
(تلخیص الشافی جلد، 3 صفحہ، 39)
سیدنا ابوبکرصدیقؓ اور سیدنا عمرفاروقؓ زمین میں ایسے ہیں جیسے جبرائیل علیہ السلام و میکائیل علیہ السلام آسمان میں ہیں۔
(احتجاج طبرسی: صفحہ، 247)
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا سیدنا صدیق اکبرؓ اسلام میں سب سے افضل ہیں اور رسول اللہﷺ کے خلیفہ ہیں اور ان کے بعد خلیفہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ ہیں میری عمر اس بات کی گواہ ہے کہ دونوں اسلام میں عظیم مقام رکھتے ہیں، ان کے وصال سے اسلام کو سخت نقصان ہوا ہے اللہ ان دونوں پر رحمت فرمائے انہوں نے جو کام کیا ہے، اس کی اچھی جزاء دے۔
(شرح نہج البلاغہ جلد، 4 صفحہ، 362، مکتوب نمبر9 لابن میشم، وقعۃ الصفین: صفحہ، 63)
حضورﷺ کے بعد لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا اور سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنایا، یہ دونوں سیرت و کردار میں بلند پایہ انسان تھے۔ انہوں نےامت میں خوب انصاف کیا۔
(واقعۃ الصفین: صفحہ، 149)
وہ دونوں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ عادل اور پرہیزگار امام تھے دونوں حق پر رہے، حق پر ہی دونوں کا وصال ہوا، قیامت کے دن دونوں پر اللہ کی رحمت ہو۔
(احقاق الحق: صفحہ، 16، انوار نعمانیہ: جلد، 1 صفحہ، 99)
سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے تقویٰ و پرہیز گاری سے کام لیا، روئی کا لباس پہنا اور تکلیف دہ چیزوں کو پسند کرنے لگے، لوگوں پر مال غنیمت تقسیم کیا مگر خود دنیوی دولت سے دور ہوگئے اس لئے لوگوں کا شبہ تھا تو وہ بڑھ گیا چنانچہ وہ کہنے لگے اگر انہوں نے نفسانی خواہشوں سے نص کی مخالفت کی ہوتی تو دنیوی دولت سے بہرمند کیوں نہ ہوتے؟ کوئی بھی دانش مند آدمی جب نص کی مخالفت کرتا اور دین ضائع کرتا ہے تو دنیوی زندگی کو پر رونق بناتا ہے جب سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے دنیا سے ہی ہاتھ اٹھا لیا تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے نص کی مخالفت کی۔
(ناسخ التواریخ: جلد، 3 صفحہ، 72)
حضورﷺ نے فرمایا جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے کہتے ہیں کہ اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ تو انہیں کہا گیا اے ابوبکرؓ تم صدیق ہو اور غار میں دو میں سے دوسرے ہو، تو حضور سے دریافت کرو وہ تین کون ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے خطرہ ہے اگر میں نے پوچھا اور میں خود ان میں سے نہ ہوا تو بنی تمیم مجھے ملامت کریں گے پھر عمر بن خطاب آئے، ان سے بھی کہا گیا کہ تم فاروقؓ ہو اور تم وہ جن کی زبان پر فرشتہ بولتا ہے۔ مگر تم پوچھ کر بتاؤ وہ تین کون ہیں؟ تو فاروقؓ نے کہا مجھے خطرہ ہے کہ اگر میں پوچھ بیٹھا اور میں خود ان میں سے نہ ہوا تو بنی عدی مجھے ملامت کریں گے۔
(رجال الکشی: صفحہ، 32)
صفحہ 11 از 20