مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 12 از 20
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا میری قبر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کو باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے، جب حضورﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپﷺ کے پاؤں مبارک تیسری سیڑھی پر ہوتے تھے، سیدنا ابوبکرؓ تیسری سیڑھی پر بیٹھے اور پاؤں مبارک دوسری سیڑھی پر رکھتے اور سیدنا عمر فاروقؓ دوسری سیڑھی پر بیٹھے اور ان کے پاؤں زمین پر ہوتے۔
(ناسخ التواریخ: جلد، 2 صفحہ، 154، جلاء العیون: صفحہ، 158، فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 316)
جب معاملہ خلافت سیدنا علیؓ کے ہاتھ میں آیا تو آپؓ سے فدک کے لٹائے جانے کے بارے میں گفتگو ہوئی توآپ نے فرمایا اللہ کی قسم! مجھے اس چیز کے لوٹانے سے شرم آتی ہے جس کو سیدنا ابوبکرؓ نہیں لوٹایا سیدنا عمرؓ بھی ان کی پیروی کی۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 94 لابنِ ابی حدید)
سیدنا علیؓ کا ایک خطبہ ملاحظہ ہو!
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہِ خیرھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکرؓ و عمرؓ وفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعد ماانھی الیہ ان رجلا تناول ابابکرؓ و عمرؓ بالشتیمہ فدعی بہ وتقدم بعقوبتہِ بعد ان شھدوا علیہ بذلک 
(الشافی: جلد، 2 صفحہ، 428)
سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا نبی اکرمﷺ کے بعد تمام امت سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی شان میں بدزبانی کی ہے۔ جس کے بعد امیر المؤمنین سیدنا علیؓ نے اس گالی بکنے والے کو بلایا۔ شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو اسے سزا دی۔
سیدنا زین العابدینؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے کچھ کوفیوں نے آپ سے سیدنا ابوبکرؓ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:
دربارءہ ایشان جزبخیر سخن نکنم وازاہل خود نیز درحق ایشاں جزسخن خیزنہ شنیدہ ام۔
(ناسخ التواریخ: جلد، 2صفحہ، 590)
ان حضراتِ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے بارے میں سوائے کلمہ خیر کے کچھ نہیں کہتا اور اپنے گھر اور خاندان کے لوگوں سے بھی میں نے ان کے حق میں کلمہ حق کے سوا کچھ نہیں سنا۔
ایک قریشی نے سیدنا علیؓ سے عرض کیا کہ آپؓ اکثر خطبہ میں یہ کہتے ہیں اے اللہ! جس طرح تو نے خلفائے راشدین کی اصلاح فرمائی، ہماری بھی ویسی ہی اصلاح فرما۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آپؓ کیا مراد لیتے ہیں، یہ سنتے ہی آپؓ کی انکھیں بھرآئیں اور فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ وہ دونوں میرے حبیب اور تمہارے چچا ہیں، ہدایت کے امام، شیخ الاسلام، قریش کے نہایت معزز فرد اور رسول اللہﷺ کے بعد قابل اقتداء ہیں، ان کی اقتداء و اتباع کرنے والا مصئون اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے گا۔ 
(تلخیص الشافی: جلد، 3 صفحہ، 318)
سیدنا محمد باقرؒ فرماتے ہیں:
لست بمنکرفضل عمرؓ لکن ابابکرؓ افضل من عمر۔
(احتجاج طبرسی: جلد، 2 صفحہ، 479 مطبوعہ ایران)
میں سیدنا عمرؓ فضیلت کا منکر نہیں ہوں، لیکن سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓسے افضل ہیں۔
سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے:
انہ کان یتولا ھما و یاتی القبر فیسلم علیھما مع تسلیمہ علی رسول اللہﷺ‎۔
(الشافی: صفحہ، 238)
سیدنا جعفر صادقؒ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ کے ساتھ دوستی اور محبت رکھتے تھے، آپ جب رسول اللہﷺ‎ کی قبر شریف پر حاضری دیتے تو رسول اللہﷺ‎ کے سلام کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ دونوں کو بھی سلام کہتے تھے۔
شیعہ حضرات کی معتبر کتاب میں موجود ہے: سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض کفر ہے۔
(رجال الکشی: صفحہ، 338)
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: اگر میرے پاس کوئی آدمی آئے اور مجھے سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو افضل سمجھتے تو میں اسے ضرور مفتری بہتان تراشی کی سزا 80 کوڑے ماروں گا۔ 
(رجال الکشی: جلد، 2 صفحہ، 695)
خلیفہ ثالث سیدنا عثمانِ غنیؓ
شیعہ سیدنا عثمان غنیؓ پر بے تنقیدات کا بازار گرم کر دیتے ہیں جب کہ آپؓ کا فضل و کمال نا قابلِ تروید ہے، کتبِ شیعہ سے چند حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
اے اللہ! عثمان بن عفانؓ سے راضی ہو جا، بے شک میں اس سے راضی ہوں۔
(تاریخ روضتہ الصفاء: جلد، 3 صفحہ، 403)
سیدہ امِ کلثومؓ کا نام شریف آمنہ تھا، سیدہ رقیہؓ کے بعد ان کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے ہوا، لہٰذا سیدنا عثمانؓ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہتے ہیں۔ 
(منتخب التواریخ: صفحہ، 29، شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 460 لابنِ ابی حدید)
سیدنا علیؓ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا عثمانِ غنیؓ کے اوصاف و فضائل میں یہ بھی فرمایا کہ آپؓ رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے جس طرح ہم رہے اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ بھی عمل حق میں آپؓ سے ادنیٰ نہ تھے، آپؓ کوان دونوں سے بڑھ کر نبی اکرمﷺ کا داماد ہونے کی عزت حاصل ہے جو ان حضرات کونہ تھی۔
(نہج البلاغہ: صفحہ، 220 خطبہ، 164)
سیدنا جعفر صادقؒ سے پوچھا گیا کہ کیا حضورﷺ نے اپنی صاحبزادی کو سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں دیا تھا؟ آپؒ نے فرمایا: ہاں۔
(حیات القلوب: جلد، 2صفحہ، 563)
سیدہ رقیہؓ کی بیماری کی وجہ سے سیدنا عثمانؓ غزوہِ بدر میں شریک نہ ہوئے لیکن حضورﷺ نے انہیں بدر کے اجر و ثواب میں شریک فرمالیا تھا۔
( التنبہ والا شراف: جلد، 205 اعلام الوریٰ: صفحہ، 148)
سیدنا عثمانؓ قرابت کے اعتبار سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی نسبت حضورﷺ کے زیادہ قریب ہیں پھر انہوں نے دامادِ رسول ہونے کے حوالے سے وہ مرتبہ حاصل کیا جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو نہ مل سکا۔ سیدہ رقیہؓ سیدہ امِ کلثومؓ سے شادی کی جو مشہور روایت کے مطابق حضورﷺ کی صاحبزادیاں ہیں پہلے سیدہ رقیہؓ سے شادی فرمائی، ان کے انتقال کے بعد سیدہ امِ کلثومؓ سے ان کا نکاح ہوا۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 716، فیض الاسلام، شرح نہج الابلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 519)
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو بھی میں یکے بعد دیگر سے ان کی شادی سیدنا عثمانؓ سے کر دیتا یہاں تک کہ ایک بھی باقی نہ رہتی۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 460 لابنِ ابی حدید)
صفحہ 12 از 20