مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 13 از 20
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: حضورﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے ابوالحسن! ابھی ابھی جاؤ اور اپنی زرہ بیچ کر جوقیمت ملےمیرے پاس لے آؤ تا کہ میں اس سے تمہارے لئے اور اپنی بیٹی کے لئے شادی کا ضروری سامان تیار کروں میں گیا اور چار سو درہم کے بدلے وہ زرہ سیدنا عثمانؓ کے ہاتھ فروخت کر دی جب میں نے قیمت وصول کرلی اور سیدنا عثمانؓ نے زرہ پر قبضہ کرلیا تو سیدنا عثمانؓ نے کہا اے ابوالحسنؓ! میں اس زرہ کا تم سے زیادہ مستحق نہیں اور تم ان درہموں کے مجھ سے زیادہ مستحق ہو، تو میں نے کہا ہاں ٹھیک کہتے ہو، سیدنا عثمانؓ نے کہا کہ میں یہ زرہ تم کو بطورِ ہدیہ دیتا ہوں، میں درہم اور زرہ دونوں لے کر حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، درہم اور زرہ آپﷺ کے سامنے رکھ کر سیدنا عثمانؓ کا سارا واقعہ بیان کر دیا تو آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
(کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 359)
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
امرنی ان ازوج فاطمۃؓ نم علی فانطلق فادع لی ابابکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ وعلیاؓ و طلحۃؓ و الزبیرؓ بعد دھم من الانصار قال فانطلقت فدعوتھم لہ۔
ترجمہ: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فاطمہؓ کا نکاح علیؓ سے کر دوں پس تم جاؤ اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ و سیدنا علیؓ سیدنا طلحہٰؓ، سیدنا زبیرؓ اور اتنے ہی انصار میں سے بلاؤ۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں میں ان کو بلانے کے لیے گیا، پھر آپﷺ نے محفل میں خطبہ نکاح پڑھا اس کے بعد فرمایا:
انی اشھد کم انی قد زوجت فاطمۃؓ من علیؓ علی اربع مائمۃ مثقال فضۃ۔
ترجمہ: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فاطمہؓ کا نکاح علیؓ سے چار سو مثقال چاندی حق مہر کے عوض سے کر دیا ہے۔
(کشف الغمہ: صفحہ، 348)
جب مشرکین نے سیدنا عثمانؓ کو گرفتار کر لیا تو حضورﷺ کو خبر ملی کہ انہوں نے سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ہم مشرکین سے لڑائی کئے بغیر یہاں سے نہیں اُٹھیں گے۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 716)
ایک روایت میں ہے: حضورﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک دوسرے ہاتھ مبارک پر مارا اور سیدنا عثمانؓ کے لئے بیعت لی اور مسلمانوں نے کہا کی سیدنا عثمانؓ بڑے خوش نصیب ہیں۔
(فروع کافی کتاب الروضہ: جلد، 3 صفحہ، 151)
سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ سے کہا بے شک میرے پیچھے ہیں جو مجھے آپؓ کے اور اپنے درمیان سفیر بنا کر لائے ہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میں آپؓ کو کیا کہوں؟ میں ایسی کوئی بات نہیں جانتا جسے آپؓ نہ جانتے ہوں اور آپؓ کو کوئی ایسا امر نہیں پہنچا سکتا جسے آپؓ نہ پہچانتے ہوں ہم نے کسی چیز میں آپؓ سے سبقت نہیں لی، جس سے آپؓ کو خبردار کریں جو کچھ ہم نے دیکھا وہی کچھ آپؓ نے دیکھا، جو کچھ ہم نے سنا وہی کچھ آپؓ نے سنا، جیسی ہم نے رسول اللہﷺ کی صحبت اختیار کی ویسی آپؓ نے اختیار کی، سیدنا ابنِ خطابؓ اور سیدنا ابنِ ابوقحافہؓ عمل حق میں آپؓ سے افضل نہیں ہیں، آپؓ رسول اللہﷺ سے قرابت کی وجہ سے زیادہ ہیں اور آپؓ پیغمبر کی دامادی کے شرف سے مشرف ہیں، یہ وہ مرتبہ ہے جس پر وہ دونوں نہ پہنچ سکے۔ 
(نہج البلاغہ: حصہ اول: خطبہ، 163)
سیدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں:
لما قتل جعلنی سادس ستۃ فدخلت حیث ادخلنی وکرھت ان افرق جماعۃ المسلمین واشق عصاھم فبایعتم عثمان فبایعتہ۔ 
(امالی لابی جعفر الطوسی جلد، 2صفحہ، 121 جزء ثامن عشر)
ترجمہ: جب سیدنا عمر فاروقؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے مجلسِ شوریٰ کے چھ آدمیوں میں چھٹا مجھے مقرر کیا، تو میں ان کے شامل کرنے پر ان میں شریک ہوگیا اور میں نے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق کو مکروہ جانا اور اتفاق کی لاٹھی کو توڑنا برا سمجھا، پس تم نے سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی تو میں نے بھی ان کی بیعت کر لی۔
پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی طرف چلے گئے اور ان کی بیعت کی۔
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 2 صفحہ، 617 لابنِ ابی حدید)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ الخ۔
(سورۃ الفتح: آیت، 18)
اس کا ترجمہ شیعہ حضرات کے بشارت حسین مرزا کامل پوری نے یوں کیا ہے:
ترجمہ: بے شک خدا ان مؤمنین سے راضی و خوش ہوا جنہوں نے اے رسول! درخت کے نیچے تم سے بیعت کی۔
اس آیت شریف کی تفسیر کرتے ہوئے شیعہ حضرات کے مستند مفسرین نے لکھا ہے کہ سرکار نبی پاکﷺ نے سیدنا عثمانؓ کے لیے جب بیعت لی تو سب سے پہلے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بیعت کی۔ ملاحظہ ہو! کتب علی علیہ السلام الی معاویۃؓ انا اول من بایع رسول اللہﷺ تحت الشجرۃ۔
(تفسیر الصافی: جلد، 2 صفحہ، 582 مطبوعہ ایران)
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو خط لکھا کہ درخت کے نیچے رسول اللہﷺ کے ہاتھ مبارک پر بیعت کرنے والوں میں سے میں پہلا شخص ہوں۔
یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو:
حبس عثمانؓ فی عسکر المشرکین وبایع رسول اللہﷺ وضرب باحدیٰ یدیہ علی الاخریٰ بعثمانؓ وقال المسلمون طوبی لعثمانؓ قد طاف بالبیت وسعی من الصفا والمروۃ واحل قال رسول اللہﷺ اطفت بالبیت فقال ماکنت لاطوف بالبیت ورسول اللہﷺ لم یطف بہ۔
(کتاب الروضہ جلد، 8 صفحہ، 325، 326 مطبوعہ ایران)
سیدنا عثمانؓ کو مشرکین کے لشکر نے قیدی بنا لیا، تو رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک دوسرے ہاتھ مبارک پر مارا، اور سیدنا عثمانؓ کے لیے بیعت لی، اور مسلمانوں نے عرض کیا، سیدنا عثمانؓ بڑے خوش قسمت ہیں جنہوں نے بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی کی سعادت حاصل کی اور احلال کیا، تو رسول اللہﷺ نے ان کو فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔ جب سیدنا عثمانؓ حاضر ہوئے تو رسول اللہﷺ نے ان سے پوچھا کیا آپؓ نے بیعت اللہ کا طواف کیا تو انہوں نے عرض کیا جب رسول اللہﷺ نے طواف نہیں کیا تو میں کیسے کرسکتا ہوں۔
یہی مضمون شیعوں کی کتاب حملہ حیدری: صفحہ، 119 پر بھی موجود ہے۔
شہادت سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا علیؓ ان کے گھر غمزوہ داخل ہوئے اور اپنے دونوں بیٹوں کو فرمایا کہ تم دونوں دروازے پر تھے، ایسے میں امیرالمؤمنینؓ کیسے شہید ہوگئے اس کے بعد سیدنا حسنؓ کے منہ پر طمانچہ مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینہ پر مکہ رسید کیا۔ 
صفحہ 13 از 20