مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 14 از 20
(مروج الذہب: صفحہ، 345)
سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا کہ سیدنا عثمانؓ پر اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرمائے آپؓ اپنے خادموں اور غلاموں پر مہربان تھے نیکی کرنے والوں میں افضل، شب خیر و شب زندہ دار تھے، دوزخ کے ذکر پر نہایت گریہ کرنے والے عزت و وقار کے امور میں اُٹھ کھڑے ہونے والے اور نبی کریمﷺ کے داماد تھے،جو شخص سیدنا عثمانِ غنیؓ کے بارے میں زبان لعن وطعن دراز کرے اللہ تعالیٰ اس پر قیامت تک لعنت کرے ، سب لعنت کرنے والوں کی لعنت کے برابر۔
(تاریخ مسعودی: جلد، 3 صفحہ، 51، ناسخ التواریخ: جلد، 5 صفحہ، 144)
سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا بنی عباس کا اختلاف بھی یقینی ہے اور ندا بھی ہقینی ہے، محمد بن علی حلبی نے پوچھا کہ ندا کیسی ہے؟ فرمایا ایک آواز دینے والا دن کے آغاز پر آسمان سے ندا کرتا ہےکہ جان لو بے شک سیدنا علیؓ اور ان کے پیروکار ہی کامیاب ہیں اور دن کے اختتام پر بھی ایک ندا دینے والا ندا کرتا ہے، کہ خبردار سیدنا عثمانؓ اور ان کے پیروکار کامیاب ہیں۔(کتاب الروضہ: جلد، 8 صفحہ، 310)
حضرات خلفائے ثلاثہؓ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ: 
یہ حقیقت ناقابلِ تروید ہے کہ اس امت میں سب سے افضل سیدنا صدیقِ اکبرؓ، پھر سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ اور پھر سیدنا علیؓ ہیں اس حقیقت کو کتب شیعہ سے بھی نمایاں ہوتا دیکھیں:
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک سیدنا ابوبکرؓ میرے کان، سیدنا عمرؓ میری آنکھ اور سیدنا عثمانؓ میرے دل کی جگہ ہے۔
(معانی الاخبار: صفحہ، 387، جامع الاخبار: صفحہ، 110)
اُمت میں جس نے مجھے لڑکی دی یا جس کو میں نے دی وہ دوزخ میں ہرگز نہ جائے گا، کیونکہ میں نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا تو اللہ نے مجھ سے اس کا وعدہ فرمالیا ہے۔
(لوامع التنزیل: جلد، 2 صفحہ، 476)
حضورﷺ نے سیدہ حفصہؓ کو فرمایا میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور اس کے بعد تیرا باپ سیدنا عمرؓ اس امت کے مالک اور بادشاہ ہوں گے اور ان کی اتباع میں سیدنا عثمانِ غنیؓ خلیفہ ہوں گے۔
( تفسیرمنہج الصدقین: جلد، 9 صفحہ، 330)
اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے لئے مسلمانوں میں سے ایک معاون اور مددگار جماعت منتخب فرمائی تھی اور ان معاونین کے آپ کے نزدیک ایسے ہی درجات تھے جیسے اسلام میں ان کی فضیلت تھی، ان سب میں اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ خیرخواہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکرؓ تھے پھر ان کے خلیفہ سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ مجھے اپنی سیدنا عمرؓ کی قسم! ان دونوں حضرات کا اسلام میں بہت اونچا مقام ہے، اللہ انہیں غریقِ رحمت فرمائے اور انہیں اچھی جزا سے نوازے اور تم نے سیدنا عثمانؓ کا ذکر کیا کہ وہ فضیلت میں تیسرے درجے پر تھے۔ سیدنا عثمانؓ نیک و کار تھے تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کی بہت جلد جزا عطا فرمائے گا۔ 
(واقعہ صفین: صفحہ، 63)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے افضل اللہ اور مسلمانوں کے نزدیک سب سے رفیع المنزلت خلیفہ اول سیدنا ابوبکرؓ تھے جنہوں نے سب کو ایک آواز پر جمع کیا اور انتشار کومٹایا اور اہلِ ردہ دین سے پھرجانے والوں سے جنگ و قتال کیا، ان کے بعد خلیفہ ثانی سیدنا عمرؓ کا درجہ ہے، جنہوں نے فتوحات حاصل کیں، شہروں کو آباد کیا اور مشرکین کی گردنوں کو ذلیل کیا پھر خلیفہ ثالث سیدنا عثمانؓ کا درجہ ہے، جو مظلوم و ستم رسیدہ تھے اور ملت کو فروغ دیا اور کلمہ حق پھیلایا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 448 لابنِ ابی حدید: حاشیہ نہج البلاغہ: صفحہ، 697)
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں میری بیعت ان لوگوں نے کی ہے، جن لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی تھی اور مقصد بیعت بھی وہی تھا جو ان کا تھا لہٰذا موجودہ حضرات میں کسی کو علیحدگی کا اختیار نہیں اور نہ غائب لوگوں کو اس کی تردید کی اجازت ہے، مشورہ مہاجرین اور انصار کو ہی شایانِ شان ہے تو اگر یہ سب کسی شخص کے خلیفہ بنانے پر متفق ہو جائیں تو یہ سب اللہ کی رضا ہوگی اور اگر ان کے حکم سے کسی نے بوجہ طعن یا بدعت کی خروج کیا تو اسے واپس لوٹا دواگر واپسی سے انکار کرے تو اس سے قتال کرو، کیونکہ اس صورت میں وہ مسلمانوں کی اجتماعی فیصلوں کو ٹھکرانے والا ہے اور اللہ نے اسے متوجہ کردیا جدھروہ خود جانا چاہتا ہے۔ 
(نہج البلاغہ: حصہ دوم ، مکتوب 6، الاخبار الطوال: صفحہ، 140)
بیشک سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ نے حدود کے فیصلے سیدنا علیؓ کے سپرد کر رکھے تھے۔(جعفریات: صفحہ، 133)
سیدنا زین العابدینؒ کے پاس ایک وفد آیا تو انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے تو سیدنا زین العابدینؒ نے فرمایا: میرے سامنے سے دور ہو جاؤ اور اللہ تمہاری بد کلامی کی تمہیں سزا دے۔
(کشف الغمہ: جلد، 2 صفحہ، 78، جلاء العیون: جلد، 1 صفحہ، 393)
سیدنا علیؓ نے فرمایا جو مجھے چوتھا خلیفہ نہ کہے اس پر اللہ کی لعنت۔ 
(مجمع الفضائل ترجمہ مناقب ابنِ شہر آشوب: جلد، 2 صفحہ، 376، مناقب آل ابی طالب: جلد، 3 صفحہ، 63)
اس جملے میں بھی سیدنا علیؓ نے حضراتِ خلفائے راشدینِ ثلاثہؓ کی خلافت، صداقت اور حقانیت کو واضح فرما دیا ہے والحمدللہ علی ذلک
اللہ تعالیٰ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی محبت کے دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ آپؓ کے اقوال و افعال اور فیصلہ جات کو بھی ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
علی دا پہلا نمبر کہنے والے کا حکم:
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ سے افضل ہیں اور ان کا خلافت میں پہلا نمبر ہے ان کے متعلق سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:
اگر میرے پاس کوئی آدمی آئے اور مجھے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے افضل سمجھے تو میں اسے ضرور متفری (بہتان تراش) کی سزا (80 کوڑے) ماروں گا۔
(رجال الکشی: جلد، 2 صفحہ، 695)
آپؓ نے مذید فرمایا:
صفحہ 14 از 20