مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 15 از 20
عنقریب میرے بارے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے، ایک محبت میں حد سے تجاوز کرنے والا کہ اسے غلو (حد سے بڑھنا) حق کے خلاف لے جائےگا۔ دوسرا گروہ میرے بارے میں بغض و عناد میں حد سے بڑھنے والا کہ اس کا بغض اسے حق کے خلاف لے جائے گا اور میرے بارے میں سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جو اعتدال پر ہوں تو تم بھی میانہ راہ کو لازم پکڑو اور سواد اعظم سے جدا نہ ہونا، پس جو جماعت سے الگ ہو جاتا ہے وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے جیسے گلے (ریوڑ) سے جدا ہونے والی بکری بھیڑیے کا لقمہ بنتی ہے۔
(نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 365، خطبہ نمبر، 125)
سیدنا علیؓ نے فرمایا: جو مجھے چوتھا خلیفہ نہ کہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 
(مجمع الفضائل ترجمہ مناقب شہر آشوب: جلد، 2 صفحہ، 376، عربی: جلد، 3 صفحہ، 63، مناقب آل ابی طالب: جلد، 3 صفحہ، 63)
سیدنا باقرؒ سے عرض کیا گیا لیس لک من الامر شئی کی کیا تاویل ہے؟ فرمایا: حضورﷺ سیدنا علیؓ کے لیے خلیفہ بلافصل کے خواہش مند تھے لیکن اللہ نے اس خواہش کا انکار فرما دیا۔ 
(تفسیر فرات الکوفی: صفحہ، 192)
ایک روایت میں لکھا ہے:
ان علیا علیہ السلام قال فی خطبتہِ خیرھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکرؓ و عمرؓ وفی بعض الاخبار انہ علیہ السلام خطب بذلک بعدما انھی الیہ ان رجلا تناول ابابکرؓ و عمرؓ بالشتیمہ فدعیٰ بہ و تقدم بعقوتبہ بعد ان شھدوا علیہ بذلک۔
(الشافی: جلد، 2 صفحہ، 428)
سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: نبی اکرمﷺ کے بعد تمام امت سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہیں۔ بعض روایتوں میں واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ سیدنا علیؓ کی خدمت میں اطلاع پہنچی کہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی شان میں بد زبانی کی ہے جس کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ نے اس گالی بکنے والے کو بلایا شہادت طلب کی اور شہادت کے بعد جب گالی دینا ثابت ہوگیا تو اسے سزا دی۔
اسی کتاب الشافی کے اسی صفحہ پر سیدنا زین العابدینؒ کی روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو سیدنا ابوسفیانؓ سیدنا علیؓ کے پاس آئے اور کہا کہ ہاتھ بڑھائیں میں آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور بخدا میں آپؓ کی حمایت میں اس علاقہ کو سواروں اور پیدل سپاہیوں سے بھر دوں گا اگر آپؓ خوف کے باعث اعلان خلافت نہیں کر رہے ہیں یہ سن کر سیدنا علیؓ نے چہرہ پھیر لیا، اور فرمایا:
ویحک یا اباسفیانؓ ھٰذہِ من دواھیک قد اجتمع الناس علی ابی بکرؓ مازلت تبتغی الاسلام عوجافی الجاھلیۃ والاسلام واللہ ماضر الاسلام ذلک شیئا مازلت صاحب الفتنۃ۔
(الشافی: جلد، 2 صفحہ، 428)
ترجمہ: سیدنا ابوسفیانؓ تیرے لیے سخت افسوس ہے، یہ سب تیری چالوں اور مصیبتوں سے ہیں، حالانکہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجتماعی متفقہ فیصلہ ہو چکا، تو کفر اور اسلام میں ہمیشہ فتنہ اور کج روی کا متلاشی رہا ہے۔ بخدا اس سے اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا اور ہمیشہ فتہ گرہی رہے گا۔
امُ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ:
امُ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے بلاوجہ دشمنی رکھنے والوں کو اپنی کتابوں کی ان روایتوں پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ:
سیدنا عمرو بن عاصؓ نے حضورﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہﷺ‎ تمام مخلوقات میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا عائشہؓ پھر پوچھا حضور میرا سوال مردوں کے متعلق ہے۔ آپﷺ‎ نے فرمایا سیدنا ابوبکر صدیقؓ، ان کے بعد سیدنا عمرؓ۔
(تاریخ روضۃ الصفاء: جلد، 2 صفحہ، 380)
سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے عائشہؓ! اللہ نے تیرے شیطان کو ذلیل کر دیا تو وہ عرض کرنے لگیں حضورﷺ‎ آپ کے شیطان کو بھی اللہ نے ذلیل کردیا فرمایا اے عائشہؓ ایسے نہ کہو، میں نے اللہ سے اس کے خلاف مدد چاہی اللہ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہوگیا۔ ابیصر اس کا نام ہے اور وہ جنتی ہوگا۔
(قرب الاسناد: جلد، 2 صفحہ، 176)
سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں:
مرد نماز پڑھنے والے کے بالمقابل اگر عورت نماز پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ بعض اوقات اس طرح نماز ادا فرماتے تھے کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ آپﷺ‎ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں اور وہ حالت حیض میں ہوتیں۔
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد، 1 صفحہ، 159)
حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو فرمایا:
فاطمہؓ کھانا لے آؤ سیدہ فاطمہؓ پتھر کی ایک ہنڈیا اور کھانا لئے حاضر ہوگئیں، کھانے کو ڈھانپ دیا گیا اور آپﷺ‎ نے دعا مانگی اے اللہ! کھانے میں ہمیں برکت عطا فرما، پھر فرمایا بیٹی! عائشہؓ کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا توڑو میں نے توڑا پھر تمام ازواج کے لیے اور اپنے خاوند اور اپنے لئے ٹکڑے توڑے۔
(قرب الاسناد: صفحہ، 185)
حضور اکرمﷺ کی اولاد امجادؓ:
کہا جاتا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی، جب کہ اہلِ بیتِ کرامؓ کا مؤقف یہ ہے کہ آپﷺ‎ کی حقیقی بیٹیاں چار ہیں سطورذیل میں چند شیعی روایات ملاحظہ ہوں!
سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے بطن سے رسول اللہﷺ کی یہ اولاد پیدا ہوئی! سیدنا قاسمؓ سیدنا طاہرؓ انہی کا نام عبداللہ ہے۔ سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ، سیدہ زینبؓ اور سیدہ فاطمہؓ، سیدنا علیؓ بن ابوطالب نے سیدہ فاطمہؓ سے شادی کی۔ سیدنا ابوالعاص بن ربیعؓ جو کہ بنوامیہ کے ایک آدمی ہیں نے سیدہ زینبؓ سے نکاح کیا سیدہ امِ کلثومؓ سے سیدنا عثمان بن عفانؓ نے تعلق زوجیت قائم کیا، لیکن وہ خانہ آبادی سے پہلے ہی وفات پاگئیں جب مسلمان جنگ بدرکی طرف روانہ ہوئے تو رسول اللہﷺ نے سیدہ رقیہؓ کی شادی سیدنا عثمانؓ سے کر دی اور رسول اللہﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیمؓ، سیدہ ماریہ قبطیہؓ سے پیدا ہوئے۔ 
(مراۃ العقول فی تشریح اخبارآل رسول: جلد، 5 صفحہ، 180، کتاب الحجہ، ابواب التاریخ باب مولد النبی لملا باقر مجلسی طبع دارالکتب الاسلامیہ تہران)
ملا باقر مجلسی نے یہی روایت حیاۃ القلوب: جلد، 2 صفحہ، 588، کتاب دوم، باب(51) پنجاہ ویکم دربیان اولاد امجاد آنحضرت است ، طبع قدیم کتاب فروشی اسلام، تہران پر بھی نقل کی ہیں۔
صفحہ 15 از 20