مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 16 از 20
مزید لکھتے ہیں: اسی سیدنا جعفرصادقؒ کی روایت کی طرح حمیدی نے قرب الاسناد میں ہارون بن مسلم سے بروایت سعدہ بن صدقہ، سیدنا جعفر صادقؒ سے اورانہوں نے اپنے والد گرامی سیدنا باقرؒ سے روایت کیا ہے۔
(مراۃ العقول: جلد، 5 صفحہ، 180)
عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کان رسول اللہﷺ ابا بنات۔
 (فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 256، کتاب الفقیہ، نولکشور)
ابوعبداللہؒ نے فرمایا رسول اللہﷺ ایک سے زائد بیٹوں کے باپ تھے۔
معلوم ہوا سیدنا باقرؒ اور سیدنا جعفر صادقؒ دونوں کا یہی مؤقف ہے کہ حضور اکرمﷺ کی چار بیٹیاں ہیں۔ لہٰذاحُب اہلِ بیتؓ کے نعرے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتؓ کے مؤقف اور فتوے کو بھی تسلیم کرنا چاہیئے۔
سیدہ رقیہؓ بنتِ رسول اللہﷺ کی بیماری کی وجہ سے سیدنا عثمانؓ غزوہِ بدر میں شریک نہ ہوئے لیکن حضورﷺ نے انہیں بدر کے اجر وثواب میں شریک فرما لیا تھا۔
(التنبہ والا شراف: صفحہ، 205، اعلام الوریٰ: صفحہ، 148)
سیدنا عثمانِ غنیؓ قرابت کے اعتبار سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی نسبتﷺ کے زیادہ قریب ہیں پھر انہوں نے دامادِ رسول ہونے کے حوالے سے وہ مرتبہ حاصل کیا جو سیدنا ابوبکرؓ . سیدنا عمرؓ کو نہ مل سکا۔ سیدہ رقیہؓ و سیدہ امِ کلثومؓ سے شادی کی جو مشہور روایت کے مطابق حضورﷺ کی صاحبزادیاں ہیں پہلے سیدہ رقیہؓ سے شادی فرمائی ، ان کے انتقال کے بعد سیدہ امِ کلثومؓ سے ان کا نکاح ہوا۔ 
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 716، فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 519)
سیدہ امِ کلثومؓ کا نام شریف آمنہ تھا، سیدہ رقیہؓ کے بعد ان کا نکاح سیدنا عثمانؓ سے ہوا، لہٰذا سیدنا عثمانؓ کو ذالنورین یعنی دو نوروں والا کہتے ہیں۔ 
(منتخب التواریخ: جلد، 29، شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 460 لابنِ ابی حدید)
 سیدنا باقرؒ و سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں:
نبی پاک کی اولاد سیدنا طاہرؓ و سیدنا قاسمؓ اور سیدہ فاطمہؓ، اور سیدہ امِ کلثومؓ سیدہ رقیہؓ، سیدہ زینبؓ سبہی سیدہ خدیجہؓ سے پیدا ہوئی۔
(منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 125 فصل ہشتم، باب اول، مروج الذہب: جلد، 2 صفحہ، 291 ،قرب الاسناد: صفحہ، 8 ،خصاص لابن بابویہ جلد، 2 صفحہ، 37)
حضورﷺنے فرمایا: بے شک سیدہ خدیجہؓ نے میری پشت سے دو بیٹے جنے، سیدنا طاہرؓ جس کا نام عبداللہ ہے اور مطہرہے اور میری پشت سے سیدنا قاسمؓ جنا اور سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ رقیہؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ زینبؓ کو۔(خصال: جلد، 2 صفحہ، 27 لابنِ بابویہ)
قاعدہ: حضورﷺ کی اولاد امجاد کے بارے میں مزید حوالہ جات درج زیل ہیں:
(اصول کافی: جلد، 2 صفحہ، 435، فروع کافی: جلد، 2 صفحہ، 156 جلد، 2صفحہ، 6، تہذیب الاحکام: جلد، 8 صفحہ، 161، الاستبصار: جلد، 1 صفحہ، 245، تلخیص الشافی: جلد، 4 صفحہ، 54 بحار الانوار: جلد، 22 صفحہ، 166، حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 107 باب 51 پنجاہ ویکم، مراُۃ العقول: جلد، 5 صفحہ، 180، ناسخ التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 164 انوارِ نعمانیہ: جلد، 1 صفحہ، 366، تحفۃ العوام: جلد، 17 صفحہ، 113، منتخب التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 24، مروج الذہب: جلد، 2 صفحہ، 291، نہج البلاغہ: صفحہ، 220، خطبہ نمبر، 164، شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 460 لابنِ ابی حدید)
سیدنا امیرِ معاویہؓ:
سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خلاف نہایت ہی نامناسب انداز اختیار کیا جاتا ہے جب کہ درج ذیل شیعی روایات پر غور و فکرکرنے سے آپؓ کی شان و فضیلت روز روشن کی طرح واضح دکھائی دیتی ہے مثلاؐ: سیدنا حسنؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ حق میں ان لوگوں سے بہتر ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تیرے شیعہ ہیں مگر انہوں نے مجھے مارڈالنے کا ارادہ کیا، میرا اثاثہ لوٹ لیا اور میرا مال چھین لیا خدا کی قسم! اگر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے عہد کر لوں جس سے میرا خون بچ جائے اور میرے گھر والے لوگ امن حاصل کرلیں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ شیعہ مجھے مار ڈالیں اور میرا گھرانہ برباد ہو جائے، خدا کی قسم! اگر میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے جنگ کروں تو یہی شیعہ میری گردن دبوچ کر مجھے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سپرد کر دیں۔ 
(ناسخ التواریخ: جلد، 1 صفحہ، 213 احتجاج طبرسی: جلد، 2 صفحہ، 10)
سیدنا حسنؓ نے فرمایا: تحقیق ہم بیعت کر چکے اور باہمی عہد کر چکے۔ لہٰذا ہمارے اس بیعت توڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
(الاخبارالطوال: صفحہ، 220)
سیدنا حسینؓ نے فرمایا:
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں وہ عہد توڑوں جو میرے بھائی سیدنا حسنؓ نے آپؓ (سیدنا امیرِ معاویہؓ) سے کیا تھا۔
 (مقتل ابی مخنف: صفحہ، 6)
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہے، رسول ایک ہے، دعوت اسلام ایک ہے ہم خدا پر ایمان لانے، اس کے رسول کی تصدیق کرنے میں ان پر کسی فضیلت کے خواہاں نہیں، نہ وہ ہم پر فضل و زیادتی کے طلبگار ہیں، ہماری حالتیں بالکل یکساں ہیں۔ 
(نیرنگ فصاحت ترجمہ نہج البلاغہ: صفحہ، 363)
سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:
نہ تو ہم ان (سیدنا امیرِ معاویہؓ) سے اس لئے لڑے کہ وہ ہمیں کافر کہتے تھے اور نہ ہم ان سے اس لئے لڑے کہ ہم ان کو کافر سمجھتے ہیں بلکہ (ایک بات تھی جس میں) ہم سمجھتے تھے کہ ہم حق پر ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں۔
(قرب الاسناد: صفحہ، 45)
آپ نے اپنے تمام حکام کو ایک "وضاحت نامہ" لکھ کر بھیجا کہ یہ بات ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے۔ نبی ایک ہے، دعوت اسلام ایک ہے، نہ ہم اللہ پر ایمان لانے اور رسول کی تصدیق کرنے میں ان سے کسی بڑائی کے دعویدار ہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں وہ ہم پر کچھ بڑائی جتاتے ہیں۔ ہمارا معاملہ بالکل ایک جیسا ہے اور اصل اختلاف تو صرف"خونِ سیدنا عثمانؓ" کے متعلق پیدا ہوا ہے (اور ہمارا مؤقف ہے کہ) ہم اس سے بری ہیں۔ 
(نہج البلاغہ: صفحہ، 228، مترجم)
سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی نہ صرف یہ کہ خود بیعت کی بلکہ اپنے چھوٹے بھائی سیدنا حسینؓ کو بھی حکم فرمایا کہ اے حسینؓ! اٹھو اور ان کی بیعت کرو، بے شک وہ میرا امام اور میرا امیر ہے تو سیدنا حسینؓ اور سیدنا قیسؓ نے بھی بیعت کر لی۔(رجال کشی: جلد، 2 صفحہ، 325 جلاء العیون: صفحہ، 260)
صفحہ 16 از 20