مسلک اہل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مسلک اہل بیت

  غلام مرتضٰی ساقی مجددی

صفحہ 17 از 20
سیدنا ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ اس دوران کہ نبیﷺ‎ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک سیدنا حسنؓ آپﷺ‎ کے پاس منبر پر چڑھ گئے تو آپﷺ‎ نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اوراللہ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کر دے گا۔
(کشف الغمہ: صفحہ، 546 مطبوعہ تبریز)
یہاں یہ بھی جان لیں کہ یہ دونوں گروہ کون سے تھے؟ جن کے درمیان سیدنا حسنؓ نے صلح کرائی اور جنہیں مسلمان کہا گیا ہے؟ ایک گروہ سیدنا علیؓ کا اور دوسرا سیدنا امیرِ معاویہؓ کا تھا سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کر کے دونوں میں صلح کرا دی۔
مزید کئی روایت میں ذکر ہے کہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کی تھی ملاحظہ ہو! 
(مروج الذہب: جلد، 3 صفحہ، 7 بیروت، احتجاج طبرسی: جلد، 2 صفحہ، 9 نجف اشرف جدید، مقتل ابی مخف: جلد، 3 صفحہ، 26 مکتبہ حیدریہ، نجف اشرف، کشف الغمہ: جلد، 1 صفحہ، 571، تبریز، الاخبار الطوال: صفحہ، 220 تذکرہ زیادبیروت)
سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں:
سیدنا علیؓ جنگِ جمل میں شریک کسی کو بھی مشرک اور منافق نہ سمجھتے تھے۔
 (قرب الاسناد: جلد، 1 صفحہ، 45)
لیکن آج کے شیعانِ علی کہلانے والے سیدنا علیؓ کے موقف کے برخلاف جنگِ جمل میں شریک ہونے والوں پر فتویٰ لگا کر بغضِ علی کا ثبوت کیوں دیتے ہیں؟
باغِ فدک:
شیعہ حضرات کی طرف سے اس مسئلہ کو خوب اچھالا جاتا ہے اور جان بوجھ کرغلط رنگ دیتے ہوئے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو مطعون کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سیدہ فاطمہؓ کو ان کا حق نہ دیا، جس کی وجہ سے وہ ناراض ہوگئیں اور انہیں صدمہ ہوا لیکن حقیقت کیا ہے؟ وہ سطور ذیل ہیں ملاحظہ ہو!
سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ:
حضورﷺ نے فرمایا: علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء درہم و دینار کی وارثت نہیں چھوڑتے بلکہ وہ اپنی احادیث اور علم و حکمت کی باتیں چھوڑتے ہیں، پس جس نے ان احادیث سے کچھ لے لیا اس نے کافی نصیب پالیا، پس تم اس پر نظر رکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو یہ علم ہم اہل بیتؓ کا ہے کیونکہ جو علم پیغمبر نے امت کے لیے چھوڑا ہے اس کے وارث اہل بیتِ رسول ہیں جو عادل ہیں اور جو غالین کی تحریف اور اہلِ باطل کے تغیرات اور جاہلوں کی تاویلوں کو رد کرتے ہیں۔ 
(کتاب الشافی ترجمہ اصول کافی: جلد، 1صفحہ، 35 اصول کافی مع شرح صافی: جلد، 1 صفحہ، 83)
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
عالم کی فضیلت بے علم عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں رات کی چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر، کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور بے شک انبیاء اپنی وراثت درہم و دینار نہیں بلکہ علم چھوڑتے ہیں۔ سو جو شخص اس علم میں سے حصہ لیتا ہے وہ بہت بڑی چیز لیتا ہے۔
( اصول کافی مع شرح صافی: جلد، 1 صفحہ، 87)
سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ رسول اللہﷺ فدک سے اپنی خوراک لے لیا کرتے تھے اور باقی ماندہ تقسیم فرما دیا کرتے تھے اور فی سبیل اللہ سواریاں بھی لے کر دیا کرتے تھے میں اللہ کی قسم کھا کر آپؓ سے اقرار کرتا ہوں کہ میں فدک کی آمدنی اسی طرح صرف کروں گا جس طرح حضورﷺ کیا کرتے تھے تو سیدہ فاطمہؓ اس پر راضی ہوگئیں۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 80 لابنِ ابی حدید، شرح نہج البلاغہ: جلد، 5 صفحہ، 107 لابنِ میشم)
ثابت ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر راضی تھیں۔ لیکن ان کی محبت کا دم بھرنے والے نجانے آج بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کیوں ناراض ہیں؟ معلوم ہوتا ہے ان کا سیدہ فاطمہؓ سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ معاملہ "مدعی سست گواہ چست" والا ہے۔
ابوعقیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے دریافت کیا کہ میری جان آپؒ پر قربان، کیا سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے تمہارے حقوق کے بارے میں کچھ ظلم کیا یا تمہارے حق دبائے؟ فرمایا نہیں، اس اللہ کی قسم! جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تا کہ تمام جہانوں کے لیے وہ نذیر بن جائے، ہمارے حقوق میں سے ایک رائی کے دانہ برابر بھی انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، میں نے عرض کیا آپؒ پر قربان جاؤں، کیا میں ان سے محبت رکھوں؟ فرمایا، ہاں! تو برباد ہو جائے انہیں دونوں جہانوں میں دوست رکھ اور اگر اس وجہ سے تجھے کوئی نقصان ہو تو میرے ذمے ہے۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 82 لابنِ ابی حدید)
محمد بن اسحاق نے سیدنا ابو جعفر محمد بن علیؓ سے پوچھا کہ جب سیدنا علیؓ عراق کے والی ہوئے تو اس وقت لوگوں کے تمام امور ان کے زیر تصرف تھے اس وقت انہوں نے ذوی القربی کے حصہ کا کیا بنایا؟ فرمایا" ان کے بارے میں سیدنا علیؓ نے وہی طریقہ اپنایا جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کا تھا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 86 لابنِ ابی حدید)
جب معاملہ خلافت سیدنا علیؓ کے ہاتھ میں آیا تو آپؓ سے فدک کے لٹائے جانے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! مجھے اس چیز کے لوٹانے سے شرم آتی ہے کس کو سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں لوٹایا اور سیدنا عمرؓ نے بھی ان کی پیروی کی۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 94 لابنِ ابی حدید)
سوچیئے! اگر سیدنا صدیقِ اکبر کا طریقہ کار غلط تھا تو سیدنا علیؓ نے اسے کیوں اپنایا اور اگر انہوں نے سیدہ فاطمہؓ کا حق نہیں دیا تھا تو سیدنا علیؓ نے وہ حق اپنے بیٹوں کو کیوں نہ دیا؟۔
سیدنا ابوبکرؓ پر تنقید کرنے والے یہاں کیوں خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں؟ یا وہ مان لیں کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا طریقہ کار برحق تھا۔
سیدنا زید بن علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر باغِ فدک کا یہی معاملہ میرے سپرد کر دیا جائے اور مجھے فیصلہ کرنے کو کہا جائے تو میں وہی فیصلہ کروں گا جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کیا تھا۔ 
(شرح نہج البلاغہ: جلد، 4 صفحہ، 82 لابن ابی حدید)
ملاحظہ فرمائیں! جب اہلِ بیتؓ کا نام لے کر مخالفین نے مسئلہ باغِ فدک کے متعلق سیدنا صدیق اکبرؓ کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے جبکہ اہل بیتؓ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا ابوبکر کے طریقہ کار کو سلام محبت پیش کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکار کرنے والوں کوہدایت عطا فرمائے۔ آمین
متعہ:
صفحہ 17 از 20